خلا سے کچرا ہٹانے کے لیے جاپان کا خلائی مشن روانہ

،تصویر کا ذریعہAP
جاپان نے ایک کارگو خلائی جہاز خلا میں بھیجا جو تقریبا 700 میٹر لمبے ایک آلے کی مدد سے زمین کے مدار میں موجود خلائی کچرے کا کچھ حصہ ہٹائے گا۔
یہ آلہ ایلمونیم اور سٹیل کے تاروں سے بنا ہوا ہے اور اس کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ خلائی کوڑا کرکٹ کو مدار سے باہر کھینچ لائے گا۔
یہ جدید اور منفرد آلہ ایک مچھلیاں پکڑنے والے جال بنانے والی کمپنی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق راکٹوں کے خالی خول، مردہ سیٹیلائٹ، شیشے کے ٹکڑے اور پینٹ کے ذرات خلا میں تیر رہے ہیں، خلا میں موجود یہ کوڑا تقریباً ایک کروڑ ٹن وزنی ہے اور خلائی دور کے آغاز سے اب سے پھیل رہا ہے۔
سیٹلائٹ شکن تجربات سے پیدا ہونے والے کچرے نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔
ان میں سے بہت سی اشیا 28000 کلومیٹر فی گھنٹہ کے حساب سے حرکت کر رہی ہیں اور زمین کے گرد گھومنے والی بہت ساری سیٹیلائٹس کا ان میں سے کسی چیز کے ساتھ ٹکرانے کا خطرہ ہے جو ہمارے انٹرنیٹ اور موبائل کے مواصلاتی نظام کے لیے اہم ہیں۔

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
اس خودکار کارگو خلائی جہاز کا نام سٹورک یا جاپانی زبان میں کونوٹوری ہے۔ شمالی بحرالکاہل میں قائم ٹنگاشیما خلائی مرکز سے بین الاقوامی خلائی مرکز بھیجا گیا ہے اور اس میں کوڑا جمع کرنے والے آلات بھی ہیں۔
محققین کا کہنا ہے چکنا، الیکٹرو ڈائنامک آلہ اس قدر توانائی خارج کرے گا کہ اشیا کا مدار تبدیل ہوجائے گا اور انھیں خلا میں مزید دھکیل گا جہاں وہ خود بخود جل کر بھسم ہوجائیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوم برگ ویب سائٹ کے مطابق اس آلے کی تیاری میں 106 سالہ جاپان کی مچھلیوں کے جال بنانے والی کمپنی نٹوسیمو کو نے مدد کی ہے۔








