اولاد کی پیدائش پر مردوں کا ڈپریشن: مرد کیوں چُپ چاپ دباؤ سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں؟

باپ کو بھی بعد از پیدائش ڈپریشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, اماندہ روگری
    • عہدہ, بی بی سی، فیملی فیچرز

ماؤں کو بچے کی پیدائش کے بعد کئی قسم کے مسائل جھیلنا پڑتے ہیں۔ لیکن باپ کو بھی بعد از پیدائش ڈِپریشن کی کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور شاید اس بارے میں پتا ہی نہ چلتا ہو۔

ڈیوڈ لیوائن کی زندگی کا وہ لمحہ ایک بڑا موڑ تھا جب اُس نے یہ سمجھا کہ اُس نے اپنے نومولود بچے کو زور سے جھنجوڑا ہے۔

یہ سنہ 2013 کا واقعہ ہے جب اس کا بیٹا دو ہفتے کا ہو چکا تھا۔ آج لیوائن کہتے ہیں کہ انھوں نے اُسے ایک بستر پر لٹایا تھا مگر ‘شاید میری اپنی توقع کے لحاظ سے میں نے اپنے بیٹے کو ذرا زیادہ زور سے لٹایا تھا۔‘ اس وقت میں واضح طور پر سوچ نہیں پا رہا تھا تاہم مجھے یقین تھا کہ میں نے بچے کے ساتھ صحیح نہیں کیا ہے۔

ماہر اطفال کے طور پر وہ جانتے تھے کہ بچے کو زور سے ہلانے سے اُسے اندرونی نقصان جیسا کہ دماغی چوٹ لگ سکتی ہے، یہاں تک کہ موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ یہی سوچ کر وہ گھبرا سے گئے۔

لیوائن کا غصہ اور مایوسی اُن کے بیٹے کی پیدائش سے ہی شروع ہو چکی تھی۔ بہت سے نوزائیدہ بچوں کی طرح بچے کو باہر کی دنیا سے مطابقت پیدا کرنے میں وقت لگتا ہے۔ لیکن لیوائن کو ایسا لگتا تھا جیسے بچہ غیرضروری طور پر مسلسل رو رہا ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘میں نے اس بات کو دل پر لے لیا، جیسا کہ میں ناکام ہو رہا ہوں، میں یہاں اپنا کام نہیں کر پا رہا ہوں۔ میں نے بھی ایسا محسوس کرنا شروع کر دیا جیسے یہ سب کچھ میری وجہ ہوا تھا۔ میرا بیٹا روئے جا رہا تھا کیونکہ شاید وہ مجھے پسند نہیں کرتا تھا۔‘

لیوائن بچوں سے پیار کرتے تھے۔ چونکہ انھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز امریکی ریاست نیو جرسی میں ایک ماہرِ اطفال کے طور پر کیا تھا، اس لیے انھوں نے اپنے والدین سے بار بار ایک بات سُنی تھی ‘آپ ایک دن بہت ہی اچھے باپ بننے والے ہیں۔‘

جب اُن کی بیوی حاملہ ہوئیں اور بچے کو جنم دیا تو وہ بہت خوش تھے بلکہ پُرجوش بھی۔ جب ماں کو دودھ پلانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو انھوں نے اپنے آپ کو اس موقع پر بہت کارآمد محسوس کیا۔

لیکن پھر اُن کا کردار بدل گیا۔ اور اب انھیں ڈاکٹر نہیں بلکہ باپ بننے کی ضرورت تھی۔ اور جب والدین کے عملی کام، جیسے اپنے بیٹے کا رونا بند کرانا، ایک چیلنج ثابت ہوا، تو انھوں نے سوچا کہ اس چیلنج میں ناکامی اُن کی غلطی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘یہ وہ صورتحال تھی جس کی وجہ سے میرے حالات مشکل ہونے لگے۔‘ انھیں اس طرح کے خیالات آنے لگے کہ جیسے وہ اپنے بیٹے کو نیچے گرا رہے ہیں۔ یا وہ اُس پر چیخ رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے تخیل میں اپنے بچے اور خود پر تشدد جیسے منظر دیکھنا شروع کر دیے۔ اور انھیں یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ چیزیں کیسے بہتر ہوں گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘میں اپنی بیوی کو یہ بتانے کا سوچتا تھا کہ ہماری یہ زندگی ختم ہونے کو ہے۔ میں صرف جہنم کے بھنور کا تصور کر سکتا تھا جو کہ ہماری زندگی بننے والی تھی۔‘

اپنے ہسپتال میں وہ بعد از پیدائش ڈپریشن (postnatal depression---PND) کے لیے ماؤں کی سکریننگ کرتے تھے۔ یہ افسردگی کی ایک ایسی کیفیت ہے جو بچے کی پیدائش کے ایک سال کے اندر شروع ہو جاتی ہے۔

اسے عام طور پر ماں کی حالت یا بیماری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کیا یہ حالت یا بیماری باپ کے لیے بھی ہو سکتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو لیوائن نے بہرحال اس کے بارے میں نہیں سُنا تھا۔

وہ اس طرح کی حالت سے گزرنے والے اکیلے باپ نہیں تھے۔ بعد از پیدائش ڈپریشن ذہنی صحت کی ایسی حالت ہے جس میں پیدائش کے بعد پہلے سال میں مسلسل اداسی چھائے رہنا، بے حسی یا یہاں تک کہ خودکشی کرنے کا خیال بھی شامل ہو سکتا ہے۔ خواتین میں تو یہ ایک جانا پہچانا رجحان دیکھنے کو ملتا ہے۔ تاہم اب بھی اس بیماری کی تشخیص نہیں کی جاتی ہے جس کے بعض اوقات بہت بُرے اور المناک نتائج نکلتے ہیں۔

جو بات بہت جانی جاتی ہے یا بہت کم معروف ہے، یہاں تک کہ میڈیکل شعبے سے وابستہ افراد بھی اس کے بارے میں نہیں جانتے ہیں، وہ یہ ہے کہ مرد بھی بعد از پیدائش ڈپریشن (PND) کا شکار ہو سکتے ہیں۔

لیکن بہت سے وسائل جو بعد از پیدائش ڈپریشن (PND) کی روک تھام، تشخیص اور علاج میں مدد کر سکتے ہیں، مثلاً سکریننگ کے سوالناموں سے جو ڈاکٹر استعمال کرتے ہیں، والدین کے گروپ جیسے نیٹ ورکس کو سپورٹ کرنے کے لیے، وہ عموماً خواتین کے لیے بنائے گئے ہیں۔

یہاں تک کہ وہ علامات جو لوگ عام طور پر بعد از پیدائش ڈپریشن (PND) کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں ان کا تعلق بھی مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ بیان کیا جاتا ہے۔ پھر آپ اس میں اس بیماری یا کیفیت سے جڑی بدنامی کو شامل کریں تو آپ مرد کی ذہنی صحت کے چیلنجوں کے اظہار کے ارد گرد سنگین مسائل دیکھ سکتے ہیں۔ اور ماہرین کہتے ہیں کہ ہم صرف بعد از پیدائش ڈپریشن کا شکار ہونے والی ماؤں کو یاد نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ لاکھوں افسردہ باپوں کا بھی ذکر کر رہے ہوں گے۔

باپ کو بھی بعد از پیدائش ڈپریشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجب ایک نیا بچہ پیدا ہوتا ہے تو زندگی ڈرامائی طور پر بدل جاتی ہے، لیکن زیادہ تر مردوں کو وہ تربیت، وسائل یا تعلیم نہیں دی جاتی ہے جس کی انھیں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے

پوشیدہ بیماری

آسٹریلیا کی دماغی صحت کی تنظیم ‘بیانڈ بلیو‘ کے کلینیکل ایڈوائزر گرانٹ بلاشکی کہتے ہیں کہ ‘اگرچہ خواتین میں پیدائش کے بعد ڈپریشن جیسی ذہنی بیماریوں کے بارے میں کمیونٹی میں آگاہی بڑھ رہی ہے، لیکن مردوں میں اس بیماری کو بہت کم تسلیم کیا جاتا ہے۔‘

پیدائش کے بعد تین سے چھ ماہ کے عرصے میں چار میں سے ایک باپ ڈپریشن کی علامات ظاہر کرتا ہے۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں ایک ماہر نفسیات ڈینیل سنگلی کہتے ہیں کہ بہت سے باپوں کی یہ بیماری ایک عمومی پریشانی، وسوسے، اضطراب اور پسِ صدمہ ذہنی اضطراب کی صورت بھی اختیار کر جائے گی۔

لیکن اس حالت تک ان میں سے نسبتاً کم ہی لوگ پہنچیں گے، یا یہ تسلیم کرنے میں مزاحمت کریں گے کہ انھیں کوئی مسئلہ ہے۔ گرانٹ بلاشکی کہتے ہیں کہ ‘میرے ہسپتال میں یہ دلچسپ بات ہے کہ مردوں میں ذہنی صحت کی بیماری کی تشخیص کو بہت بدانامی سمجھا جاتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ ایک حقیقت کا انکار یا ناقص مدد کی تلاش نکلتا ہے، یا یہ احساس پیدا ہو سکتا ہے کہ آپ کو اسے خود ہی حل کرنا چاہیے۔‘

عام طور پر مرد خواتین کے مقابلے میں زیادہ طبی دیکھ بھال سے گریز کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کینیڈا میں محققین نے دریافت کیا کہ 10 میں سے آٹھ مرد اس وقت تک طبی دیکھ بھال نہیں کریں گے جب تک کہ ان کا ساتھی انھیں ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے قائل نہ کرے۔ لیکن اس کی ایک بڑی وجہ افسردگی کے ساتھ ایک مرد ہونے کے بارے میں بدنامی کا دھبہ یا شرمندگی کے جذبات کا ہونا ہے، خاص طور پر ایک باپ کے لیے۔

سنگلی کا کہنا ہے کہ ‘(مرد) واقعی ذہنی صحت سے متعلق مدد نہیں لینا چاہتے، کیونکہ یہ بدنما دھبہ سمجھا جاتا ہے اور اسے عورتوں کا رویہ سمجھا جاتا ہے۔‘

بچے پیدا کرنے والے مرد اور عورت کے جوڑوں میں یہ بات بار بار دہرائی جاتی ہے کہ حمل اور پیدائش ایک عورت کا کام ہے۔ باپ کو قبل از پیدائش کے تربیتی یا معلوماتی نشستوں یہاں تک کہ پیدائشی عمل کے بارے میں بات چیت کے دائرے سے ہی خارج سمجھا جاتا ہے۔ جب وہ موجود ہوتے ہیں، تو انھیں اکثر بتایا جاتا ہے کہ ان کا واحد کام ماں کی مدد و معاونت کرنا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ وہ خود (باپ) کس قسم کی پریشانی یا خوف سے گزر رہے ہیں یا نہیں۔

ڈینیل سنگلی کا کہنا ہے کہ اس قسم کی باتیں مردانہ دقیانوسی تصور کہ اُس کی ذمہ داری خاندان کو ‘محفوظ رکھنا اور وسائل فراہم کرنا‘ ہے، کو تقویت دیتی ہیں اور اسے متحرک کرتی ہیں۔ اور یہ ایک اہم عنصر کو نظر انداز کرتی ہے، یعنی باپ کو تو ماں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے، لیکن اُسے خود بھی مدد کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

جیسا کہ ایک والد نے برطانیہ کی ایک حالیہ تحقیق میں محققین کو بتایا کہ ‘پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے، اداروں، خاندان اور میں نے اپنی توجہ اس بات پر مرکوز رکھی کہ میں اپنی بیوی کی مدد کیسے کروں گا اور ہر حال میں میرے مضبوط رہنے پر زور دیا گیا تھا۔‘

‘ہمیں چٹان کی طرح مضبوط ہونا چاہیے‘

ظاہر ہے کہ پھر مرد پر مردانہ دقیانوسی تصورات کا دباؤ ہے۔ اگر باپوں سے مضبوط اور ماؤں کا معاون ہونے کی توقع کی جاتی ہے، تو پھر ان کے لیے کیا ہے اگر وہ بھی ڈپریسڈ ہیں۔؟

برطانیہ کی اسی تحقیقی رپورٹ میں ایک اور شخص نے کہا کہ وہ ‘ناکام ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے، کہ وہ کس قسم کا حقیقی مرد ہے۔‘ ایک اور نے سوال کیا کہ ‘بچے کی پیدائش کے بعد کس قسم کے آدمی افسردہ ہو جاتے ہیں؟‘ کچھ تو علاج کروانے میں سخت رویے رکھتے تھے۔ ایک آدمی جسے اس کی دماغی صحت کی تشخیص کی وجہ سے کام سے چھٹی دی گئی تھی اُس نے کہا کہ جب اس سے بچے کے ساتھ ایک نیا معمول بنانا مشکل ہو گیا تو اس نے اس کا ڈپریشن مزید خراب کر دیا ‘کیونکہ میں نے محسوس کیا کہ میں صرف باپ بننے میں ناکام نہیں ہو رہا ہوں، بلکہ ایک شوہر کے طور پر بھی ناکام ہو رہا ہوں۔‘

دوسروں نے اس خدشے کا ذکر کیا کہ ان کے ساتھی انھیں چھوڑ دیں گے۔

گرانٹ بلاشکی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘ابھی بھی دماغی بیماری کے ارد گرد بہت سی خرافات موجود ہیں جو کمزوری کی علامت یا کسی ایسی چیز کے طور پر موجود ہیں جن کو انسان کو خود ہی حل کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ اس طرح کی خرافات اور بھی زیادہ تقویت حاصل کر لیتی ہیں کہ ماں اور بچے کی پیدائش کی اس بڑی اہم تبدیلی کے وقت کے دوران مرد کو مضبوط ہونا چاہیے۔‘

اپنی طرف سے لیوائن نے اپنی بیوی کو یہ نہیں بتایا کہ تقریباً ایک سال بعد تک اس کا بعد از پیدائش ڈپریشن (PND) کتنا خراب تھا۔ یہ باتیں اُس نے اُس وقت بتائیں جب پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے بارے میں امریکہ میں چارلی روز ٹاک شو میں اُسے ایک مریض سے اس بارے میں بات کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔

لیوائن کہتے ہیں کہ ‘وہ (اُس کی بیوی) نہیں جانتی تھی کہ میں افسردہ ہوں۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ میں اپنے بیٹے کے بارے میں کچھ جذبات رکھتا ہوں۔ اور وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ میں نے اسے کبھی نہیں بتایا تھا، کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ وہ مجھے ایک کمزور شخص سمجھے گی۔ مرد اپنے جذبات کے بارے میں بات نہیں کرتے ہیں، ٹھیک ہے؟ ہم سے توقع ہوتی ہے کہ ہم اپنی بیوی کے لیے چٹان کی طرح مضبوط ثابت ہوں گے۔ میرے پاس اس بارے میں بات کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ اور میں نے حقیقی طور پر محسوس کیا کہ اگر میں نے اسے بتایا تو وہ مجھے چھوڑ دے گی۔ لیکن میری بیوی ایک بہت زبردست شخص ہے۔‘

خواتین کا دائرہ

ایک اضافی رکاوٹ یہ ہے کہ بعد از پیدائش ڈپریشن اکثر بنیادی طور پر خواتین کا مسئلہ کہہ کر بیان کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً اس بات کا امکان کم ہے کہ کوئی آدمی یا اس کے آس پاس کے لوگ بشمول میڈیکل پروفیشنل افراد بعد از پیدائش ڈپریشن کو پہچانتے ہیں کہ آخر یہ ہے کیا۔

یہ سچ ہے کہ پیدائش کے بعد والدین میں ڈپریشن کا ان کے ساتھیوں کے مقابلے میں زیادہ امکان ہوتا ہے۔ یہ بھی معاملہ ہے کہ کچھ ماؤں کو بعد از پیدائش ڈپریشن کیوں ہوتا ہے، اس کا ایک حصہ دماغ میں ہارمون کی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو پیدائش کے وقت ہوتی ہے۔

علامات مردوں کے مقابلے خواتین میں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ اگرچہ بعد از پیدائش ڈپریشن کی عام تصویر ایک ماں کی ہو سکتی ہے جو روتی دھوتی رہتی ہے اور بستر سے اٹھنے سے قاصر ہوتی ہے، جبکہ بعد از پیدائش ڈپریشن والے باپ زیادہ وقت لوگوں سے ملنے سے گریز کرنے والے یا دوسروں سے فراری رویے اختیار کر لیتے ہیں، ایسے مرد زیادہ گھنٹے کام کرتے ہیں، یا اپنے فون پر زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ وہ منشیات یا الکوحل کا زیادہ استعمال کرنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جانے، چڑچڑے یا خود پر تنقید کرنے والی شخصیت بننے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔

ڈینیل سنگلی کا کہنا ہے کہ ‘بعض اوقات (مرد) دکھاتے ہیں کہ جسے ہم ‘نقاب پوش مردانہ ڈپریشن پریزنٹیشن‘ کہتے ہیں، جو عام طور پر ڈپریشن کے بارے میں ہماری عمومی سوچ سے تھوڑا مختلف نظر آتا ہے۔ ان میں کچھ سوماٹائیس یعنی ذہنی بیماریوں کا جسمانی بیماریوں کی صورت میں ظاہر کرنے کا رجحان ہو سکتا ہے‘ یا جذباتی علامات کی بجائے جسمانی علامات محسوس کرنا، جیسے پیٹ میں درد یا درد شقیقہ جیسی علامات بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ باپ ‘حقیقی‘ بعد از پیدائش ڈپریشن کا سامنا نہیں کر رہے ہیں، بلکہ وہ عام ڈپریشن کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسا سوچنے کا یہ عمل اس حقیقت سے فروغ پاتا ہے کہ اگر ایک باپ پہلے بھی کبھی ڈپریشن کی بیماری کا شکار رہا ہو تو ان کے پیدائش کے بعد ڈپریشن پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

باپ کو بھی بعد از پیدائش ڈپریشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجب مردوں کو مسلسل بتایا جاتا ہے کہ انھیں 'چٹان' بننے کی ضرورت ہے، تو ان کی اپنی جدوجہد کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جو اُن کے لیے مدد حاصل کرنے کی راہ میں ایک رکاوٹ بن سکتی ہے

مائیکل ویلز، سویڈن کے سٹاک ہوم میں کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کے شعبہ خواتین اور بچوں کی صحت کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر اور بعد از پیدائش کی دیکھ بھال اور مردوں میں بعد از پیدائش ڈپریشن کے مسئلے کے محقق کہتے ہیں کہ اگرچہ اس بات میں کچھ سچائی ہے، لیکن یہ ایک گمراہ کن بات ہے۔

اگر والد کو ماضی میں ڈپریشن ہوا ہو تو وہ واقعی بعد از پیدائش ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ لیکن مائیں بھی ہوتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈپریشن کی وجہ ‘یہ اکیلے ہارمونز نہیں ہیں۔‘

صرف یہی نہیں بلکہ حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جیسے ہی ماں کے لیے بچے کی پیدائش سے پہلے کی مدت شروع ہوتی ہے باپ کے ہارمونز میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ مثال کے طور پر باپ کے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح ان کے ساتھی کے حمل کے دوران کم ہو جاتی ہے جب کہ حمل کے اختتام پر ایسٹروجن بڑھ جاتا ہے۔

کچھ شواہد موجود ہیں کہ ایسٹروجن کا باپ کے بعد از پیدائش ڈپریشن سے کچھ تعلق ہو سکتا ہے۔

جسمانی وجوہات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، بچے کی پیدائش کے بعد ماں اور باپ دونوں کو بہت سی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خاص خطرے کے عوامل بھی کچھ باپوں کو بعد از پیدائش ڈپریشن کا زیادہ شکار بنا سکتے ہیں۔ ایک تو ہے ان کی بیوی کی ذہنی صحت۔ اگر ماں کو بعد از پیدائش ڈپریشن ہو تو اس صورت میں باپ کے لیے بعد از پیدائش ڈپریشن ہونے کا خطرہ پانچ گنا سے زیادہ ہوتا ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں تک کہ لیوائن جیسا کوئی شخص، جس کے پاس ایک مستقل ملازمت اور اچھی شادی تھی، دماغی صحت کے مسائل کی کوئی سابقہ تاریخ نہیں تھی، اور حمل اور شیرخوار بچوں کے بارے میں کافی طبی معلومات تھی، تو اگر وہ بعد از پیدائش ڈپریشن میں اتنی تیزی سے گر سکتا ہے، تو اُس کی مثال یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ اس بیماری سے کوئی بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

‘میری شخصیت بدل گئی‘

اس میں سے زیادہ تر ‘فادرز ریچنگ آؤٹ‘ کے مارک ولیمز سے واقف معلوم ہوتے ہیں، جو کہ برطانیہ میں باپوں کی امداد کا ایک گروپ ہے، جو اپنے اس کام کی وجہ سے اب ایک لابنگ آرگنائزیشن بن گیا ہے۔

سنہ 2004 میں جب اس کے بچے کی پیدائش ہوئی تو ولیمز، جو ویلز میں رہتے ہیں، خود ملازم تھے۔

انھیں توقع ہے کہ وہ دو ہفتوں کے بعد کام پر واپس آ جائیں گے۔ لیکن جو ان کا منصوبہ تھا حالات ویسے نہیں ہوئے۔ سب سے پہلے ان کے بچے کی پیدائش میں مسائل پیدا ہو گئے اور ان کی بیوی بہت تکلیف سے گزری۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘مجھے لیبر وارڈ میں گھبراہٹ کا دورہ پڑا، اور پھر ڈاکٹر نے کہا کہ میری بیوی آپریشن تھیٹر جا رہی ہے، ایک غیر متوقع سی سیکشن کے لیے۔ جب وہ وہاں تھی تب اُسے کسی نے نہیں بتایا کہ اُس کی بیوی کو سی سیکشن کے لیے منتقل کیا گیا ہے، جبکہ وہ سمجھا کہ اس کی بیوی اور بچہ مرنے والے ہیں۔

اس تکلیف دہ واقعے سے ولیمز کو ایک نوزائیدہ بچے کے ساتھ زندگی کے چیلنجوں میں ڈال دیا گیا تھا جب کہ ‘بغیر پیسے اور گھر کے قرض کی ادائیگی‘ کی وجہ سے اُس نے اپنے کام پر واپس جانے کے لیے دباؤ محسوس کیا۔ اس کی بیوی کو خود بھی شدید ذہنی دباؤ تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘میں نے ان حالات کے دباؤ سے بچتے ہوئے شراب کا استعمال شروع کیا۔ میری شخصیت بدل گئی۔‘ وہ اپنے میں غصہ اور جارحیت محسوس کرتا۔ ایک بار اس نے صوفے کو زور سے گھونسا مار دیا، اتنی زور سے کہ اُس کا ہاتھ ٹوٹ گیا۔

اسے مردوں بعد از پیدائش ڈپریشن کے بارے میں کسی ایسے شخص کے ساتھ اتفاقی گفتگو کے ذریعے پتہ چلا جو اسے اپنے جم میں ملا تھا۔

سنہ 2010 میں انھوں نے ‘فادرز ریچنگ آؤٹ‘ کے نام سے ایک غیر سرکاری تنظیم قائم کی، جس نے مختلف قسم کا مسائل کے شکار باپوں کو ایک دوسرے سے ملایا اور دماغی صحت کی مدد اور مشورے کی پیشکش کی۔ ولیمز کا کہنا ہے کہ (تنظیم تب سے 'فنڈنگ کی کمی‘ کی وجہ سے تحلیل ہو گئی ہے، اس کی بجائے ایک لابنگ گروپ بن گئی ہے)۔

باپوں کی مدد کرنا

بعد از پیدائش ڈِپریشن کا شکار باپ کو مدد نہ ملنے کی ایک زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ مغربی ممالک میں مردوں میں عورتوں کے مقابلے میں خودکشی کا چار گنا زیادہ امکان ہے۔ اس کا اِن خاندانوں پر بھی اثر پڑتا ہے جن سے ایسے متاثرہ مردوں کا تعلق ہوتا ہے۔

اپنے شیر خوار بچوں کی ابتدائی نشوونما میں والد کا اہم کردار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اگر کسی بچے کا باپ اپنی زندگی کے پہلے سال میں افسردہ تھا، تو بچے کو چار سے پانچ سال کی عمر میں رویے کی مشکلات اور خراب نشوونما کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بعد از پیدائش ڈِپریشن کی تشخیص کے لیے اور اس سے نمٹنے میں مدد کرنے کا ایک حل یہ ہے کہ اس کی سکریننگ میں پیدائش نہ کرنے والے والدین کو شامل کیا جائے، اور ماؤں کے علاوہ ان کی ذہنی صحت کو بھی ترجیح دی جائے۔ مثال کے طور پر مائیکل ویلز کی اپنی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ جب باپوں کو دائیوں، نرسوں اور ان کے ساتھیوں سے زیادہ مدد ملتی ہے، تو ان میں ڈپریشن کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

باپ کو بھی بعد از پیدائش ڈپریشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈیوڈ لیوائن کہتے ہیں کہ 'بچے پیدا نہ کرنے والے والدین کو اکثر ڈاکٹروں یا نرسوں کے ذریعے رابطہ نہیں کیا جاتا ہے۔ آپ ایسے والدین یا ایسے خاندانوں سے رابطے کا آغاز اس خیال کے ساتھ کرتے ہیں کہ بچے پحیدا کرنے والے والدین سب سے اہم ہیں، اور بچے نہ پیدا کرنے والے والدین کی ثانوی حیثیت ہے۔ جبکہ یہ سچ نہیں ہے۔‘

‘میری بیوی کو بعد از پیدائش ڈپریشن کا سامنا نہیں تھا۔ جبکہ میں اس کیفیت سے گزرا تھا۔ اس لیے مجھے بعد از پیدائش ڈپریشن ہو سکتا ہے۔ اس میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن یا اضطراب پیدا ہوا۔ یا اگر اسے بھی بعد از پیدائش ڈِپریشن ہو جاتا تو اس بات کا 50 فیصد امکان تھا کہ مجھے اس کے ڈپریشن کی وجہ سے ڈپریشن ہوتا۔ اور کوئی بھی کسی کو یہ باتیں نہیں بتا رہا ہے۔ ماہر اطفال، جو واحد ڈاکٹر ہیں جو عام طور پر کسی بھی وقت دونوں والدین کو دیکھتے ہیں، ان خاندانوں کی اسکریننگ نہیں کر رہے ہیں۔‘

‘عظیم جھوٹ‘ سے بچنا

لیوائن کا کہنا ہے کہ زیادہ وسیع پیمانے پر لوگوں کو والدین کے بارے میں زیادہ ایماندار ہونے کی بھی ضرورت ہے۔

وہ اکثر لوگوں کو اس کے بارے میں بتاتے ہیں کہ جسے وہ ایک ‘عظیم جھوٹ‘ کہتے ہیں، یعنی یہ خیال کہ آپ کے پاس یہ سب ہو سکتا ہے۔ آپ کل وقتی، والدین کے لیے کل وقتی کام کر سکتے ہیں اور سب کچھ ویسا ہی نظر آئے گا جیسا کہ پرفیکٹ نرسریوں اور مسکراتے ہوئے بچوں کی چمکدار تصاویر میں جو آپ سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں۔ لوگ اکثر ماؤں کے حوالے سے یہ سوچتے ہیں۔ لیکن یہ مردوں کے بارے میں بھی سچ ہو سکتا ہے، جن پر اپنے خاندانوں کو مالی طور پر فراہم کرنے کے لیے اضافی، صنفی دباؤ ہو سکتا ہے۔

‘پھر جب یہ اس طرح نظر نہیں آتا جس طرح آپ نے سوچا تھا کہ اسے نظر آنا چاہیے تھا، تو آپ اسے پیتھولوجائز یعنی ایک بیماری کی سمجھنا شروع دیتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ 'یہ مجھے ہونا چاہیے، میں ہی ہوں جو بیڑہ غرق کر رہا ہوں۔ کیونکہ میں نے اپنی پوری زندگی دیکھی ہے۔ لوگ اسے ہینڈل کر رہے ہیں۔ صرف یہ کہنے میں شرم نہیں ہونی چاہیے، 'ہاں، والدین کی پرورش مشکل ہے۔ والدین ایک مزہ ہے، لیکن والدین بننا مشکل ہے خاص طور پر ابتدائی دنوں میں۔'

لیوائن کے لیے یہ تسلیم کرنے کے خوف کا مطلب تھا کہ وہ جدوجہد کر رہا تھا، اس کے لیے اسے مدد لینے کے لیے کچھ اور ہفتے لگے - اور اس کی بیوی کی حوصلہ افزائی سے بھی اُسے فائدہ ہوا۔ اس نے ایک معالج سے بات کی جہاں وہ کام کرتا تھا۔ اس نے اسے بتایا کہ بعد از پیدائش ڈپریشن کی ایک ماہر جو سمجھتی تھی کہ مردوں کو بعد از پیدائش ڈِپریشن (PND) ہو سکتا ہے، اس سے پہلے کبھی کسی مرد مریض نے اس کی تلاش نہیں کی تھی۔ اس نے کردار سازی کے لیے علمی تھراپی حاصل کرنا شروع کیا۔ بچے کے لیے ایک نائٹ نرس کی مدد سے وہ بہتر سونے لگا۔

وہ کہتے ہیں کہ ایسا نہیں تھا کہ اس بہتری کے بعد زندگی گل و گلزار ہو گئی تھی۔ جب اس کا دوسرا بچہ چار سال بعد پیدا ہوا تو اسے دوبارہ بعد از پیدائش ڈِپریشن (PND) محسوس ہوا۔ لیکن اس مرتبہ اس نے اس مسئلے کی علامات کو پہچان لیا۔

اب سنہ 2018 سے 'پوسٹ نیٹل سپورٹ انٹرنیشنل' نامی تنظیم کے بورڈ پر، جہاں وہ جولائی سے نائب صدر ہوں گے، لیوائن اس سال کے امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کے کنونشن میں مرد بعد از پیدائش ڈِپریشن (PND) کے بارے میں لیکچر دیں گے۔ وہ اپنے تجربے کے بارے میں نئے بچے کے ساتھ آنے والے ہر والدین کو آگاہ کرتا ہے۔ اس کا مشن مرد بعد از پیدائش ڈِپریشن (PND) سے جڑے بدنامی کے دھبے کو خاتمہ کرنے ہے۔

وہ پوری طرح سے آگاہ ہے کہ اب چیزیں بہت حد تک بدل چکی ہیں۔ لیوائن اپنے ماضی کے اُس تجربے کے بارے میں آج کہتے ہیں کہ 'جب میں اس سے گزرا، اگر میں ماہر اطفال نہ ہوتا، اگر میں نے وہاں کام نہ کیا ہوتا جہاں میں کرتا تھا، تو یہ ممکن ہے کہ میں اب بھی آپ سے بات نہ کرتا۔ کیونکہ شاید میرے ساتھ کوئی سنگین قسم کا واقعہ پیش آچکا ہوتا۔'