بھارت: ٹیٹو کی بدولت 24 سال بعد خاندان سے ملاپ

بھارت کے شہر ممبئی میں بچپن میں ایک ریلوے سٹیشن پرگم ہونے والا شخص جسم پر منفرد ٹیٹو ہونے کی وجہ سے چوبیس سال بعد اپنے خاندان سے دوبارہ ملا ہے۔
پولیس اہلکار گانیش راگوناتھ دہنگادی کی عمر چھ سال تھی جب وہ ٹرین پر اپنے والدین سے بچھڑ گئے۔
یتیم خانے میں پرورش پانے کے بعد گانیش نے پولیس میں نوکری اختیار کی اور اپنے خاندان کی تلاش شروع کی۔
ان کے پاس اپنے خاندان کی بڑی نشانی ان کے دائیں ہاتھ پر ان کی ماں کا ٹیٹو کیا ہوا نام تھا۔
تلاش کے دوران آخرکار گانیش ایک ادھیڑ عمر خاتون کے گھر پر پہنچا جس نے اس ٹیٹو کا ذکر کیا اور جب انھوں نے خاتون کو ٹیٹو دکھایا تو وہ رو پڑی۔
گانیش نے خاتون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ممبئی میں بی بی سی کے نامہ نگار کینجال پانڈے کو بتایا کہ ’انھوں نے جب اپنے بیٹے کے ہاتھ پر بنے ٹیٹو کے بارے میں وضاحت کی تو میں نے انھیں اپنا ہاتھ دکھایا۔‘
’وہ حیران رہ گئیں اور انھیں یقین نہیں آ رہا تھا۔ وہ خوشی سے چلانے لگیں، تمام گاؤں والے اور پڑوسی بھی چلانے لگے۔‘
گانیش کے دو چھوٹے بھائی اور دو چھوٹی بہنیں ہیں۔ ان کے والد وفات پا چکے ہیں جبکہ ان کی والدہ گھریلو ملازمہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’اب جبکہ میں کما رہا ہوں تو میری ماں کام کرنا چھوڑ سکتی ہیں اور میں پورے خاندان کی دیکھ بال کر سکتا ہوں۔‘
ان کی والدہ نے کہا ’میں بہت خوش ہوں۔ میرا بیٹا بچھڑ گیا تھا اور وہ پولیس سپاہی بن کر میرے پاس لوٹا ہے۔‘







