سولہ سو سال پرانا انجیل کا نسخہ

کوڈ سائنٹکس
،تصویر کا کیپشناس نسخے پر جرمنی، برطانیہ، روس اور مصر میں تحقیق ہو چکی ہے

عیسائیوں کی الہامی کتاب انجیل کے سولہ سو سال قدیم نسخے کے آٹھ سو صفحات انٹر نیٹ پر مہیا کیئے گئے ہیں۔

اس ویب سائٹ کو کھولنےوالے ایک ہزار چھ سو سال پرانے انجیل کے اس نسخے کے عکس دیکھ سکتے ہیں۔

یونانی زبان میں لکھے گئےاس چوتھی صدی عیسویں کے انجیل کے نسخے کے صفحات پر برطانیہ، جرمنی، مصر اور روس میں کام ہو چکا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ابتدائی دور میں عیسائیت کی ترقی کے بارے میں جاننے کا یہ ایک بہتریں ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

برٹش لائبریری میں مغربی مسودات کے ماہر ڈاکٹر سکاٹ مکینڈرک کا کہنا ہے کہ اس نسخے کے دستیاب ہونے سے تحقیق کی بہت سی نئی راہ کھل گئی ہیں۔

صحرا کی خشک ہوا کی وجہ سے بھی یہ محفوظ رہے
،تصویر کا کیپشنصحرا کی خشک ہوا کی وجہ سے بھی یہ محفوظ رہے

انہوں نے کہا کہ’کوڈ سائناٹکس‘ دنیا کا سب سے بڑا تحریری خزانہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ایک ہزار چھ سو سال پرانے انجیل کے نسخے سے عیسائیت کے ابتدائی دنوں کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہو سکتا ہے اور یہ اس بات کا ایک واضح ثبوت ہے کہ کس طرح انجیل نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر اس کی دستیابی سے دنیا بھر کے علماء ان پر تحقیق کر سکتے ہیں جو کہ کچھ برس پہلے تک ممکن نہیں تھا۔

برٹش لائبریری اس موقع پر ایک نمائش کا اہتمام کر رہی ہے جس میں بہت سی تاریخی نوادارت جن کا تعلق اس نسخے سے رکھی جائیں گی۔

پندرہ سو سال کوڈکس سائنٹکس مصر میں ایک خانقا میں محفوظ رہی اور اٹھارہ سو چوالیس میں یہ دریافت ہوئی۔ اس کےبعد انہیں مصر، روس ، برطانیہ اور جرمنی میں تحقیق کے لیے بانٹ دیا گیا۔

خیال ہے کہ یہ مسودہ صحرا کی خشک ہوا اور کیونکہ اس عیسائی خانقا کو جو کہ چاروں طرف سے مسلمان آبادی علاقوں میں گہری ہوئی تھی کسی نے ہاتھ نہیں لگایا اور اس کی دیواریں محفوظ رہیں۔