انٹرنیشنل سپیس سینٹر: کیا خلا نوردوں کو خلائی سٹیشن چھوڑ کر واپس آجانا چاہیے؟

خلا باز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, رچرڈ ہالنگھم
    • عہدہ, نامہ نگار سائنس

میں سنہ 1998 میں 20 نومبر کے دن صبح 6.50 کے وقت قازغ پہاڑ کے دامن میں ایک چٹان کے پیچھے سخت سردی میں اپنا موبائل فون کان پر لگائے بیٹھا تھا۔ ہلکی سی برف باری کی وجہ سے سامنے کی مٹی نیلگوں آسمان سے ملتا ہوا رنگ پیش کر رہی تھی۔ میری پشت پر ایک عارضی طور پر تعمیر شدہ کمرے میں ووڈکا پیے ہوئے بہت سارے لوگوں کی روسی زبان میں شور شرابے کی آوازیں آرہی تھیں۔ لیکن یہ آوازیں روسیوں کے ایک جشن منانے کا شور شرابہ تھا۔

کہیں دور فاصلے پر یک رنگی مزین زمینی منظر میں ایک سفید رنگ کا پورٹن راکٹ ساکت کھڑا نظر آرہا تھا، اپنے لانچنگ پیڈ میں تنہا۔ اور پھر دفعتاً ایک بڑی چمک پیدا ہوئی اور ایک گرج کی گنگناہٹ کے بعد یہ زمین سے فضا میں بلند ہونا شروع ہو گیا۔

جب راکٹ آسمان کی طرف بلند ہونے کے بعد بادلوں میں نظروں سے اوجھل ہو رہا تھا میں اس منظر کو بی بی سی کے ریڈیو کے سامعین کے لیے بیان کر رہا تھا۔ آخر یہ ایک تاریخی موقع تھا --- ’زریا موڈیول‘، بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے پہلے مرحلے کا سفر۔

میری بہترین کوششوں کے اور اس واقعے کی اہمیت اجاگر کرنے کے باوجود، اس دن کے پروگرام میں یہ اول خبر یعنی لیڈ نہ تھی۔

اس بات سے کہ بی بی سی نے ایک جونیئر رپورٹر کو اس واقعے کی کوریج کے لیے بھیجا، بجائے اس کے کہ کسی سینیئر کو بھیجتے، ایک حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ ایڈیٹر نے اس سٹوری کو اور ساتھ ہی ان لوگوں نے جنھوں نے یہ خبر سنی ہو گی، کتنی اہمیت دی ہو گی۔

بین الاقوامی خلائی سٹیشن پہلے ہی ایک برس کی تاخیر سے لانچ ہو رہا تھا اور اپنے تخصیص شدہ بجٹ سے کہیں زیادہ اس پر اخراجات ہو چکے تھے۔ برطانیہ کی خلائی ایجنسی کے شعبہ سائنس کے سربراہ نے اس سٹیشن کو مدار میں گھومنے والا سفید ہاتھی کہا تھا اور برطانیہ نے اس میں فنڈ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

کئی ایک افراد کو اس پر بھی شک تھا کہ آیا اس سٹیشن کی تعمیر کبھی مکمل بھی ہو سکے گی۔

یہ بھی پڑھیے

خلائی راکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ لوگ غلط تھے۔ بین الاقوامی خلائی سٹیشن امریکی فٹ بال کی پِچ کے برابر ہے جس میں چھ بیڈ رومز کے گھر کی گنجائش ہے، یہ کسی بھی لحاظ سے انجینیئرنگ کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ اس کی تعمیر پر 150 ارب ڈالرز خرچ ہوئے، جو امریکہ، روس، یورپ، کینیڈا اور جاپان کے ٹیکس ادا کرنے والوں نے اٹھائے۔ یہ خلا نوردوں کا 20 برس سے گھر ہے۔

ایکسپیڈیشن-1 کے مشن سے لے کر نومبر 2000 کے سٹیشن تک، اس میں انسانوں کی مسلسل موجودگی رہی ہے، اور یہ مدار میں رہتے رہے ہیں اور وہیں کام کرتے رہے ہیں۔ اس لحاظ سے 19 ممالک سے 243 خلانورد اس سٹیشن میں رہ چکے ہیں اور یہاں تقریباً 3000 سائنسی تجربات کیے جا چکے ہیں۔

بہرحال اس بات پر آج بھی شک کیا جاتا ہے کہ جتنا اس سٹیشن کے بنانے میں خرچہ ہوا کیا اس کا اتنا فائدہ ہوا ہے ۔۔۔ اور کیا اس کا زمین پر ہمارے لیے فائدہ ہے؟

اور اب جبکہ دنیا وبا کی گرفت میں ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں، کچھ لوگ اب بھی انسان کے خلا میں بھیجے جانے کے خیال کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔

برطانیہ کے فلکیات اور خلائی طبیعات کے ماہر، لارڈ ریس آف لڈلو کہتے ہیں کہ ’میں تو اس خلائی سٹیشن کی حیثیت کو اربوں ڈالر کی رقم کے برابر نہیں سمجھتا ہوں۔ خلا میں جانے والے ان سینکڑوں افراد نے اب تک کوئی بھی ایسا سائنسی کارنامہ سرانجام نہیں دیا ہے جو اتنی بری رقم سٹیشن اور اس پر جانے کے لیے شٹلوں پر خرچ ہوئی ہے اس کے ایک رتی بھر حصے کا جواز دے سکے۔‘

لارڈ ریس کہتے ہیں کہ اِس خلائی سٹیشن کی جگہ ہمیں عوام کے ٹیکس سے جمع کی گئی اتنی بڑی رقم ان خلائی مشن میں روبوٹکس پر خرچ کی جائے جنھوں نے کائنات کے بارے میں ہمارے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس وقت ایسے روبوٹکس خلائی جہاز زمین پر تصویریں بھیج رہے ہیں اور مریخ اور مشتری سیاروں سے ڈیٹا اور دیگر معلومات بھیج رہے ہیں۔ جبکہ جڑواں وائیجر نظامِ شمسی کے بارے میں تحقیقات کے لیے روانہ ہو گئے ہیں اور اس لحاظ سے ستاروں کے درمیان کے خلائی خطے میں داخل ہونے والی انسان کے بنائی ہوئی پہلی شہ بن گئے ہیں۔

خلائی سیارہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 2014 میں انسان زمین سے 56 ہزار ارب میل کے فاصلے پر پچپن ہزار میل فی گھنٹہ رفتار سے خلا میں حرکت کرتے ہوئے ایک چار کلو میٹر چوڑے دمدار ستارے (کومیٹ) پر ایک تحقیقاتی مشن بھیجنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔

لارڈ ریس آف لڈلو کہتے ہیں کہ ’اگر ہم پوچھیں کہ بین الاقوامی خلائی مشن کا خبروں میں کتنا ذکر آتا ہے تو اس لحاظ سے اس خلائی سٹیشن کے مقابلے میں ہبل اور مریخ، مشتری اور زحل کے تحقیقاتی مشنوں سے بہت زیادہ خبریں آتی ہیں۔ یہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن اس وقت خبروں میں آتا ہے جب کرِس ہیڈ فیلڈ کسی معاہدے پر دستخط کرتا ہے یا جب اس کا ٹائلیٹ پیپر کام نہیں کر رہا ہوتا ہے۔ اس لیے میرے خیال میں اس خلائی مشن پر مستقبل میں انسانوں کو بھیجے جانے کا جواز دینا اب کافی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘

اس خلائی سٹیشن کے خلا میں سنہ 1998 میں روانہ ہونے کے وقت سے اب تک بہت کچھ بدل چکا ہے۔ خلائی سٹیشن لوگوں کے سرکاری ٹیکس کے پیسوں سے چلایا جا رہا ہے جبکہ اس وقت سپیس ایکس کے ایلن مسک اور ایمازون کے بانی دنیا کے امیر ترین شخص، جیف بیزوس جیسے افراد نے نجی شعبے میں اس کام کا آغاز کر دیا ہے۔

اس وقت جبکہ امریکی خلائی ادارہ ناسا سنہ 2024 میں انسان کو ایک مرتبہ پھر سے چاند پر لے جانا چاہ رہا ہے، مسک مریخ پر تنصیبات تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کر رہا ہے اور یہاں تک کہ وہاں مرنے کے بھی خیالات زیرِ بحث ہیں (جس کا کوئی اثر نہیں بنا ہے)۔ بیزوس خلا میں تبدیل ہوتی ہوئی انسانی بستیاں بنانے پر غور کر رہا ہے۔ لیکن خلائی علوم کے ماہرین دنیا میں اپنے مسائل چھوڑ کر خلا میں منتقل ہونے کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایرو سپیس اور خلائی امور کی محقق، لنڈا بلنگز کہتی ہیں کہ ’انسان کا خلا میں سفر کا خیال کرپٹ ہے۔‘ لنڈا پہلے انسان کے خلائی سفر کے خیال کی حمایت کرتی تھیں لیکن امریکہ کے نیشنل کمیشن کے 'خلا' میں کام کرتے ہوئے ان کے خیالات میں تبدیلی آئی۔ حال ہی میں ان کی ایک تصنیف شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے ’کیا انسان کو دوسرے سیاروں پر اپنی آبادیاں بنانی چاہیے یا نہیں‘

وہ کہتی ہیں کہ ’کرپٹ سے میری مراد بے ربط ہونا ہے۔ یہ ناکافی ہے، یہ بہت زیادہ مہنگا کام ہے، اور پھر سب سے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اس کام کا مقصد کیا ہے؟‘

ان کی دلیل ہے کہ انسان کی خلا میں سفر کرنے کی خواہش کی وجہ سائنس نہیں ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ’اس کی بنیاد ایک عقلی دلیل ہے ۔۔۔ یہ ایسا نظریاتی معاملہ ہے جسے میں ایک کمزور دلیل سمجھتی ہوں، اس نظریاتی دلیل کا وجود کائنات کو مسخر اور اسے استعمال کرنے کے عقیدے پر کھڑا ہے۔‘

آپ کہہ سکتے ہیں کہ تسخیر کے بغیر تہذیب کا وجود ناممکن ہے۔ اور شاید ہی کوئی نئی راہ دکھانے والے ان خلانوردوں کی جرات پر شک کرے گا جو ایک راکٹ میں جکڑی حالت میں بیٹھے مدار میں یا چاند پر جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خلائی سٹیشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم بلنگز ہمارے اس خیال کی تحریک پر سوال اٹھاتی ہے اور کہتی ہے کہ ہم سائنسی تحقیق اور خلائی ٹیکنالوجی کی بہتری کے لیے کائنات کی تسخیر کا کام کر سکتے ہیں اور خلا کو استعمال کر سکتے ہیں ۔۔۔ لیکن انسان کو زمین پر ہی رہنا چاہیے۔

وہ کہتی ہے کہ ’ناسا آب و ہوا کی تبدیلی پر تحقیقات کا بہت اچھا کام کر رہا ہے، اور جو اس پر عملدرآمد ہوتا ہے وہ ہمارے سیاسی نظام اور کاروباری دنیا سے وابستہ دنیا نے کرنا ہوتا ہے، ان سب باتوں کا بہت شکریہ لیکن ہمیں ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انسان کی خلا کی تسخیر سے بنگلہ دیش اور انڈیا میں رہنے والے لوگوں کو کیا فائدہ پہنچے گا جن کی زندگیوں کا دار و مدار پانی پر ہے جو بالآخر ختم ہو جانے والا ہے۔ میں ان روز مرہ مسائل کے بارے میں زیادہ تشویش رکھتی ہوں۔‘

اور خلائی تحقیقاتی پروگراموں کی بنیاد میں جو بات ہے وہ عدم مساوات ہے ۔۔۔ کس کو جانا چاہیے؟ سوائے ایک استثنیٰ کے یعنی خلانورد ویلینٹینا ٹرشکووا کے، خلائی نوردوں کی پہلی نسل میں سارے گورے مرد تھے۔ زیادہ تر فوجی پائلٹ تھے۔ آج بھی زیادہ تر خلاباز پائلٹ ہیں اور سابق فوجی ہیں۔

سنہ 1969 میں چاند پر اپولو 11 کے چھوڑے جانے سے کچھ عرصہ پہلے امریکہ کے جنوبی حصے کے سیاہ فام کیپ کیناورال میں خلائی مشن پر بھیجے جانے والے مردوں میں عدم مساوات اور ملک بھر میں غربت کے معاملے کو اجاگر کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ امریکہ کی سول رائٹس تنظیم کے فعال کارکن رابرٹ پٹیلو کی پیشین گوئی ہے کہ آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’سنہ 2050 تک خلائی سٹیشن نجی ملکیت میں ہوں گے جہاں لوگ اپنی چھٹیاں گزارنے کے لیے جانے کے قابل ہوں گے، اور اگر آمدنی ہونے کی وجہ سے موقع ملا تو اس صدی کے آخر تک چاند پر بھی ایسے سٹیشن ہوں گے۔‘

پٹیلو کہتے ہیں کہ ’اصل سوال یہ کیا جائے گا کہ: ہم اس بات کو کیسے یقینی بنائیں گے کہ جو لوگ ان منصوبے سے استفادہ کریں گے وہ دنیا پر صحتِ عامہ، صاف پانی کی فراہمی اور تعلیمی نظام کے لیے اپنا مناسب حصہ ڈال رہے ہیں۔ یہ وہ بنیادی باتیں ہیں جن کے کیے جانے سے ایک معاشرہ معمول کے مطابق کام کرتا ہے۔‘

فرض کریں کہ اگر کل کو ایلن مسک مریخ تک پہنچ جاتا ہے تو کیا وہاں تشکیل پانے والا معاشرہ اُس خیالی معاشرے کے قریب بھی ہو گا جس کا اکثر لوگ خواب دیکھتے ہیں۔ اس سیارے کی سطح سرخ صحرا کی وجہ سے بہت زیادہ گرد آلود ہے ۔۔۔ وہاں سانس لینے کے لیے ہوا نہیں ہے، کھانے کے لیے خوراک نہیں ہے، اور پانی برف میں دبا ہوا ہے۔

مریخ پر آباد ہونے والے پہلا شخص زمین سے اوسطاً ساڑھے 22 کروڑ کلو میٹر دور ہو گا اور کسی مدد کے لیے اس کے ہنگامی پیغام کو زمین پر پہنچنے میں 24 منٹ لگ سکتے ہیں اور مزید 24 منٹ اس کا جواب اس تک پہنچنے میں صرف ہوں گے۔

بلنگز کہتی ہے کہ ’انسان زمین کو چھوڑ کر کہیں اور جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم وہاں جانے کا سوچیں ہمیں عقلی، سماجی، اخلاقی سطح پر ابھی بہت زیادہ ارتقا درکار ہے۔‘

لہٰذا کیا ہم خلا میں اپنی آبادیاں بنانے کا کام جلد بازی کے ساتھ جاری رکھیں گے؟ لارڈ ریس کہتے ہیں کہ ہمیں انسان ہونے کی وجہ سے اپنی حدود کو سمجھنا ہو گا جس کا کرہِ ارض پر ارتقا ہوا ہے۔

’ہمیں اپنے آپ کو ارتقا کی انتہائی اعلیٰ منزل نہیں سمجھنا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ اس میں چند صدیاں لگیں گی جب ان چیزوں کا اس طرح کا وجود ممکن ہو گا جو کہ موجودہ انسان سے مختلف ہوں گی ۔۔۔ یہ شاید انسانی گوشت پوست کی طرح ہوں، جیننیاتی طور پر تبدیل شدہ ہو سکتی ہے، یا یہ الیکٹرانک صورت میں ہو سکتی ہے۔ جس میں نوعِ انسانی بھی شامل ہو سکتی ہے جو شاید کرہِ ارض سے آگے ستاروں پھر کمندیں ڈال رہے ہوں، جو ایک لحاظ سے ہماری آل اولاد بنتے ہوں گے۔‘

بین اقوامی خلائی سٹیشن کے گھر کو اپنا گھر سمجھنے کے 20 برس بعد اس نے ہمیں خلا میں رہنا اور کام کرنا سکھایا ہے ۔۔۔ جس میں انسان ایک کیپسول نما ٹن میں مکمل بند ہوتے ہیں، محفوظ کی گئی غذا کھاتے ہیں، اور دوبارہ استعمال میں لا کر پسینہ اور پیشاب پیتے ہیں ۔۔۔ یہ سب کچھ مشکل کام بھی ہے اور بہت مہنگا بھی۔

شاید خلائی سٹیشن کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے ہمیں زمین کی قدر کرنا سکھائی ہے۔ آپ کسی بھی خلانورد سے اس کے تجربے کے بارے میں بات کریں وہ دنیا کے بارے میں ایک ناقابلِ یقین تصویر کشی کرے گا جو انھیں بہت متاثر کرتی ہے ۔۔۔ اور ہم میں سے بھی اکثر کو۔