فالکن نائن: ایلون مسک کی کمپنی سپس ایکس کا بے قابو راکٹ جو 4 مارچ کو چاند سے ٹکرائے گا

سپیس ایکس راکٹ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسپیس ایکس کے راکٹ فالکن نائن کو سنہ 2015 میں لانچ کیا گیا تھا
    • مصنف, جیورجینا رینارڈ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

امریکی نجی راکٹ کمپنی سپیس ایکس کا ایک راکٹ جسے سنہ 2015 میں موسمیاتی سیٹلائٹ کو لانچ کرنے کی غرض سے خلا میں بھیجا گیا تھا، چار مارچ کو چاند کی سطح سے ٹکرا جائے گا۔

مشن کی تکمیل کے بعد فالکن نائن نامی اس راکٹ میں اتنا ایندھن نہیں تھا کہ وہ واپس زمین پر پہنچ سکے جس کی وجہ سے وہ خلا میں ہی رہ گیا تھا۔

ماہر فلکیات جوناتھن میکڈاول نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہو گا جس میں ایک بے قابو راکٹ چاند سے ٹکرائے گا۔

جوناتھین میکڈاول سائنسدانوں کی اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے تحربے کے طور پر ایک راکٹ نما چیز کو چاند سے ٹکرایا تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ فالکن نائن کے چاند سے ٹکرانے سے معمولی سا اثر ہو گا۔

یہ راکٹ ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس کا حصہ ہے جو انسانوں کو دوسرے سیاروں تک لے جانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

سنہ 2015 سے زمین، چاند اور سورج کی مختلف کشش ثقل اس راکٹ کو کئی سمتوں میں کھینچ چکی ہیں، جس کی وجہ سے اس کا راستہ گڈ مڈ ہو گیا۔

ماہر فلکیات جوناتھن میکڈاول کا کہنا ہے کہ ’یہ راکٹ اب کشش ثقل کے اصول پر چل رہا ہے۔‘

سپیس ایکس لانچ
،تصویر کا کیپشنایک آرٹسٹ کی نظر سے سپیس ایکس لانچ کا منظر

یہ راکٹ اس فضائی کچرے کا حصہ ہے جنھیں خلائی مشنوں کی تکمیل کے بعد واپسی کے لیے ایندھن کی کمی کی وجہ سے خلا میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

پروفیسر جوناتھن میکڈاول کے مطابق گذشتہ 10 برس میں 50 کے قریب ایسے بڑے ڈھانچے بے قابو ہوئے لیکن یہ پہلی بار ہے کہ اس کی باقاعدہ تصدیق ہو سکی ہے۔

امید کی جا رہی کہ فالکن نائن راکٹ چار مارچ کو چاند سے ٹکرا کر پھٹ جائے گا۔

پروفیسر جوناتھن میکڈاول کے مطابق یہ چار ٹن وزنی دھات کا ایک ٹینک ہے جو پانچ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ایک چٹان سے ٹکرائے گا، جس سے ایک چھوٹا سا مصنوعی گڑھا بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

اس سے پہلے سنہ 2009 میں ماہر فلکیات ایک تجربے کے طور تقریباً اسی راکٹ کے سائز کی ایک اور چیز کا چاند کی سطح سے ٹکرانے کا تجربہ کر چکے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ فالکن نائن کے چاند سے ٹکرانے سے سائنسدانوں کی معلومات میں کچھ خاص اضافہ نہیں ہو گا۔

پروفیسر جوناتھن میکڈاول کہتے ہیں ابھی تک تو خلا میں پھیلے ہوئے کچرے سے کوئی خطرہ نہیں لیکن مستقبل میں ہو سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر مستقبل میں چاند کی سرزمین پر بستیاں قائم ہوتی ہیں تو ہمیں خلائی کچرے کے بارے معلومات چاہیے ہوں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ابھی خلا میں کچرے کی مقدار زیادہ نہیں لیکن ہمیں اس وقت تک انتظار نہیں کرنا چاہیے جب یہ ایک مسئلے کی شکل اختیار کر لے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب سے چار مارچ تک کیا ہو گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فالکن نائن کشش ثقل کے اصولوں کے تحت چاند کی جانب بڑھتا رہے گا اور چار مارچ کو چاند سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائے گا۔