سب سے مقبول آن لائن سروس کی دوڑ میں ٹک ٹاک نے گوگل کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹک ٹاک اب گوگل کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی آن لائن سروس بن گئی ہے۔
آئی ٹی سکیورٹی کمپنی کلاؤڈ فلیئر کے مطابق مختصر ویڈیوز کی اس ایپ پر یومیہ اب اس امریکی سرچ انجن سے بھی زیادہ صارفین آتے ہیں۔
رینکنگز کے مطابق ٹک ٹاک نے رواں سال فروری، مارچ اور جون میں گوگل سے یہ مقام چھینا اور اب اگست سے یہ سرِفہرست ہے۔
گذشتہ سال گوگل نمبر ایک پر تھی جبکہ ٹک ٹاک، ایمازون، ایپل، فیس بک، مائیکروسوفٹ اور نیٹ فلکس تینوں ٹاپ 10 میں تھیں۔
کلاؤڈ فلیئر کا کہنا ہے کہ یہ ویب سائٹ ٹریفک مانیٹر کرنے والے اپنے نظام کلاؤڈ فلیئر ریڈار کے ذریعے ان رینکنگز پر نظر رکھتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیال کیا جاتا ہے کہ ٹک ٹاک کی مقبولیت میں بے پناہ اضافے کی ایک وجہ کورونا وائرس کی عالمی وبا بھی ہے جس میں لاک ڈاؤنز کے دوران لوگ گھروں تک مقیّد رہتے ہیں اور تفریح چاہتے ہیں۔
ڈیٹا کمپنی سینسر ٹاور کے مطابق ٹک ٹاک رواں سال جولائی تک تین ارب سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کی جا چکی تھی۔
چینی کمپنی بائٹ ڈانس کی ملکیت اس ایپ پر اب دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد فعال صارف موجود ہیں اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین میں کمپنی کے سینسرشپ قواعد کی پاسداری کی غرض سے یہ ایپ دویین کہلاتی ہے اور مختلف نیٹ ورک پر چلتی ہے۔
دویین ستمبر 2016 میں ریلیز کی گئی تھی اور رواں سال چین نے حکم جاری کیا ہے کہ 14 سال سے کم عمر بچے اس پلیٹ فارم پر یومیہ صرف 40 منٹ وقت بِتا سکیں گے۔
سکیورٹی خدشات
ٹک ٹاک سنہ 2018 میں بین الاقوامی طور پر لانچ کی گئی تھی۔ یہ ایک اور چینی سوشل میڈیا کمپنی میوزیکل ڈاٹ لی سے انضمام کے ذریعے وجود میں آئی جس میں صارفین گانوں کے بول پر اپنے ہونٹ ہلا کر اداکاری کر سکتے تھے۔
اور یہ پلیٹ فارم تنازعات سے پاک نہیں رہا ہے۔ سنہ 2019 میں اس پر انڈیا میں عارضی پابندی عائد کی گئی، اس کے خلاف ایک امریکی کاؤنٹر انٹیلیجنس تفتیش کا آغاز ہوا اور میوزیکل ڈاٹ لی پر علم میں ہونے کے باوجود کم عمر صارفین کی ریکارڈ ویڈیوز اپنے پلیٹ فارم پر رکھنے کے باعث 43 لاکھ پاؤنڈ کا بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔
بین الاقوامی طور پر کامیاب واحد چینی ایپ کے طور پر چین سے باہر سیاست دانوں ریگولیٹرز نے اکثر و بیشتر تحفظ اور رازداری کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
گذشتہ سال ٹک ٹاک کو بیان جاری کرنا پڑا تھا کہ یہ چینی حکومت کے زیرِ انتظام نہیں ہے۔
ٹک ٹاک کے سربراہ پبلک پالیسی برائے یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ تھیو برٹرام نے کہا کہ وہ چین کی جانب سے ڈیٹا فراہم کرنے کی کسی بھی درخواست کو مسترد کر دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس ایپ پر طرح طرح کی مختصر ویڈیوز پائی جاتی ہیں جن میں کامیڈی اور ڈانس سے لے کر سیاست تک شامل ہیں۔
برطانیہ میں سب سے مشہور صارف میک اپ آرٹسٹس @abbyroberts ہیں جن کے ایک کروڑ 74 لاکھ فالوورز ہیں۔
رواں سال 16 لاکھ فالوورز والے صارف @Francis.Bourgeois نے اپنی ملازمت چھوڑ دی اور کُل وقتی طور ٹرینوں کے بارے میں ویڈیوز بنانے لگے کیونکہ ریلوے سٹیشنز کے پاس کھڑے ہو کر ٹرینوں کے بارے میں بات کرنے کی اُن کی ویڈیوز بے پناہ مقبول ہو گئی تھیں۔
کھانوں کی ترکیبیں
ٹک ٹاک کی کامیابی میں بہت بڑا کردار کھانوں اور ان کی ترکیبوں کا بھی ہے جہاں وائرل کلپس کو کروڑوں مرتبہ دیکھا جاتا ہے۔
اب امریکہ میں مارچ میں ٹک ٹاک کچن نامی ایک نئی فوڈ ڈیلیوری سروس لانچ ہونے لگی ہے جس کے ذریعے لوگ وائرل ویڈیوز میں بنائی جانے والی ڈشز آرڈر کر سکیں گے۔
مینو میں اس ایپ پر موجود سب سے زیادہ وائرل فوڈ ٹرینڈز ہوں گے اور اس میں بیکڈ فیٹا پاستا جیسے کھانے ہوں گے جو سنہ 2021 میں گوگل پر سب سے زیادہ سرچ کی گئی ڈش تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹک ٹاک کچن کے ایک شریک بانی رابرٹ ارل بھی ہیں جو امریکہ میں مشہور فوڈ آؤٹ لیٹس مثلاً پلینٹ ہالی وڈ بوکا ڈی بیپو اور برتوچی کے مالک ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ لانچ پر ملک بھر سے 300 ٹک ٹاک ریستورانوں کو شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جبکہ 2022 کے اختتام تک یہ تعداد ایک ہزار سے بڑھ جائے گی۔
ٹک ٹاک کچن میں کئی ریستوران وہ بھی ہوں گے جو رابرٹ ارل کی چین کی ملکیت ہیں۔













