شمسی مِشن کی آنکھیں بند

یولیسس اب انسان کا بنایا ہوا دمدار ستارہ بن کر رہ جائے گا
،تصویر کا کیپشنیولیسس اب انسان کا بنایا ہوا دمدار ستارہ بن کر رہ جائے گا

سورج کے بارے میں تحقیق کرنے والی خلائی گاڑی یولیسس کا مشن اٹھارہ سال بعد ختم کیا جا رہا ہے۔امریکہ اور یورپ کے اشتراک سے تیار کی جانے والی خلائی گاڑی سے تیس جون کو آخری بار رابطہ کیا جائے گا۔

یولیسس کو اکتوبر انیس سو نوے میں سورج کی طرف روانہ کیا گیا تھا اور یہ توقع سے چار گنا زیادہ وقت کام کر چکی ہے۔

سورج کے قطبین پر ماحول کا جائزہ لینے والی یہ پہلی خلائی گاڑی تھی۔ اس سے حاصل ہونے والی اعداد و شمار کے مطابق جو گزشتہ برس شائع ہوئے تھے سورج سے چلنی والی ہوا یا ذرات کے غبار کی طاقت گزشتہ پچاس سال میں سب سے کم ہے۔

یورپی خلائی ادارے ایسا کے پاؤلو فیری نے بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق یولیسس کو بہت پہلے بند کر دینا چاہیے تھا۔

انجنیئروں کا سن دو ہزار آٹھ میں بھی یہ خیال تھا کہ یولیسس کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا اور اس لیے اس مشن کو ختم کیا جانا چاہیے لیکن اسے ایک سال مزید جاری رکھنے کا بندوبست کر دیا گیا تھا۔ لیکن اب ان کی رائے میں اسے ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

ایسا کے مشن آپریشنز مینیجر نائجل اینگولڈ نےکہا کہ ’وہ ایک انتہائی افسوسناک دن ہوگا جب ہم یولیسس کو آخری بار احکامات جاری کریں گے۔‘