انٹرنیشنل سپیس سٹیشن روسی خلائی جہاز کے راکٹ چلنے سے ’لڑکھڑا گیا‘

آئی ایس ایس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دنیا کے گرد گھومنے والا بین الاقوامی خلائی سٹیشن یا آئی ایس ایس اس وقت اپنے مدار سے لڑکھڑا گیا جب وہاں پہنچنے والے ایک روسی خلائی جہاز نے غلطی سے اپنے راکٹ چلا دیے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق مشن کنٹرول کے عملے نے غلطی کی درستگی کے لیے فوری اقدامات اٹھائے اور اب تمام سسٹم معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

اس چھوٹی سے غلطی سے کوئی بڑا حادثہ بھی پیش آ سکتا تھا تاہم مشن کنٹرول میں موجود اہلکاروں نے خلائی سٹیشن کے ایک اور حصے پر نصب راکٹ چلا کر آئی ایس ایس کی حرکت پر قابو پا لیا۔

واقعے کی تفتیش ہو رہی ہے تاہم امریکی اور روسی حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پر موجود سات خلابازوں کبھی بھی خطرے میں نہیں تھے۔

Nauka on approach

،تصویر کا ذریعہNASA

یہ واقعہ جمعرات کو روس کے ’نوکا‘ نامی خلائی جہاز کی انٹرنیشنل سپیس سٹیشن آمد کے کچھ گھنٹوں بعد پیش آیا، جو کہ آٹھ دن کی پرواز کے بعد آئی ایس ایس تک پہنچا تھا۔

ناسا کی ایک ٹویٹ کے مطابق روسی خلائی جہاز کے راکٹ ’حادثاتی اور غیر متوقہ طور پر چل پڑے جس کی وجہ سے سٹیشن اپنی بلندی سے 45 ڈگری گر گیا۔‘

Nauka docked in position

،تصویر کا ذریعہNASA

ان کا کہنا تھا کہ اصلاحی اقدامات کی بدولت خلائی سٹیشن کو اس کی متعین بلندی پر واپس لے آیا گیا ہے اور اسے کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔

تاہم حادثے کے وقت خلائی سٹیشن کے عملے سے مشن کنٹرول کا رابطہ کئی منٹوں کے لیے منتقع ہو گیا تھا لیکن آئی ایس ایس میں موجود خلا بازوں کے مطابق انھیں کوئی بڑا جھٹکا محسوس نہیں ہوا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اس حادثے کی وجہ سے ناسا اور ہوابازی کی کمپنی بوئنگ کو اپنے ایک خودکار خلائی جہاز ’سٹار لائنر‘ کی آزمائشی پرواز بھی 30 جولائی سے 3 اگست تک ملتوی کرنی پڑی۔