چاند پر پانی کی موجودگی کے شواہد پر شبہ

،تصویر کا ذریعہ
ایک نئی تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے چاند کے بارے میں اس خیال پر شک ظاہر کیا ہے کہ کبھی چاند پر بہت زیادہ پانی تھا۔
امریکی سائنسدانوں نے ایپاٹائٹ نامی دھات کا مطالعہ کیا ہے جو کہ چاند پر پائے جانے والی مختلف قسم کی چٹانوں میں پایا گیا ہے اور جو چاند پر پانی کی موجودگی کے شواہد کے طور پر جانا جاتا تھا۔
ایپاٹائٹ یونانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب دھوکہ یا فریب ہے اور اس سے سائنسدانوں کو یہ دھوکا ہوا ہوگا کہ چاند پر زیادہ پانی تھا یا وہاں زیادہ نمی تھی۔
اس نئي تحقیق کے رہنما مصنف جیریمی بوائس نے کہا: ’ہمارا خیال تھا کہ ہم نے بہت اہم دریافت کی ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ قابلِ اعتماد نہیں ہے۔‘
گذشتہ دہائی کے دوران چاند پر موجود چٹانوں میں آتش فشاں کے شیشوں اور ایپاٹائٹ دھات کی مطالعے سے یہ پتہ چلا تھا کہ ان میں نمی زیادہ ہے جس سے اس خیال کو تقویت پہنچی تھی کہ چاند پر پانی رہا ہوگا۔
لاس اینجلس میں کیلیفورنیا یونیورسٹی میں ناسا ارلی کریئر فیلو ڈاکٹر بوائس نے اپنا یہ تحقیقی مقالہ ووڈ لینڈس میں ’لونر اینڈ پلینیری سائنس‘ کانفرنس میں پڑھا تھا اور حال ہی سائنس کی ایک جریدے میں یہ شائع ہوا ہے۔
کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ریسرچروں نے بوائس کے علاوہ فرانسس میک کبن، سٹیو ٹوملنسن، جمیز گرین وڈ اور ایلن ٹریمین شامل ہیں۔ انھوں نے ایپاٹائٹ دھات بننے کے عمل کی جانچ کی جس میں طیران پذیر یا بھاپ بن کر اڑ جانے والے عناصر مثلا ہائڈروجن، کلورورین اور فلورین شامل ہیں۔
ڈاکٹر بوائس نے کہا: ’تناسب کے اعتبار سے ہم اسے آسان سمجھتے تھے کہ ایپاٹائٹ میں جتنا زیادہ ہائڈروجن ہوگا اتنا ہی ہائڈروجن میگما (پگھلے ہوئے لاوے) میں ہوگا۔ لیکن پھر ہم نے دریافت کیا کہ یہاں تو مقابلہ زیادہ تر ہائڈروجن اور فلورین کے درمیان ہے اور ایپاٹائٹ کو فلورین زیادہ پسند ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ
قمری اپیاٹائٹ کی ساخت کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر بوائس نے کہا کہ ہم نے ایک ڈیٹنگ فارمولے کا استعمال کیا جس میں فلورین کو ایپاٹائٹ کا فطری پارٹنر رکھا اور انھیں ترجیحات کی بنیاد پر ایک ساتھ رکھا۔ ایپاٹائٹ کلورین کی جانب بھی مائل ہے لیکن فلورین کے مقابلے کم۔
انھوں نے مزید کہا: ’اس کے بعد آخری ایپاٹائٹ آتا ہے جس میں ہائڈروجن کے علاوہ کچھ نہیں رہتا ہے اور پھر وہ اچھا بھاپ بن کر اڑتاہے۔‘
’اس لیے تمام ایپاٹائٹ تمام فلورین کو لے لیتا ہے اور اسے پگھلنے سے باز رکھتا ہے۔ پھر پگھلا ہوا مادہ بھول جاتا ہے کہ اس نے تمام فلورین حاصل کر لیا ہے جس کی وجہ سے ایپاٹائٹ میں زیادہ کلورین اور زیادہ ہائڈروجن بچ جاتا ہے اور وہ بھاپ بن کر اڑنے سے رہ جاتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس کی بناوٹ نے غلط اشاریے دیے کہ چاند کی زیریں سطح میں زیادہ پانی رہا ہوگا۔‘







