آن لائن اعترافی پلیٹ فارمز: دل ہلکا بھی ہو جائے اور کوئی نقصان بھی نہ ہو

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ہیریئٹ اوریل
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
اپنا دل ہلکا کرنے سے بہتر شاید ہی کوئی احساس ہو۔ لیکن اپنے راز کسی اور کے سامنے افشا کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔
خوف، شرمندگی اور رسوائی کا احساس ہمیں اپنے اندر چھپے راز ظاہر کرنے سے روکتا ہے۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو بات ہم چھپا رہے ہوتے ہیں وہ ہماری ذات سے متعلق نہیں ہوتی۔
لیکن راز رکھنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے محققین کے مطابق ایسا کرنے والے تھکاوٹ اور سماجی تنہائی کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے احساسات سے دوچار ہو جاتے ہیں جن میں انہیں اپنا آپ کچھ اچھا نہیں لگتا۔
تو ایسا کون سا طریقہ ہے کہ ہم ان رازوں سے پردہ بھی اٹھا سکیں جو دل پر بوجھ ہیں اور اپنا یا کسی اور کا نقصان بھی نا ہو؟ اس کا جواب ہے سوشل میڈیا اور گمنام اعترافی پیج۔
ایک محفوظ جگہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدیوں سے انسانوں میں ایک رواج رہا ہے جس کے تحت مذہبی رہنماؤں کے سامنے اعتراف کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ایک رواج یہ بھی دیکھنے کو ملا جس میں گمنام طریقے سے لوگ ریڈیو شوز میں فون کال پر اپنے راز ظاہر کر لیتے تھے۔
سنہ 1980 میں ایک آرٹسٹ نے معافی لائن کا آغاز کیا جو 15 سال تک چلی۔ اس پروگرام کے تحت نیویارک میں لوگ ایک مشین پر پیغام چھوڑ سکتے تھے یعنی ان کو اپنی غلطیوں کی معافی مانگنے کا راستہ مل گیا جس میں ان کا اپنا کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا تھا۔
اس پروگرام کی ٹیپس کو اب وسیع پیمانے پر ایک مشہور پوڈ کاسٹ کے ذریعے شیئر کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسروں کے اعتراف سننے میں اب بھی لوگوں کی بہت دلچسپی ہے۔
آج کی دنیا میں، جس میں نقص سے پاک اور انتہائی احتیاط سے بنائے جانے والے انسٹا گرام اکاؤنٹس کا دور ہے، انٹرنیٹ کا ایک ایسا نایاب کونا موجود ہے جہاں لوگ اپنی پہچان ظاہر کیے بغیر اصلی روپ دکھا سکتے ہیں۔ یہ آن لائن اعترافی پیجز صارفین کو گمنام رہتے ہوئے اپنے راز بتانے کا موقع دیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آغاز میں ایسے فورم اور چیٹ روم بنے جہاں اس طرح کا مواد نظر آتا تھا، لیکن بعد میں اس موضوع کے لیے ایپس تیار کر لی گئیں۔
اب ایسے سوشل میڈیا اکاوئنٹ بن چکے ہیں جو اس موضوع کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان میں مزاحیہ اکاؤنٹ بھی ہیں اور تباہ کن بھی، جبکہ کئی ایسے اکاؤنٹ بھی ہیں جن کی تاریخ کا سلسلہ سکول اور یونیورسٹی کی کمیونٹیز سے جڑا ہے۔
زہرا کمال عالم پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ماہر نفسیات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر لوگ آن لائن گروپس میں شریک ہو سکتے ہیں تو یہ گمنام طریقے سے دوسرے لوگوں سے سیکھنے کا بہترین موقع ہے جو آپ جیسے ہی تجربات سے گزر چکے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’جنسی معاملات اور تشدد جیسے ممنوعہ سمجھے جانے والے موضوعات پر کھل کر بات کرنے کے لیے ایسے فورم خاص طور پر مددگار ہوتے ہیں۔‘
زہرا کہتی ہیں کہ مسائل پر بات چیت کسی بھی ماہر نفسیات کے پاس آنے والوں کے لیے علاج کی حیثیت رکھتی ہے اسی لیے یہ حیران کن نہیں کہ اب لوگ انٹرنیٹ کو اس کام کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
روب مینویل برطانیہ کے شہر لندن سے تعلق رکھتے ہیں اور ٹوئٹر پر ایک مشہور اعترافی پیج فیس ہول چلاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 'انٹرنیٹ کے پرانے دور میں آپ کسی بھی فورم پر جا کر بنا کسی نیتجے کی پرواہ کے کوئی بھی بات کر سکتے تھے۔ آپ کا خاندان یا باس اس کو نہیں پڑھ سکتا تھا اور وہ ایک محفوظ مقام تھا جہاں آپ کچھ بھی کہہ سکتے تھے۔ جیسے جیسے وقت بدلتا گیا، اگر آپ کوئی غلط بات کرتے تو آپ کی دنیا الٹ سکتی تھی۔'
روب کہتے ہیں کہ ’سوشل میڈیا ایک مشین جیسا ہے جس کو گھماتے رہیں تو آپ ہزاروں لائکس جیت سکتے ہیں اور اگر آپ ہار جائیں تو نوکری سے بھی ہاتھ دھو سکتے ہیں۔‘
فیس ہول کا آغاز تقریبا ڈھائی سال پہلے ہوا تھا۔ آج اس پیج کے سوا تین لاکھ صارفین ہیں۔ روب کو گمنام طریقے سے روزانہ تقریباً سینکڑوں اعترافی بیانات بھیجے جاتے ہیں جن میں سے وہ صرف 16 چن کر اپنے قارئین کے سامنے رکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 'میرا کام ایک مدیر کا ہے، میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں لاتا جو سچ یا اعتراف نہیں ہوتا۔ کچھ باتیں اتنی بے رحمانہ بھی ہوتی ہیں کہ ان کو چھاپ کر میں ان کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہتا۔‘
فیس ہول پر بھیجے جانے والے بیانات کی مثال میں ایک استاد کا یہ اعتراف بھی شامل ہے جو ماسک کے پیچھے سے طلبا کو گالیاں دیتا ہے۔
ایک اور شخص نے اعتراف کیا کہ ’میرے سوتیلے والد کا انتقال گزشتہ سال ہوا تو میری والدہ بہت غمگین تھیں۔ مجھے ان کی چیزوں میں سے ان کے پاس ورڈ تلاش کرنے تھے۔ ایسا کرتے ہوئے مجھے علم ہوا کہ وہ آن لائن ڈیٹنگ سائٹس پر ایک افیئر چلا رہے تھے۔ میں نے اپنی والدہ کو اس بارے میں کبھی نہیں بتایا کیوں کہ ان کا دل ٹوٹ جاتا۔‘
روب کہتے ہیں کہ وہ اپنے پیج کو مزاحیہ رکھنا چاہتے ہیں لیکن کبھی کبھار جذباتی کہانیاں بھی لگاتے ہیں۔
شرمندگی اور رسوائی کا مقابلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اولیویا پیٹر برطانیہ میں دی سیکرٹس کیپٹ نامی فورم چلاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جس میں ذاتی معاملات پر دوستوں اور خاندان سے بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ’خصوصا اگر کسی معاملے پر آپ بہت حساس ہیں تو آپ گمنام طریقے سے آن لائن اظہار کرنے کو زیادہ محفوظ سمجھیں گے۔ اسی لیے تو لوگ ماہر نفسیات کے پاس جاتے ہیں کہ ان کو وہ باتیں بتا سکیں جو دوستوں سے نہیں کی جا سکتیں۔‘
دی سیکرٹس کیپٹ ایک ایسا فورم ہے جہاں اعتراف کیے جاتے ہیں اور ان کے بارے میں بات چیت ہوتی ہے۔ اس پیج پر ایک ایسی خاتون کا اعتراف بھی شامل ہوا جن کو ماں بننے پر افسوس تھا۔ ایک اور فرد نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے پارٹنر سے محبت تو کرتے ہیں لیکن ان کی جنسی زندگی بہت نا خوشگوار ہے۔
اس اکاوئنٹ کے صارفین میں ماہر نفسیات بھی ہیں جو حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ مشورے بھی دیتے ہیں۔
اولیویا کا کہنا ہے کہ راز ظاہر کرنے سے لوگ کم تنہا محسوس کرتے ہیں اور ایک ایسے وقت میں جب وہ پہلے ہی تنہائی کا شکار ہیں وہ دوسروں سے جڑ بھی جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ان مسائل سے جڑی شرمندگی سے بھی نمٹنے میں آسانی ہوتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اس پیج کو لوگوں نے بہت پسند کیا اور مجھے خوشی ہے کہ اس سے ان کی مدد ہو رہی ہے۔ امید ہے کہ اس پیج کے ذریعے لوگوں کو اس رسوائی کا سامنا کرنے میں مدد ملے گی اور ان کو معلوم ہو گا کہ ان کے احساسات جائز ہیں۔‘
سائبر غنڈہ گردی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آن لائن اعترافی پلیٹ فارمز کی ایک بد صوت شکل بھی ہے۔ خصوصا ایسے پلیٹ فارم جن پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔
ایک جانب گمنامی کھلی بات چیت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، تو دوسری جانب یہی گمنامی ان لوگوں کو بھی تحفظ دیتی ہے جو دوسروں پر ظالمانہ اور لاپرواہ رائے دیتے ہیں۔
صراحا نامی ایپ کو 2018 میں گوگل اور ایپل سٹور سے اس وقت ہٹا دیا گیا تھا جب اس پر الزام لگا تھا کہ یہ سائبر غنڈہ گردی کی معاونت کر رہی ہے۔
صراحا کو، جس کا مطلب عربی میں ایمانداری ہے، اس مقصد سے بنایا گیا تھا کہ کسی جگہ کام کرنے والے افراد اپنے ساتھیوں کی اپنے بارے میں گمنام لیکن ایماندارانہ رائے جان سکیں۔
لیکن اسے استعمال کرنے والوں نے اس پلیٹ فارم پر غنڈہ گردی شروع کر دی۔ ایسی ہی ایپس میں وسپر، سیکرٹ اور آسک ڈاٹ ایف ایم بھی شامل ہیں جن کے غلط استعمال کی روک تھام میں ناکامی پر ان کو بند کر دیا گیا۔
زہرا کا کہنا ہے کہ آن لائن فورمز کو کچھ لوگ غلط مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں جس سے کمزور لوگوں کی حفاظت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
’اگر ایسے فورمز کو بنا کسی کنٹرول کے چھوڑ دیا جائے تو ان سے فائدے کی بجائے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔ لوگوں کو غلط قسم کے پیغامات ملتے ہیں اور وہ زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں کہ ذہنی مسائل کو کس طرح حل کیا جائے کیوں کہ ان کو آدھی معلومات اور مشورے مل رہے ہوتے ہیں۔‘
اعتراف کی دنیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان تمام مسائل کے باوجود اعترافی پیج ایک ایسا رجحان ہے جو دنیا بھر میں مسلسل بدل رہا ہے۔
دنیا بھر میں یونیورسٹیز اور کالجز میں اعترافی فیس بک اکاوئنٹ بن چکے ہیں جہاں پر طلبا کو سوشل میڈیا کے ذریعے ایک اجتماعی کمیونٹی کا احساس ملتا ہے۔
ہانگ کانگ میں ایسے انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی موجود ہیں جو سیکس اور تعلق پر اعتراف اور جواب کی شکل میں مشورے دیتے ہیں۔
پاکستان میں غم کے گھنٹے کے نام سے ایک ٹوئٹر ٹرینڈ بھی چلا جس میں صارفین اپنے جزباتی اور ایماندارانہ خیالات کا آدھی رات کو اظہار کرتے ہیں جو گمنام نہیں ہوتا لیکن اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک اجتماعی اعترافی کمیونٹی موجود ہے۔
جنوبی کوریا میں ایسی ویب سائٹس موجود ہیں جن کو بانس کے جنگلات کہا جاتا ہے۔ اس نام کی وجہ ایک کہانی ہے جس میں ایک شخص بادشاہ کا راز اپنے تک نہیں رکھ پاتا اور جنگل میں جا کر بول دیتا ہے جس کے بعد جب بھی ہوا چلتی تو جنگل اس راز کو دہرا دیتا۔
اعتراف کرنے کے فوائد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بھی پڑھیے
کئی لوگوں کے لیے گمنام طریقے سے آن لائن اعتراف کرنا بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مینٹل ہیلتھ گیپ ایکشن پروگرام کے ایک اندازے کے مطابق کم آمدن والے ممالک میں تقریباً 75 فیصد لوگ جو ذہنی مرض کے شکار ہوتے ہیں طبی ماہرین تک رسائی نہیں رکھتے۔
زہرا کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہنی مرض کے علاج میں بہت بڑا خلا موجود ہے۔
'تربیت یافتہ ماہرین کی کمی، بچاؤ کے اقدامات پر کم توجہ، دیہی اور کم آمدن والے افراد تک محدود رسائی اور ذہنی امراض سے جڑی رسوائی بھی اس مسئلے کی وجہ ہیں۔'
زہرا کے مطابق ذہنی علاج تک رسائی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے لیکن اب تک یہ شہری اور متمول طبقے تک ہی محدود ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک ماہرانہ نفسیاتی علاج فراہم کرنے کے طور پر ان کا تجربہ بتاتا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر اعتراف کرنے اور راز بتانے کے لیے محفوظ جگہ کا قیام نہایت ضروری ہے۔
’اپنے مسائل کے بارے میں بات کرنا صحت مند ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ چند لوگوں کے لیے منفی تجربہ بھی ہو سکتا ہے جس کے دوران ان کو ایسے جزبات کا سامنا ہو سکتا ہے جو نقصان دہ ہوتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ لوگ محفوظ محسوس کریں اور اگر وہ اس دوران بے چین ہوں تو ان کی مدد کے لیے بھی سہولت میسر ہو۔
فرانس میں انسٹا گرام پیج چلانے والے سائیکو تھراپسٹ اینجلو فولے کہتے ہیں کہ آن لائن اعتراف کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ان کی گمنام پوسٹ پڑھنے والے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’کسی کا اعترافی بیان پڑھنا ناول پڑھنے جیسا تجربہ ہوتا ہے۔ ہم خود کو کسی کی جگہ رکھتے ہیں اور اپنا آپ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، دوسروں کی کہانیاں ہمارے اندر کے جذباتی عمل کو ابھارتی ہیں۔‘
اینجلو کا اکاؤنٹ تقریباً 70 ہزار صارفین کے لیے گمنام طریقے سے ان کے اندرونی ڈر کی کہانیاں سامنے لاتا ہے۔
’اس سے ایک نہ ختم ہونے والے تجسس کو تسکین ملتی ہے جو تمام انسانوں میں موجود ہوتا ہے۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ دوسروں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ہم اچھی طرف ہیں یا بری طرف۔'
وہ کہتے ہیں کہ ’گمنامی سے تحفظ کا احساس ملتا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں دوسرے ہمارے بارے میں کوئی رائے قائم نہ کر لیں، یا ہمارے قریبی لوگ ہماری اس دنیا تک رسائی حاصل نہ کر لیں جو ہم نے چھپا کر رکھی ہوئی ہے۔‘
اینجلو اپنے اکاؤنٹ پر اپنے خوف بتانے والے پہلے شخص تھے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی تربیت نے ان کو ایسی مہارت دی ہے کہ وہ لوگوں کے لیے ایسی محفوظ جگہ بنا سکیں جہاں وہ اپنے ڈر سامنے لا سکیں۔
’ہماری زندگی کے تجربات میں ڈر کہیں نہ کہیں ضرور پایا جاتا ہے، ہماری تکلیف میں، ہمارے وقتی مسائل میں، یا پھر وجود سے متعلق سوالات میں۔‘
’ایسی کوئی جگہ موجود نہیں تھی جہاں پر ہم اپنے اس ڈر کے بارے میں کھل کر بات کر سکیں اس لیے میں نے یہ اکاؤنٹ بنایا تاکہ انسٹاگرام پر لوگوں کی بے داغ لیکن جھوٹی زندگی کے علاوہ بھی کچھ ہو۔‘












