کینسر کی علامات چھپانے سے ہلاکتیں زیادہ

اگر مریضوں میں کینسر کی اپنے ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہوجائے تو اس کے کامیاب علاج کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے: پروفیسر جانسن

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناگر مریضوں میں کینسر کی اپنے ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہوجائے تو اس کے کامیاب علاج کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے: پروفیسر جانسن

برطانیہ میں ایک تحقیق کے مطابق ہزاروں افراد کینسر کی ابتدائی علامات ڈاکٹر کے سامنے خوف کی وجہ سے ظاہر نہیں کر پاتے اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔

برطانیہ میں کینسر کی تحقیق کے ادارے کے مطابق دو ہزار مریضوں میں سے چالیس فیصد مریضوں کی کینسر کی علامات جاننے میں تاخیر اس لیے ہوتی ہے کیونکہ مریض ڈاکٹر کے ردعمل کے خوف کی وجہ سے تمام تفصیلات صحیح طور پر ظاہر نہیں کرتے۔

کینسر کے علاج کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تشحیص جلد از جلد کی جائے۔ کینسر ریسرچ برطانیہ کے پروفیسر پیٹر جانسن کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کینسر کی ابتدائی علامات سے آگاہی کے لیے مزید کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

تحقیق میں لوگوں سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق بتایا گیا ہے کہ ایک چوتھائی افراد اس بارے میں اپنے ذاتی معالج کے پاس جانے کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں جبکہ کئی ایسے تھے جنہیں یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ کینسر کی ابتدائی علامات کیا ہوتی ہیں۔

پروفیسر پیٹر جانسن کا کہنا ہے ’اگر مریضوں میں کینسر کی اپنے ابتدائی مرحلے میں اس وقت تشخیص ہوجائے جب یہ جسم کے دوسرے حصوں تک نہ پھیلا ہو تو اس کے کامیاب علاج کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ ضروری ہے کہ لوگوں کو ایسی علامات سے آگاہی ہو جو کینسر کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔‘