چین آئندہ ماہ خلائی گاڑی چاند پر بھیجے گا

اس خلائی گاڑی کا نام انٹرنیٹ پر ووٹنگ کے ذریعے چنا گیا تھا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی
،تصویر کا کیپشناس خلائی گاڑی کا نام انٹرنیٹ پر ووٹنگ کے ذریعے چنا گیا تھا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی

چینی حکام نے بتایا ہے کہ وہ آئندہ ماہ چین کی پہلی خلائی گاڑی چاند پر بھیجیں گے۔

اس خلائی گاڑی کا نام ’یوتو‘ رکھا گیا ہے جو کہ چینی علاقائی داستانوں میں چاند پر رہنے والے ایک خرگوش کا نام ہے۔

گذشتہ چند سالوں میں چین نے اپنے خلائی پروگرام میں کافی ترقی کی ہے۔ اس سال جون میں تین چینی خلابازوں نے پندرہ روز زمین کے گرد مدار میں گزارے اور اپنے خلائی جہاز کو ایک تجرباتی خلائی لبارٹری سے منسلک کر دیا۔

سنہ 2007 میں چین نے بغیر پائلٹ کے ایک خلائی جہاز کو چاند کے مدار میں بھیجا۔ یہ خلائی جہاز 16 ماہ تک چاند کے گرد گھومتا رہا اور پھر اسے چاند کی سطح پر گرا دیا گیا۔

چین کی اس حالیہ کوشش کے لیے کوئی مخصوص تاریخ تو نہیں دی گئی تاہم حکام نے منگل کے روز کہا کہ دسمبر کے آغاز میں یہ خلائی گاڑی چاند پر بھاجی جائے گی۔

اگر یہ منصوبہ پلان کے مطابق کام کرتا رہا تو دسمبر کے وسط تک یہ خلائی گاڑی چاند پر اتر جائے گی۔

خلائی گاڑی کو ایک لینڈنگ گاڑی کی مدد سے چاند کی سطح پر اتارا جائے گا اور اس کا مقصد تین ماہ تک ’بے آف رینبوز‘ نامی خطے کا جائزہ لینا ہوگا۔

اس خلائی گاڑی کا نام انٹرنیٹ پر ووٹنگ کے ذریعے چنا گیا تھا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔

سنہ 2003 میں چین نے پہلی بار ایک خلاباز کو خلا میں بھیجا اور اس طرح امریکہ اور روس کے بعد وہ تیسرا ملک بن گیا جس نے بغیر کسی اور ملک کی شراکت کے انسانوں کو کامیابی کے ساتھ خلائی سفر پر بھیجا۔

چین میں خلائی پروگرام فوج کی مدد سے چلایا جاتا ہے اور ملک میں قومی فخر کی ایک وجہ ہے۔