پھلدار درختوں کے معدوم ہونے کا خطرہ

سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ان جنگلی پھلدار درختوں کے صفحۂ ہستی سے مٹ جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جنہیں عام پھلدار درختوں کے آباءواجداد میں شمار کیا جاتا ہے۔.
محققین نے خطرے کا شکار ایسے درختوں کی ایک فہرست بھی شائع کی ہے جو وسطی ایشیا کے جنگلات میں پائے جاتے ہیں۔ اس فہرست میں کرغزستان، قزاقستان، ترکمانستان اور تاجکستان میں موجود درختوں کی چوالیس ایسی اقسام کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کی خیراتی تنظیم فانا اینڈ فلورا انٹرنیشنل کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کو سہنے کی طاقت رکھنے والے اور بیماریوں سے اپنا بچاؤ کرنے والے یہ درخت مستقبل میں انسان کی خوراک کی ضروریات پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن گزشتہ پچاس برس کے دوران ان درختوں پر مشتمل نوے فیصد جنگلات کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق انسانی ترقی اور وسائل کا ضرورت سے زیادہ استعمال وہ بڑے خطرات ہیں جو ان جنگلات کو لاحق ہیں جن میں سیب، آڑو، چیری، خوبانی اور اخروٹ سمیت تین سو دیگر جنگلی پھلوں اور میوہ جات کے درخت موجود ہیں۔
محققین کی ٹیم کی سربراہ انتونیا ایسٹ وڈ کے مطابق وسطی ایشیا کا یہ علاقہ ’عالمی تنوع کی انوکھی مثال ہے‘۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ درختوں کی بہت سی اقسام ایسی ہیں جو صرف یہیں پائی جاتی ہیں۔ انتونیا کے مطابق ’ یہ پہاڑی اور خشک علاقے ہیں اس لیے یہاں موجود اقسام میں سردی اور خشک سالی برداشت کرنے کا مادہ زیادہ ہے‘۔ خیال رہے کہ قزاقستان اور کرغزستان کو سرخ اور سنہرے سیبوں کا گھر سمجھا جاتا ہے۔



