’چاند پر موجود چینی خلائی گاڑی کو نئی زندگی مل گئی‘

جیڈ ریبٹ

،تصویر کا ذریعہChinese Academy of Sciences

،تصویر کا کیپشنجیڈ ریبٹ نامی یہ تحقیقاتی گاڑی 15 دسمبر کو چاند پر اتری تھی اور جنوری میں اس میں تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ چاند پر بھیجے جانے والی پہلی چینی خلائی گاڑی دوبارہ متحرک ہو گئی ہے اور ریڈیو سگنل وصول کر رہی ہے۔

اس سے قبل چینی خلائی ادارے نے بدھ کو اس گاڑی کو ناکارہ بتاتے ہوئے مشن کو ’مردہ‘ قرار دے دیا تھا۔

’جیڈ ریبٹ‘ نامی اس خلائی گاڑی میں جسے چینی زبان میں یوتو پکارا جاتا ہے، گذشتہ ماہ تکینیکی مسائل پیدا ہو گئے تھے اور اس کے بعد سے کام نہیں کر پا رہی۔

تاہم جمعرات کو چینی خلائی ادارے کے ایک ترجمان پے زاؤیو نے کہا ہے کہ اب ممکنہ طور پر اسے بچایا جا سکتا ہے کیونکہ اسے توانائی فراہم کرنے والے نظام نے بظاہر کام شروع کر دیا ہے۔

اس سے پہلے یہ خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ یہ مشین چاند کی سطح پر رات کے وقت شدید سرد موسم کو برداشت نہیں کر پائے گی۔

جیڈ ریبٹ نامی یہ تحقیقاتی گاڑی 15 دسمبر کو چاند پر اتری تھی۔

چاند گاڑی گذشتہ سال دسمبر میں چاند پر ’چینگ 3‘ نامی مشن کے تحت پہنچی تھی اور چاند پر یہ 1976 کے بعد پہلی ’سافٹ لینڈنگ‘ تھی۔

جنوری میں اس گاڑی میں خرابی سے پہلے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ چاند گاڑی تین ماہ تک کام کرے گی۔

چین دنیا کا تیسرا ملک ہے جس نے چاند پر تحقیقاتی مشن بھیجا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ اور سویت یونین چاند پر مشن روانہ کر چکے ہیں۔