کیا ڈپریشن کے بارے میں اب تک کیے جانے والے دعوے بے بنیاد تھے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریچل شریئر
- عہدہ, بی بی سی
ایک تازہ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ ڈپریشن انسان میں ’ہیپی ہارمون‘ یعنی سیروٹونن کی کمی کے سبب نہیں ہوتا ہے۔ اس تحقیق نے ان تمام دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جن سے جوڑ کر ڈیپریشن کو دیکھا اور سمجھا جاتا رہا ہے۔
اب یہ بھی سوال کیے جا رہے ہیں کہ ڈپریشن کے علاج کے طور پر سیروٹونن بڑھانے کی دوا مریضوں کو دینا کیا ٹھیک بھی ہے؟
لیکن اس ریسرچ میں ایسا بالکل نہیں کہا گیا ہے کہ یہ ادویات ڈیپریشن سے مقابلہ کرنے میں مدد نہیں کرتیں۔
تاہم جو سب سے بڑا سوال سامنے آیا ہے وہ یہ کہ ہم ذہنی امراض اور ڈیپریشن کے بارے میں کیا سمجھتے ہیں، انہیں کس نظر سے دیکھتے ہیں اور اس سے لڑنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔
برطانیہ میں رہنے والی سارہ ذہنی امراض سے متاثر ہیں۔ جب انہیں پہلی بار دورہ پڑا تو وہ قریب 20 برس کی تھیں۔
ڈاکٹروں نے ان کو بتایا کہ ان کے علاج کے لیے جو ادویات دی جا رہی تھیں وہ اسی طرح ضروری تھیں جیسے ذیابیطس میں انسولن کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان کو بتایا گیا کہ یہ ادویات ان کے دماغ میں کیمیائی عدم توازن کو سدھاریں گی اور انہیں یہ ادویات تاعمر لینا ہوں گی۔
سارہ کی والدہ بھی ٹائپ ون ذیابیطس کا شکار ہیں، اس لیے انھوں نے ڈاکٹروں کی بات کو بہت سنجیدگی سے لیا۔
سارہ ان ادویات کو استعمال کرتی رہیں۔ حالانکہ ان کا کہنا ہے ان ادویات کا ان پر منفی اثر ہوا اور انہیں طرح طرح کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ ان کو ایسی آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں جو ان سے خود کی جان لینے کو کہتی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سارہ کو دیے گئے اس مشورے کی کوئی طبی بنیاد نہیں تھی کہ ان کی ادویات ذیابیطس کے علاج کی طرح ان کے مرض کے خلاف کام کریں گی۔
انھوں نے کہا ’ایسے میں آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ ان ہی لوگوں نے آپ کو دھوکا دیا جن پر آپ نے یقین کیا۔‘
سارہ کو بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے جس کے بعد انہیں بولنے اور چلنے میں مسائل پیش آنے لگے۔
انہیں بہت زیادہ طاقتور ادویات دی گئی تھیں۔ وہ واحد مریض نہیں جن کے ساتھ ایسا ہوا۔

متعدد ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے سے اس بات کا علم تھا کہ ڈپریشن سیروٹونن کی کم سطح کے باعث نہیں ہوتا ہے، اس لیے اس تحقیق میں کہی جانے والی باتیں کوئی نئی نہیں ہیں۔
حالانکہ اس ریسرچ کے منظر عام پر آنے کے بعد جس قسم کا رد عمل سامنے آیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جنہیں اس بارے میں علم نہیں تھا۔
متعدد لوگوں کا خیال ہے کہ اینٹی ڈپریسینٹ ادوایات ذہن میں کیمیکلز کے عدم توازن کو ٹھیک نہیں کرتیں۔ اور متعدد کا خیال یہ بھی ہے کہ ان ادویات کا ڈیپریشن سے مقابلہ کرنے میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔
ایسی صورت حال میں طبی ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ادھوری معلومات کی بنیاد پر بہت سے مریض ادویات کا استعمال چھوڑ سکتے ہیں۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو انہیں وِدڈرال یعنی دوا چھوڑنے کے اثرات کا سامنا ہوگا۔ یعنی اچانک ادویات چھوڑنے سے انہیں مختلف قسم کی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
برطانیہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ کیئر کا کہنا ہے کہ ان ادویات کا استعمال اچانک نہیں روکنا چاہیے۔ صحیح طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق آہستہ آہستہ ان کی خوراک کو کم کیا جائے۔

ریسرچ میں کیا پتا چلا؟
اس تحقیق میں 17 مختلف سٹڈیز کو شامل کیا گیا اور معلوم ہوا کہ صحت مند اور ڈپریشن سے متاثرہ افراد کے دماغ میں سیروٹونن ہارمون کی سطح الگ الگ نہیں تھی۔
تحقیق میں جس ایک اہم دعوے کو غلط قرار دیا گیا وہ یہ کہ ادویات دماغ میں سیروٹونن کی کمی کو پورا کر کے ڈپریشن کا مقابلہ کرنے میں مد کرتی ہیں۔
لندن کے معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر مائیکل بلوم فیلڈ نے کہا ’ہم لوگ جانتے ہیں کہ سر درد سے لڑنے کے لیے پیراسیٹامول کھائی جاتی ہے۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ دماغ میں پیراسیٹامول کی کمی کی وجہ سے سر درد ہوتا ہے؟‘
کیا اینٹی ڈپریسینٹ ادویات کا کوئی فائدہ بھی ہے؟
محققین کا دعویٰ ہے کہ ڈپریشن کے خلاف استعمال ہونے والی ادویات اسی طرح کام کرتی ہیں جیسے میٹھی گولیاں۔ اگر آپ سے کہا جائے کہ یہ میٹھی گولی آپ کی دوائی ہے تو آپ ذہنی طور پر خود بخود بہتر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ محققیق کے درمیان یہ موضوع بحث ہے کہ ایسا کرنے سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟
تاہم یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بہت سے لوگ اینٹی ڈپریسینٹ ادویات کھانے کے بعد بہتر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ لیکن نسخہ لکھتے وقت ڈاکٹروں کو نہیں پتا ہوتا کہ کن مریضوں کو اس سے فائدہ ہوگا۔
برطانیہ کے رائل کالج آف سائیکیٹرسٹس کی پروفیسر لنڈا گاسک کا کہنا ہے کہ ’اینٹی ڈپریسینٹ ایسے بہت سے لوگوں کے معاملے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، خاص طور پر بہت مشکل اوقات میں۔‘
لیکن سیروٹونن اور ڈپریشن کے تعلق کے بارے میں اس ریسرچ پیپر کو لکھنے والے سائنسدانوں میں سے ایک پروفیسر مونکریف کا کہنا ہے کہ ادویات بنانے والی کمپنیاں جو ریسرچ کرتی ہیں وہ بہت کم عرصے پر مبنی ہوتی ہے۔ اور ڈپریشن کے مریض علاج کے چند ہی ماہ کے اندر کیسا محسوس کرنے لگتے ہیں اس بارے میں ابھی زیادہ معلومات نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پروفیسر گاسک کا کہنا ہے کہ ’آپ کو مریضوں کو بتانا ہوگا کہ آپ ان کی ادویات کی ضرورت پر بار بار غور کرتے رہیں گے اور اُس سے زیادہ عرصے تک ادویات کھانے کا مشورہ نہیں دیں گے جتنی ضرورت ہوگی۔‘
ان کا خیال ہے کہ عام طور پر ڈاکٹر ایسا نہیں کرتے۔
سیروٹونن سے متعلق ریسرچ کرنے والے سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ بات واضح ہونے کی ضرورت ہے کہ جہاں ایک طرف اس بات کا خطرہ ہے کہ ڈپریشن علاج کے بغیر اور بگڑتا نہ چلا جائے، وہیں دوسری جانب یہ خدشہ بھی ہے کہ اینٹی ڈپریسینٹس کے استعمال سے کچھ لوگوں کو شدید منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلنس کے مطابق منفی اثرات کے طور پر متاثرین کو خودکشی کرنے کے خیالات آ سکتے ہیں، وہ خود اپنی جان لے بھی سکتے ہیں، جنسی تعلقات قائم کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے، جزباتی طور پر وہ سُن محسوس کر سکتے ہیں یا نیند نہ آنے کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔
گزشتہ موسم خزاں سے برطانیہ میں طبی ماہرین سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈپریشن کے کم سنجیدہ متاثرین کو ادویات دینے سے پہلے تھیریپی، ورزش اور مراقبہ کرنے کا مشورے دیں۔
یہ بھی پڑھیے:

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریسرچ کے بارے میں گمراہ کن رد عمل
اس ریسرچ کے منظر عام پر آنے کے بعد متعدد گمراہ کن رد عمل سامنے آئے جنہوں نے ڈپریشن کے علاج کے اب تک کے طریقہ کار کے بارے میں بے یقینی کو فروغ دیا۔
مثال کے طور پر یہ رد عمل کہ ’ڈپریشن کے خلاف ادویات کا استعمال افسانوی دعووں پر مبنی ہے۔‘
حالانکہ ریسرچ میں ایٹی ڈپریسینٹ ادویات کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا تھا۔
سیروٹونن ہارمون موڈ کو بہتر بنانے کے لیے زمہ دار ہوتا ہے۔ بھلے کسی شخص میں اس کی کمی نہ ہو لیکن اس کی خوراک دیے جانے سے انسان میں خوشی کا احساس پیدا کیا جا سکتا ہے۔ بھلے تھوڑی ہی دیر کے لیے صحیح۔
اور خوشی کی حالت یا پھر کم مایوس ذہنی کیفیت میں انسان حالات، ماحول اور لوگوں کے ساتھ نئے تعلقات قائم کر سکتا ہے۔
متعدد لوگوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس ریسرچ کے مطابق ڈپریشن کبھی ذہنی مسئلہ تھا ہی نہیں بلکہ اس کا تعلق انسان کے ماحول سے ہے۔

ریسرچ پیپر کے مصنف ڈاکٹر مارک ہورووتس کا کہنا ہے کہ ’بے شک ذہنی اور ماحولیاتی دونوں ہی عناصر زمہ دار ہیں۔‘
انھوں نے مثال دی کہ ’یہ آپ کے جینیاتی نطام پر مبنی ہے کہ آپ دباؤ یا سٹریس کے لیے کتنے حساس ہیں۔‘
ڈاکٹر مارک کا یہ بھی خیال ہے کہ مشکل وقت میں واضح ہونے والے ذہنی مسائل یا پریشانیوں میں ’کونسلنگ، معاشی مسائل سے نمٹنے کے مشورے اور نوکری بدلنے جیسے اقدامات‘ بھی کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔
آسٹریلیا کی رہائشی زوئی کو ڈیپریشن اور دیگر ذہنی مسائل کا سامنا رہ چکا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ڈپریشن کو دکھ بتا کر یہ جتانا کہ سماجی مسائل کو دور کر کے ڈپریشن کو دور کیا جا سکتا ہے، ٹھیک نہیں ہے۔ ایسا کر کے آپ ذہنی صحت جیسے مسئلے کو معمولی بتا کر نظر انداز کر رہے ہیں۔
ان کے خاندان میں متعدد لوگ ذہنی مسائل سے متاثر ہیں۔ زوئی کو امتحان یا کسی اور شدید ذہنی دباؤ کی صورت میں دورہ پڑ جاتا ہے۔
زوئی کا خیال ہے کہ اگر حساب کر کے معقول مقدار میں ہی ضرورت کے مطابق ادویات کا استعمال کیا جائے تو شدید دوروں سے بچا جا سکتا ہے۔
بی بی سی نے جتنے بھی ماہرین سے بات کی وہ سبھی ایک بات پر متفق ہیں - مریضون کو اس بارے میں مزید معلومات ہونی چاہیے اور انہیں اس بارے میں تفصیل سے بتایا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے حالات کے مطابق خود اپنے حق میں صحیح فیصلہ کر سکیں۔












