انڈے کی الرجی کا علاج انڈے سے ہی

جن افراد کو انڈے سے الرجی ہے وہ پھر سے شاید اوملیٹ اور انڈے کا حلوہ کھا سکیں کیونکہ امریکی محققین کی ایک ریسرچ کے مطابق انڈوں سے الرجی کو انڈے سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔
جن افراد کو انڈے سے الرجی ہے ان کے پاس انڈے سے بنے کھانوں سے پرہیز کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
لیکن اب پچپن بچوں پر تجربات سے پتہ چلا ہے کہ اگر ان کی خوراک میں انڈے کی تھوڑی مقدار بتدریج شامل کی جائے تو کچھ دنوں بعد وہ انڈا کھانے لگیں گئے اور انہیں اس سے الرجی نہیں ہوگی۔
لیکن ابھی یہ طریقۂ علاج تجربات کے ابتدائي مراحل میں ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ابھی لوگ اپنےگھروں میں اس پر عمل نہ کریں۔
تجربے کے طور پر والدین کو انڈے کا پاؤڈر دیا گيا تھا تاکہ اسے وہ بچوں کے کھانے میں ملا دیں اور ایک انڈے کے تقریباً ایک تہائي حصے کا اس میں ہر روز اضافہ کرتے رہیں۔
اس طریقہ کار کی تفصیلات سائنس سے متعلق برطانوی جریدے’جرنل آف میڈیسن‘ میں شائع کی گئی ہیں۔
تحقیق کے مطابق بائیس مہینے کی تھیراپی کے بعد پچھتر فیصد بچے دو انڈے کھانے لگے اور انہیں الرجی نہیں ہوئی۔
پھر ایک مہینہ بغیر انڈا کھلائے انہیں دوبارہ انڈا کھلایا گيا تو اس میں سے تقریباً اٹھائیس فیصد بچے بغیر کسی مسئلے کے انڈا کھا سکتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ریسرچ میں شامل یونیورسٹی آف کیرولائنا کے ایک پرفیسر ویسلی بروک نے کہا’اس مطالعے سے ہمیں امید ہوئی ہے کہ ہم کامیابی کے قریب ہیں۔ اس میں سے تقریباً ایک تہائی بچے مستقل طور پر بدل گئے جن میں انڈے سے الرجی باقی نہیں رہی۔‘
لیکن اس میں سے پندرہ فیصد بچےالرجی ختم نہ ہونے کے سبب اپنا علاج ختم نہیں کر سکے۔
کہا جاتا ہے کہ انڈے کی الرجی ایک عام بات ہے اور اس سے تقریباً ڈھائی فیصد بچے متاثر ہوتے ہیں اور اگر یہ تجربہ پوری طرح کامیاب رہا تو ان افراد کو بہت فائدہ ہو گا جنہیں انڈے سے الرجی ہے۔
برطانیہ میں الرجی کے حوالے سے کام کرنے والے خیراتی ادارہ سے منسلک لنڈسے میک مینس کا کہنا تھا’ کھانے کی الرجی کے حوالے سے امینیوتھیراپی میں یہ بہت ہی خوش آئند پیش رفت ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اسی طریقہ کار کے تحت مونگ پھلی کی الرجی کے سلسلے میں تجربات کیےگئے تھے جو بہت کامیاب رہے تھے۔
جس غذا سے الرجی ہو اسے مرحلہ وار تھوڑا تھوڑا کھلا کر اس کی الرجی دور کرنے میں مونگ پھلی کا تجربہ بھی کامیاب رہا تھا۔







