’جزیرے ڈوب نہیں رہے بڑھ رہے ہیں‘

ایک تازہ تحقیق کے مطابق جنوبی بحرالکاہل میں سطحِ سمندر سے کم بلندی پر واقع ان جزائر کے رقبے میں اضافہ ہو رہا ہے جن کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ وہ سمندر کی سطح میں اضافے کے نتیجے میں ڈوب جائیں گے۔

سائنسی جریدے گلوبل اینڈ پلےنیٹری چینج میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ خطے کے ستائیس جزیروں میں سے صرف چار ایسے ہیں جن کی زمین سمندر نگل رہا ہے۔

اس تحقیق میں جنوبی بحرالکاہل کے جزیروں کے حجم اور خدوخال میں تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

کئی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس صدی کے اختتام تک دنیا بھر میں سطح سمندر میں تقریباً ڈیڑھ میٹر تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ جنوبی بحرالکاہل کے کئی جزیروں کے سیاسی رہنماؤں کا بھی یہی استدلال ہے کہ سمندر کی اونچی ہوتی لہریں ان کی آبادیوں کو نگل جائیں گی اور انہیں بلند علاقوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور کردیں گی۔

ان جزیروں کو اٹھان بھرتی سمندر کی لہروں سے زیادہ خطرہ اس لیے ہے کہ یہ رقبے کے لحاظ سے چھوٹے ہونے کے ساتھ ساتھ ہموار ہیں اور ان کے ساحل کشادہ ہیں۔ مثلاً جزیرہ ٹوالو کا بلند ترین مقام بھی سمندر سے صرف ساڑھے چار میٹر اونچا ہے۔

لیکن ان جزیروں پر واقع ریاستوں کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصویریں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ڈوب نہیں رہے بلکہ پھیل رہے ہیں۔ اس کی وجہ سمندر کی لہروں کے ساتھ ساحل تک آنے والی ریت اور مونگے اور چونے کے ذرات ہیں جو مرجانی چٹانوں کے حجم میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ قدرت کا اپنا ایک نظام ہے جس سے یہ جزیرے اگلی ایک صدی تک بلند ہوتی سطح سمندر کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

اس تحقیق میں خطے کے تمام جزیروں کا مطالعہ نہیں کیا گیا بلکہ اس میں صرف ستائیس جزیرے شامل کیے گیے جن میں سے زیادہ تر میں یہ دیکھنے میں آیا کہ وہ مونگے اور مرجان سے بننے والی چٹانیں انہیں سمندری کٹاؤ سے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم سوال یہ ہے کہ اگر سمندری پانی میں بڑھتی ہوئی تیزابیت کی وجہ سے یہ چٹانیں ریزہ ریزہ ہونے لگیں تو کیا قدرتی تحفظ کا یہ نظام ختم ہوجائے گا۔

تازہ تحقیق بتاتی ہے کہ سطح سمندر میں اضافے سے لاحق خطروں کے بارے میں پیش گوئی کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ بحرالکاہل کے تمام جزیرے تو نہیں البتہ چند ایک ضرور غرقاب ہوجائیں گے۔ لیکن یہ کہنا واقعی مشکل ہے، کب اور کون کون سے جزیرے سمندر کی نذر ہوں گے۔