چین نے اپنی پہلی خلائی گاڑی کو چاند پر روانہ کر دیا

چین کے خلائی ادارے نے اپنی خلائی گاڑی کو چاند پر روانہ کر دیا ہے۔
اس خلائی گاڑی کا نام ’یوتو‘ رکھا گیا ہے جو کہ چینی علاقائی داستانوں میں چاند پر رہنے والے ایک خرگوش کا نام ہے۔
اس خلائی گاڑی کا نام انٹرنیٹ پر ووٹنگ کے ذریعے چنا گیا تھا جس میں 34 لاکھ لوگوں نے حصہ لیا۔
اتوار کو گرینج کے معیاری وقت کے مطابق 17.30 پر لانگ مارچ تھری بی راکٹ کے ذریعے ’یوتو‘ اور لینڈنگ ماڈیول کو روانہ کیا گیا اور یہ مناظر سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیے گئے۔
چھ پہیوں والی خلائی گاڑی کو ایک لینڈنگ ماڈیول کی مدد سے چاند کی سطح پر اتارا جائے گا اور اس کا مقصد تین ماہ تک ’بے آف رینبوز‘ نامی خطے کا جائزہ لینا ہوگا۔
یوتو چاند کی سطح پر اترنے والی یہ تیسری خلائی گاڑی ہو گئی لیکن ماضی کے برعکس اس میں زیادہ جدید آلات نصب ہیں۔
ان آلات میں چاند کی سطح کے نیچے دیکھنے والا ریڈار بھی نصب ہے جس کی مدد سے چاند کی مٹی اور پرت کی پیمائش کی جا سکے گی۔
خلائی گاڑی کو تیاری کرنے والے ادارے شنگھائی ایروسپیس سسٹمز انجینیئرنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق خلائی گاڑی کا وزن 120 کلوگرام ہے اور یہ 30 ڈگری تک چڑھائی 200 میٹر فی گھنٹہ تک طے کر سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی اپالو خلا باز ایگوین سرنن اور الڈرین نے ایک مضون میں لکھا ہے کہ چینی خلائی گاڑی کا سائز ضرورت سے کافی بڑا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو چاند پر انسان کو اتارنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حال ہی میں ایک امریکی سائنسدان نے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر امریکی جریدے ایرو سپس امریکہ کو بتایا کہ’اگرچہ خلائی گاڑی پر سطح کے نیچے دیکھنے کی صلاحیت کا ریڈار نصب ہے لیکن ان میں سے کسی بھی سائنسی آلے سے توقع نہیں ہے کہ وہ کوئی نئی چیز دریافت کر سکے۔‘
گذشتہ چند سالوں میں چین نے اپنے خلائی پروگرام میں کافی ترقی کی ہے۔ اس سال جون میں تین چینی خلابازوں نے پندرہ روز زمین کے گرد مدار میں گزارے اور اپنے خلائی جہاز کو ایک تجرباتی خلائی لیبارٹری سے منسلک کر دیا۔
سنہ 2007 میں چین نے بغیر پائلٹ کے ایک خلائی جہاز کو چاند کے مدار میں بھیجا۔یہ خلائی جہاز 16 ماہ تک چاند کے گرد گھومتا رہا اور پھر اسے چاند کی سطح پر گرا دیا گیا۔
سنہ 2003 میں چین نے پہلی بار ایک خلاباز کو خلا میں بھیجا اور اس طرح امریکہ اور روس کے بعد وہ تیسرا ملک بن گیا جس نے بغیر کسی اور ملک کی شراکت کے انسانوں کو کامیابی کے ساتھ خلائی سفر پر بھیجا۔
چین میں خلائی پروگرام فوج کی مدد سے چلایا جاتا ہے اور ملک میں قومی فخر کی ایک وجہ ہے۔







