فوٹو سیشن کے لیے زحل کی جانب مسکرائیں

آج جمعہ کو تمام دنیا سے کہا گیا ہے کہ آسمان پر سیارے زحل کی جانب مسکرا کر دیکھیں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کا ایک خلائی جہاز ’کاسینی‘ خلا سے زمین کی تصویر لے گا اور اس منصوبے کی ٹیم چاہتی ہے کہ دنیا پر بسنے والے تمام لوگ زحل کی جانب ہاتھ لہراتے ہوئے مسکرا کی دیکھیں۔
یہ خلائی جہاز سیارہ زحل اور اس کی مدار کی تصاویر لیتے ہوئے نوے کروڑ میل کے فاصلے سے زمین کی بھی تصویر لے گا۔
طویل فاصلے سے حاصل کی جانے والی تصویر میں ہمارے مکانات فقط ایک پکسل کے سائز کے نظر آئیں گے۔ تاہم منصوبے کی سربراہ سائنسدان کیریلون پارکو چاہتی ہیں کہ اس ’ہلکے نیلے نقطے‘ والی تصویر میں بھی ایک جشن مناتی زندگی نظر آئے۔
’ہاتھ لہرانے کا وقت‘ اس وقت شروع ہو گا جب خلائی جہاز کاسینی پر نصب کمیرہ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق نو بج کر ستائیس منٹ پر زمین کی تصاویر لینا شروع کرے گا اور یہ سلسلہ پندرہ منٹ تک جاری رہے گا۔
خلائی جہاز ’کاسینی‘سے لی جانے والی زمین کی تصاویر قریب اور فاصلے دونوں زاویوں سے لی جائیں گی۔ تصاویر لینے کے اوقات میں شمالی امریکہ اور بحر اوقیانوس کے بعض علاقوں میں روشنی ہو گی۔
کیرویلن پورکو کہتی ہیں کہ اس موقع پر سب سے واضح فرق یہ ہے کہ لوگوں کو پہلے سے معلوم ہو سکے گا کہ ان کی تصاویر نظامِ شمسی کے باہر سے بھی لی جا سکیں گی۔
انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’لوگ اس میں شامل ہو کر اس سے محظوظ ہو سکتے ہیں اور یہ سیاروں کے درمیان موجود کائنات کا تصویری سیشن ہو گا‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں ’لوگ اس حقیقت سے محظوظ ہو سکتے ہیں کہ ایک ارب میل کے فاصلے پر ایک روبوٹ ہے جو اُن کی تصویر لے رہا ہے۔ کیا یہ زبردست نہیں ہے؟‘
زمین کو دیکھنے سے پہلے ’کاسینی‘ نے نظام شمسی میں موجود سیارے زحل کا معائنہ کیا اور اُس کی تصاویر لیں۔
سنہ 2006 میں کاسینی نے نظام شمسی میں موجود سیاروں کی تصویر لی جو اب تک سیٹلائیٹ سے لی جانے والی تصویروں سے زیادہ مشہور ہے۔
ڈاکٹر پورکو کو یقین ہے کہ ہائی ریزولیوشن کیمرے کی مدد سے زمین کی لی جانے والی تصویر سنہ 2006 کی تصویر سے بہتر ہو گی۔
ناسا کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2017 تک زحل کے تحقیقاتی مشن اور ’کاسینی‘ کو ختم کر دے گا۔ تاہم حکومتی ایجنسیوں کی جانب سے فنڈ میں کمی کے باعث اسے پہلے بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔
’کاسینی‘گزشتہ 9 سالوں سے سیارہ زحل پر ہے۔ لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی سیکھنے کے لیے بہت کچھ باقی ہے اور سائنسدان ’کاسینی‘ کے باقی ماندہ وقت میں مزید تدابیر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جو گزشتہ برسوں میں کیے جانے والے مشنز کے مقابلوں میں خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ان مشنز میں زحل اور اُس کے گرد مدار کے درمیان غوطہ زنی بھی شامل ہے۔







