جسم کے کس حصے پر ٹیٹو بنوانا سب سے زیادہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سائنس اور بائیولوجی کی برطانوی استاد نتالیہ ویلشر کے بازو پر البرٹ آئن سٹائن کا ٹیٹو بنا ہوا ہے۔ ان کے پیروں، کلائیوں اور ٹخنوں پر دیگر ٹیٹو بھی بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے جتنے بھی ٹیٹو بنوائے ہیں ان میں سے سب سے زیادہ تکلیف انھیں ٹخنوں اور پیروں پر بنواتے وقت ہوئی۔
انھوں نے بی بی سی کی پوڈ کاسٹ Teach Me a Lesson یعنی ’مجھے ایک سبق سکھائیے‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تکلیف، جسم کا خود کو محفوظ رکھنے کا ایک طریقہ ہے اور جسم میں موجود اعصاب کا کام تکلیف کا پتا لگانا ہے۔‘
نتالیہ ویلشر کا اس بارے میں بات چیت میں کہنا تھا کہ ’جسم کے اس حصے میں ٹیٹو بنوانا زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے جہاں چربی کم اور اعصاب زیادہ ہوں۔‘
ویلشر کا کہنا ہے کہ پیروں اور ٹخنوں کے علاوہ پنڈلی کے اگلے حصے، بغلیں، کندھیں اور پسلیاں ٹیٹو بنوانے کے لیے تکلیف کے اعتبار سے حساس جگھیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ہر شحض کی انفرادی طور پر تکلیف برداشت کرنے پر منحصر ہے۔
وہ اس تکلیف کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ٹیٹو بنوانے کے عمل کے دوران جسم کے اس حصے کے اعصاب پنکچر ہو جاتے ہیں اور وہ دماغ کو تکلیف کے سگنل بھیجتے ہیں۔‘
تاہم اس شحض کے ٹیٹو بنواتے وقت تکلیف کے ردعمل کا کسی دوسرے شخص کے ردعمل سے موازانہ نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہر شخص میں تکلیف برداشت کرنے کی صلاحیت دوسرے سے مختلف ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’دنیا کا پہلا ٹیٹو‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دنیا کا سب سے قدیم مانا جانے والا ٹیٹو اوٹزی نامی ممی پر ملا تھا۔ اس ممی کو آئس مین بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ممی سنہ 1991 میں اطالوی ایلپس کے دور دراز خطے میں دریافت ہوئی تھی اور یہ تقریباً پانچ ہزار سال تک برف میں منجمد رہی تھی۔
ویلشر کا کہنا ہے کہ ’اوٹزی کے جسم پر ملنے والے ٹیٹو بہت چھوٹے تھے اور یہ بہت مبہم تھے۔ یہ نقطے اور چند لکیریں تھی۔ ماہر بشریات کے خیال میں یہ آکوپنکچر طریقہ علاج کی کوئی قسم تھی جسے طبی مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا۔‘
’ماہر بشریات اس بات پر حیران ہیں کہ جلد کے کٹنے سے لگنے والے زخم کیسے بھریں ہوں گے اور یہ مانتے ہیں کہ اس میں مہینوں لگ گئے ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہSOUTHTYROLARCHAEOLOGYMUSEUM\EURAC\M.SAMAD
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’پتھر اور دھات کے زمانے کے درمیان اس وقت یہ سب کچھ کا علم ہونا بڑا حیران کن ہے۔ وہ یہ ٹیٹو بنا بیمار ہوئے بنوا لیتے تھے۔ یہ بہت حیران کن ہے کہ ان کے پاس یہ علم تھا۔‘
وقت کے ساتھ ساتھ ٹیٹو سب کے لیے اپنی کہانی بتانے کا ایک ذریعہ بن گئے۔
ویلشر ٹیٹو پر بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’افسانوی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کیپٹن جیمز کک، اٹھارویں صدی کے آخر میں بحرالکاہل میں اپنے سمندری سفروں کے دوران بہت سے ایسے افراد سے ملے تھے، جن کے جسموں پر ٹیٹو تھے۔ ان کے عملے کے 90 فیصد ارکان نے اپنے سمندری سفر کے روٹ کی نشاندہی کے لیے اپنے جسم پر ٹیٹو بنوا رکھے تھے۔‘
ویلشر کہتی ہیں کہ برطانوی بحریہ کے سپاہیوں کو بھی یہ روایت ورثے میں ملی اور انھوں نے اپنے سمندری سفروں کے دوران پیشاب اور بارود کا استعمال کرتے ہوئے ٹیٹو بنوانا شروع کر دیے۔ اس کو ’سمندری سیاہی‘ بھی کہا جاتا تھا۔
19ویں صدی کے آخر میں تھامس ایڈیسن کے پرنٹر کے طرز کی ایک ٹیٹو مشین بنائی گئی۔
’یہ سنہ 1875 میں تیار کی گئی تھی اور تب سے اب تک اس میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ اب بھی جلد میں ایک منٹ میں 50 سے تین ہزار مرتبہ چھید کرتی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جسم کا سب سے بڑا اعضا
جلد جسم کا سب سے بڑا اعضا ہے، یہ جسم کے 50 فیصد وزن کے برابر ہے اور اس کی سب سے اوپری سطح ہر 28 دن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ تو پھر ایسے میں ٹیٹو کی سیاہی جلد اترنے کے ساتھ ختم کیوں نہیں ہوتی؟
پروفیسر ویلشر یاد کرتی ہیں کہ جلد کی تین تہہ ہیں۔ جن میں سے اوپری سطح کو ایپی ڈرمس، درمیانی سطح کو ڈرمس اور جلد کی نچلی ترین سطح کو ہائیپوڈرمس کہتے ہیں۔ جلد کی درمیانی سطح پر خون کی شریانیں، اعصاب، پٹھے وغیرہ پائے جاتے ہیں جبکہ سب سے نچلی سطح پر جلد کی چکنائیت والی تہہ ہوتی ہے۔
وہ اس بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ٹیٹو کی سیاہی جلد کی دوسری سطح یعنی ڈرمس میں کندھی جاتی ہے جہاں درد کا پیغام دینے کی ذمہ دار شریانیں اور اعصاب ہوتے ہیں۔ جسم سے ٹیٹو اس لیے ختم نہیں ہوتے کیونکہ جلد کی اوپری سطح ان کی حفاظت کرتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ جب ٹیٹو بنوانے کے لیے سیاہی جو جلد کی دوسری سطح ڈرمس میں کندھی جاتی ہے تو آپ کے جسم کو پیغام ملتا ہے کہ ’اس میں زخم ہو گیا ہے‘ تو جسم کا حفاظتی طریقہ کار اس کے لیے وہاں وائٹ بلڈ سیلز کو بھیجتا ہے جو سیاسی کو فوری نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کو خون کی روانی میں شامل کر دیتے ہیں۔
تاہم وہ سیاہی جسم سے نکالنے کے لیے انسانی خلیوں کے لیے بہت زیادہ ہوتی ہے لہذا وہ وہیں رہ جاتی ہیں۔ اس لیے ہم اسے جلد کی اوپری سطح کے باوجود دیکھ سکتے ہیں۔










