ایران: امدادی مشن کے لیے ڈرون کے تجربات

تہران میں قائم آر ٹی ایس لیب نے اس ڈرون کے تجربات بحیرۂ کیسپئن کے ساحلوں پر کیے
،تصویر کا کیپشنتہران میں قائم آر ٹی ایس لیب نے اس ڈرون کے تجربات بحیرۂ کیسپئن کے ساحلوں پر کیے
    • مصنف, لیو کیلیون
    • عہدہ, ٹیکنالوجی رپورٹر

ایرانی انجینئروں نے ایک ڈرون طیارے کی تربیتی پرواز کی ہے جو سمندر میں پھنسے ایسے افراد کو بچانے کے لیے استعمال کیا جائے گا جنہیں ڈوبنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

’پارس روبوٹ‘ کے آٹھ پر ہیں اور یہ زندگی بچانے والی تین ٹیوب لے جا سکتا ہے جسے یہ ڈوبنے والے شخص کے بالکل قریب گرانے کی اہلیت رکھتا ہے۔

بحیرۂ کیسپئن کے ساحل پر کیےگئے تجربات میں انجینئروں کا دعویٰ کیا ہے کہ یہ ڈرون زندگی بچانے والے گارڈز کی نسبت بہت جلدی پہنچے تھے۔

تاہم انجینئرز کا کہنا ہے کہ حقیقی تجربات کے لیے مزید فنڈز کی ضروت ہو گی۔

ابتدائی سطح کے تجربات اگست میں کیےگئے تھے مگر ان کی تفصیلات اب افشا کی گئی ہیں۔

ان تجربات میں انسانی لائف گارڈز کے مقابلے میں یہ ڈرون سمندر میں ایک شخص کے پاس جلد پہنچ گیا جو اپنی زندگی بچانے کی کشمکش میں مبتلا تھا۔

تہران میں قائم آر ٹی ایس لیب کے شریک بانی امین ریگی نے بتایا کہ ’ہم نے چار دنوں میں تیرہ تجربات کیے ہیں جن میں سے بعض دن کے وقت اور بعض رات کے وقت۔‘

اس ڈرون کے بنانے والوں میں سے ایک امین ریگی کہتے ہیں کہ ایک دن کا یہ طیارہ حقیقت میں انسانی جانیں بچانے کے کام آئے گا
،تصویر کا کیپشناس ڈرون کے بنانے والوں میں سے ایک امین ریگی کہتے ہیں کہ ایک دن کا یہ طیارہ حقیقت میں انسانی جانیں بچانے کے کام آئے گا

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں ابتدا میں لائف ٹیوب کو پھینکنے میں مشکلات پیش آئیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ڈرون چلانے والے بہتر ہوتےگئے اور پھر بالکل درست انداز میں کام کرنے لگے۔‘

انجینئروں کا خیال ہے ک ایک دن یہ ڈرون سمندر میں کام کرنے والے اہلکاروں کی مدد کر سکے گا اور حقیقت میں سمندر میں تیرتے ہوئے پلیٹ فارم سے اڑ کر لوگوں کی زندگیاں بچانے کے قابل ہوگا۔‘

امین ریگی نے بتایا کہ یہ ڈرون چھتیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتا ہے اور دس منٹ تک ہوا میں رہتا ہے جبکہ اپنی سمت کے تعین کے لیے یہ گلوبل پوزیشننگ سیٹلائٹ کی مدد حاصل کرتا ہے۔

ابھی تک اسے ایک انسان کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ امین ریگی کا کہنا ہے ان کی ٹیم اس سارے نظام کے اکثر حصے کو خودکار بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

امین ریگی کا کہنا ہے کہ ہم اس ڈرون میں تصویر کا جائزہ لینے کا نظام ڈالنا چاہتے ہیں۔

آر ٹی ایس ایسے ڈرون طیاروں کو سمندر میں ایک پلیٹ فارم پر رکھ کر کے اڑانے کا منصوبہ رکھتی ہے
،تصویر کا کیپشنآر ٹی ایس ایسے ڈرون طیاروں کو سمندر میں ایک پلیٹ فارم پر رکھ کر کے اڑانے کا منصوبہ رکھتی ہے

اس کے علاوہ انجینئر اسے ہنگامی حالات میں پانی پر اترنے کے قابل بنانا چاہتے ہیں اور انفرا ریڈ کی مدد سے رات کی تاریکی میں شناخت کرنے کے قابل بھی بنانا چاہتے ہیں۔

سکاٹ لینڈ کی ہیریٹ واٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ایواں پیٹیلوٹ نے کہا کہ ’موجودہ تصور گرمیوں کے موسم میں سمندر کے کناروں کا جائزہ لینے کے لیے کار آمد ہو سکتا ہے اگر اسے بنانے والے اس کی پرواز کے دورانیے کو بڑھا سکیں مگر سمندری طوفانوں کے دوران اس کو اڑانا اصل چیلنج ہو گا۔‘

امین ریگی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ طوفانی موسم میں ڈرون کو مستحکم رکھنا واقعی ایک چیلنج ہو گا مگر انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم اس مسئلے کا حل نکالنے پر کام کر ہی ہے اور اس کے ایک بہتر نمونے کا اگلے سال اپریل یا مئی میں تجربہ کرے گی۔