پارکنسنز ٹیسٹ: شوہر کی بیماری سونگھ کر سائنسدانوں کی مدد کرنے والی خاتون

،تصویر کا ذریعہPARKINSON'S UK
- مصنف, الزبتھ کوئگلی
- عہدہ, بی بی سی سکاٹ لینڈ نیوز
سکاٹ لینڈ کی ایک خاتون نے، جنھوں نے اپنے شوہر کو لاحق پارکنسنز کی بیماری کا سراغ سونگھ کر لگایا تھا، سائنسدانوں کو ایسا ٹیسٹ ایجاد کرنے میں مدد کی ہے جس کے ذریعے اس بیماری کی تشخیص ہو سکتی ہے۔
مانچسٹر کے محققین نے ایک ایسا طریقہ ایجاد کیا ہے جس سے اس بیماری کی تشخیص تین منٹ میں کی جا سکتی ہے۔
ان کے اس ٹیسٹ کو باقاعدہ طور پر استعمال کرنے سے پہلے اس پر ابھی مزید تحقیق ہونا باقی ہے۔ لیکن اس ایجاد کی وجہ پرتھ کی ایک سابق نرس جوائے ملنے ہیں۔
72 سالہ جوائے کو اپنے شوہر کی پارکنسنز بیماری کا اس مرض کی تشخیص سے 12 سال پہلے ہی علم ہو گیا تھا کیوں کہ انھوں نے اپنے شوہر کے جسم کی خوشبو میں تبدیلی محسوس کی تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میرے شوہر کے کندھوں اور گردن کے پیچھے سے ایک ناخوشگوار سی بو آئی اور ان کی جلد میں بھی تبدیلی آ چکی تھی۔‘

لیکن اس تبدیلی کی وجہ دراصل پارکنسنز کی بیماری تھی جس کا ان کو اسی وقت معلوم ہوا جب ان میں اس مرض کی تشخیص ہوئی اور وہ برطانیہ میں پارکنسنز سپورٹ گروپ میں شامل ایسے افراد سے ملے جن سے ایسی ہی بو آتی تھی۔
جوائے کے شوہر 2015 میں انتقال کر گئے تھے۔
لیکن مانچسٹر یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے جوائے کی مدد سے جلد کا ایک ٹیسٹ تیار کیا جو ان کے مطابق 95 فیصد تک درست نتائج دیتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان محققین نے جلد پر موجود تیل نما سیبم کا جائزہ لیا جسے کاٹن سویب کی مدد سے مریضوں کی پیٹھ سے حاصل کیا گیا تھا۔
ماس سپیکٹرومیٹری کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے انھوں نے پارکنسنز سے متاثرہ 79 افراد کے نمونوں کا 71 صحت مند افراد کے نمونوں سے تقابلی جائزہ لیا۔
اس تحقیق میں ان کو نمونوں سے 4000 نایاب کمپاؤنڈ ملے جن میں سے 500 ایسے تھے جو پارکنسن سے متاثرہ افراد اور صحت مند افراد میں مختلف تھے۔

اس تحقیق کی سربراہی کرنے والی ڈاکٹر پریڈیٹا باران کہتی ہیں کہ ’پارکنسنز کی تشخیص کے لیے کوئی کیمیائی ٹیسٹ موجود نہیں تھا اور ہزاروں افراد کسی نیورولوجیکل ماہر سے مشورہ کرنے والی لسٹ میں انتظار کر رہے تھے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ایک ایسا ٹیسٹ جسے عام ڈاکٹر بھی استعمال کر سکتا ہے، اہم پیش رفت ہے۔‘
’فی الحال ہم نے اسے ریسرچ لیبارٹری میں تیار کیا ہے اور اب ہم ہسپتال کی لیبارٹری میں کام کر رہے ہیں تاکہ اسے ایسے ماحول میں بھی استعمال کیا جا سکے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ان کو امید ہے کہ اگلے دو سال میں مانچسٹر میں اس ٹیسٹ کو استعمال کرنا شروع کر دیا جائے گا۔
پارکنسنز اعصابی امراض میں سے تیز ترین پھیلنے والی بیماری ہے۔ صرف برطانیہ میں ایک لاکھ 45 ہزار افراد اس سے متاثر ہیں جن میں سے 12000 سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔
اب تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا اور ایسا کوئی حتمی ٹیسٹ بھی موجود نہیں ہے جو اس کی تشخیص میں مدد کر سکے۔ طبی معالجین مریضوں کی علامات دیکھ کر ہی اندازہ لگاتے ہیں کہ آیا ان کو یہ مرض ہے یا نہیں۔
اس کی علامات میں چلنے اور بولنے میں مشکل کے ساتھ ساتھ رعشہ بھی شامل ہے۔
پارکنسنز برطانیہ کے سکاٹ لینڈ کے ڈائریکٹر جیمز جوپلنگ کہتے ہیں کہ ’اس دریافت سے ان لوگوں کی زندگی میں فرق پڑے گا جو اس بیماری کے ساتھ جیتے ہیں۔‘
’لوگوں کو مہینوں اور برسوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے کہ ان میں تشخیص ہو سکے اور پھر ان کا علاج ہو۔ اس لیے یہ دریافت نہایت اہم ہے۔‘
جوائے جانتی ہیں کہ مرض کی بروقت تشخیص کتنی اہم ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم خاندان کے ساتھ زیادہ وقت بتا سکتے تھے۔‘
’ہم زیادہ گھوم سکتے تھے۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ میرے شوہر کو یہ بیماری ہے تو میں ان کے ڈپریشن اور موڈ میں اتار چڑھاؤ کو سمجھ پاتی۔‘
جس رات ان کے شوہر کا انتقال ہوا، اس سے ایک رات پہلے انھوں نے جوائے سے وعدہ لیا کہ وہ اپنی سونگھنے کی حس کی مزید تفتیش کریں گی۔
جوائے کہتی ہیں کہ انھوں نے کہا ’تم نے یہ ضرور کرنا ہے کیوں کہ اس سے ایک بڑا فرق پڑے گا۔‘
ان کو امید ہے کہ ان کی حادثاتی دریافت کے نتیجے میں ایسا ہی ہو گا۔











