فرانس: آنکھوں کے سیاہ ڈیلوں اور جسم پر بے تحاشہ ٹیٹوز والے استاد کو ننھے بچوں کو پڑھانے سے روک دیا گیا

Sylvain Helaine

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنوہ کہتے ہیں کہ ان کے ٹیٹو بچوں کو خود سے مختلف نظر آنے والے لوگوں کو اپنانا سکھاتے ہیں

فرانس میں اس استاد کو نرسری کے بچوں کو پڑھانے سے روک دیا گیا ہے جس کا جسم ٹیٹوز سے بھرا ہوا ہے۔ یہ فیصلہ ایک بچے کے والدین کی جانب سے ان کی ظاہری حالت کے بارے میں شکایت کے بعد کیا گیا۔

سیلوین ہیلین کے جسم، چہرے اور زبان پر ٹیٹو ہیں اس کے علاوہ انھوں نے اپنی آنکھوں کے سفید حصے یعنی ڈیلوں کو بھی سرجری کے ذریعے سیاہ رنگ کا کروا لیا ہے۔

تاہم 35 برس کے ہیلین چھ سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو ابھی بھی پڑھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ جس بچے کے والدین نے شکایت کی ہے وہ انھیں نہیں پڑھاتے اور ان کے شاگرد ان کے حلیے سے خوش ہیں کیونکہ وہ انھیں جانتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’یہ صرف تب ہوتا ہے جب لوگ مجھے دور سے دیکھتے ہیں وہ اس بارے میں بہت برا سوچ لیتے ہیں۔‘

Sylvain Helaine

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایک تین برس کے بچے نے اپنے والدین سے شکایت کی کہ اسے مجھے کو دیکھنے کے بعد رات کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں

ہیلین کو ’فریکی ہوڈی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ گذشتہ برس وہ پیرس کے نواحی علاقے کے ایک سکول میں پڑھاتے تھے اور وہاں ایک تین برس کے بچے نے اپنے والدین سے شکایت کی کہ اسے مجھے کو دیکھنے کے بعد رات کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ اس کے بعد اس بچے کے والدین نے تعلیمی اداروں کے حکام سے شکایت کی۔

دو ماہ بعد حکام نے انھیں آگاہ کیا کہ وہ چھ سال سے کم عمر کے بچوں کو نہیں پڑھا سکتے۔ ہیلین کہتے ہیں کہ وہ اس فیصلے پر بہت افسردہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے ٹیٹوز بچوں کو خود سے مختلف نظر آنے والے لوگوں کو اپنانا سکھاتے ہیں۔

Sylvain Helaine

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہیلین کو 'فریکی ہوڈی' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے

بی ایف ایم ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'جو بچے مجھے دیکھتے ہیں وہ برداشت کرنا سیکھتے ہیں۔ جب وہ بڑے ہوں گے تو شاید ان میں نسل پرستی اور ہم جنس پرستوں سے نفرت جیسے رجحانات نہ ہوں۔ وہ معذور لوگوں کو ایسے نہیں دیکھیں گے جیسے یہ کوئی سرکس ہو‘۔

ہیلین کو یہ تمام ٹیٹوز بنوانے میں چار سو ساٹھ گھنٹے کا وقت لگا۔ اس میں ان کی آنکھ میں سیاہی بھرنے کا وقت بھی شامل ہے جس کے لیے انھیں سوئٹزرلینڈ جانا پڑا تھا کیونکہ فرانس میں یہ غیر قانونی ہے۔