موسیقی کی کمپنیوں کی گوگل پر تنقید

،تصویر کا ذریعہGetty
دنیا بھر کے مختلف ریکارڈ لیبلز کی نمائندگی کرنے والی ایک تنظیم آئی ایف پی آئی نے کہا ہے کہ گوگل کمپنی غیر قانونی فائل شیئرنگ کو روکنے کے معاملے میں اپنے وعدے پورے نہیں کر سکی ہے۔
تنظیم نے کہا کہ ایک سال پہلے سرچ انجن گوگل نے جملہ حقوق کی خلاف ورزی کے سلسلے میں جو ضمانتیں دیں تھیں وہ آج تک پوری نہیں کی گئیں۔
انہوں نے مانا کہ کمپنی نے اس سمت میں چند اقدام کیے ہیں تاہم انہوں نے الزام بھی لگایا کہ گوگل ان خلاف ورزیوں سے منافع کما رہی ہے۔
جواب میں گوگل نے ان دعوؤں کو ذرائع ابلاغ کی ایک شعبدہ بازی قرار دیتے ہوئے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
آئی ایف پی آئی (انٹرنیشنل فیڈریشن آف فونوگرافک انڈسٹری) کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گوگل ایسی ویب سائٹوں اور ایپلیکیشنز سے منافع کماتا ہے جو کہ جملہ حقوق کی خلاف ورزیاں کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن ہونے کی بنا پر گوگل پر کاپی رائٹ شدہ موسیقی کے تحفظ کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
رپورٹ نے کہا کہ اگرچہ اس سلسلے میں کچھ کام کیا جا چکا ہے تاہم اگر گوگل ان خلاف ورزیوں کا آلہ نہیں بننا چاہتا تو اسے مزید کام کرنا ہوگا۔
ریکارڈ لیبلز کی ترجمانی کرتے ہوئے آئی ایف پی آئی نے گوگل سے مطالبہ کیا کہ وہ مزید اقدامات کرے جن میں اس معاملے کی لیے پیسے خرچنا اور سرچ نتائج کی ایسی ترتیب جو لوگوں کو موسیقی کے قانونی ذرائع کو اہمیت دے، شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ستمبر دو ہزار گیارہ میں گوگل کے سینیئر نائب صدر اور قانونی مشیر کنٹ واکر نے جملہ حقوق کی حفاظت کے سلسلے میں کمپنی کے عزم کے بارے میں بلاگ لکھا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اہم اور قیمتی مواد کو منظور شدہ شکل میں لوگوں تک پہنچانا آن لائن جملہ حقوق کی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں جنگ کا ایک اہم حصہ ہے۔
بی بی سی کو دیے گیے ایک بیان میں گوگل نے جملہ حقوق سے متعلق اپنی وکیل کیتھرن اویاما کی نومبر میں کانگریس کے سامنے دی گئی گواہی کی طرف بھی اشارہ کیا۔ اومایا ایک متنازعہ قانون کے سلسلے میں ایک اجلاس میں شرکت کر رہیں تھیں۔
اس قانون کے ذریعے امریکی حکومت کو یہ حق ہو گا کہ وہ عدالت سے ایسی ویب سائٹس بند کرانے کا حکم جاری کروا سکے جو جملہ حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ ’سٹاپ آن لائن پائریسی ایکٹ‘ نامی اس بل کو ہالی وڈ اور موسیقی کی صنعت کی حمایت حاصل ہے مگر گوگل، ٹوئٹر اور ای بے کے بانیوں نے اس بل پر تنقید کی ہے۔
کمیٹی کو بیان دیتے ہوئے اومایا نے جملہ حقوق کی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں گوگل کے تفصیلی اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ مزید قانون سازی غیر ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان خلاف ورزیوں کو روکنے کا واحد دور رس حل یہ ہے کہ صارفین کو بہتر قانونی متبادل فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ گوگل نے ریکارڈ لیبلز کے لیے ان کی یو ٹیوب ویڈیوز کے گرد اشتہارات بیچ کر آمدنی پیدا کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گوگل نے تقریباً ڈیڑھ لاکھ ایسے اکاؤنٹس بند کر دیے ہیں جن کے ذریعے لوگ جعلی اشیاء بیچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے شکایات کے سلسلے میں گوگل کے فوری اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پچھہتر فیصد شکایات میں جملہ حقوق کے مالک کی نشاندہی کے چھ گھنٹے کے اندر خلاف ورزی کرنے والے لنک کو ہٹا دیا جاتا ہے۔
.







