ٹک ٹاک: نوکریوں کے متلاشی ٹک ٹاک پر ‘کیریئر ٹاک‘ سی وی پیش کرنے لگے

French TikToker Rafael Caplan recording a video

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, انامریہ سلک
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

ستمبر کی ایک شام، الیزاویتا پریگوزینا نے ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو بنائی جس میں انھوں نے اپنی بیروزگاری پر مایوسی کا اظہار کیا۔

اگرچہ یہ ویڈیو انھوں نے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے پوسٹ کی تھی مگر جب اگلے دن وہ صبح اٹھیں تو انھیں دس سے زیادہ انٹرویوز کی آفرز ملی ہوئی تھی۔ لوگوں نے اُن کی ویڈیو دیکھی اور انھیں جاب دینے کی غرض سے انٹرویو کرنے پر آمادہ ہو گئے۔

22 سالہ الیزاویتا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ٹک ٹاک نے میری زندگی بدل دی۔‘ وہ ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے ٹک ٹاک پر جاری اس رجحان کا فائدہ اٹھایا ہے جس میں لوگ ٹک ٹاک پر اپنی سی وی بطور ‘کریئر ٹاک‘ شیئر کرنے لگے ہیں۔

‘کریئر ٹاک‘ ایک کریئر کے بارے میں ویڈیوز کا ایک ذیلی فیچر ہے جس میں لوگ نوکری ڈھونڈنے کے حوالے سے، سی وی بنانے کے حوالے سے، اور کام کے مواقعے کے بارے جاننے کے لیے ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا کے تناظر میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور لوگوں کی لاک ڈاؤنز میں تنہائی کے دوران ٹک ٹاک نوکریوں کے متلاشی نوجوانوں کے لیے ایک لائف لائن بن گیا ہے۔

ہیش ٹیگ ‘کیریئر ٹاک‘ کی ویڈیوز سات کروڑ سے زیادہ بار دیکھی جا چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مگر کورونا کے عروج کے بعد اب نوکریوں کی بھرمار ہے اور موجودہ وقت میں قومی سطح پر لیبر کی عدم دستیابی کا مطلب ہے کہ امریکی ریٹیلرز کے لیے سٹاف ڈھونڈنا مشکل ہو گیا ہے۔

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام

ٹک ٹاک نے یہ ٹرینڈ پہلے ہی نوٹس کر لیا تھا اور جولائی 2021 میں ’ٹک ٹاک ریزیومیز‘ لانچ کر دیا تھا جو کہ ایک بائلٹ پروگرام تھا جس میں صارفین ایک ویڈیو سی وی بنا سکتے تھے تاکہ وہ اپنے تجربے اور ہنر کی براہِ راست نمائش کر سکیں اور نوکری فراہم کرنے والے اداروں اور افراد کی توجہ حاصل کر سکیں۔ اگرچہ یہ بائلٹ پروگرام صرف ایک ماہ چلا، اس میں تین درجن سے زیادہ کمپنیوں نے شرکت کی جس میں امریکی کمپنی ٹارگٹ، فاسٹ فوڈ چین چپوٹلے، اور یہاں تک کہ ڈبلیو ڈبلیو ای بھی شامل تھیں۔

نوکریوں کے متلاشیوں نے ہیش ٹیگ ‘ٹک ٹاک ریزیومیز‘ کے ساتھ ویڈیوز پیش کیں اور ٹک ٹاک ریزیومیز ڈاٹ کام کے ذریعے (جسے اب بند کر دیا گیا ہے) اپنا ایک پرسنل مضمون آڈیو کے ساتھ جمع کروایا۔

اگرچہ ٹک ٹاک سی وی ایک رسمی ملازمت کی درخواست نہیں، تاہم یہ کمپنیوں کو ممکنہ امیدواروں کے چناؤ میں مدد کرتی ہے۔

A Chinese doctor records a video for TikTok

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ادھر چپوٹلے کے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی نائب صدر ٹریس لیبرمین کہتی ہیں کہ ان کی کمپنی اس طرف اس لیے آئی کیونکہ اس وقت لیبر مارکیٹ میں مقابلہ انتہائی سخت ہے۔ ان کی کمپنی 2019 سے اس پلیٹ فارم کی مدد سے نوکریاں دے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مدد سے نوجوان لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ٹک ٹاک کی گلوبل کمیونیکیشز آفیسر الینا ساویدرا نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ ٹک ٹاک کے پاس یہ اعداد و شمار نہیں ہیں کہ ان کے پلیٹ فارم سے کتنے لوگوں کو نوکریاں ملی ہیں، تاہم اس پلیٹ فارم کی مدد سے کھیلوں اور انٹرٹینمنٹ کی صنعت میں لوگوں کو سب سے زیادہ کامیابی ہوتی ہے۔ اس کی مثالوں میں ’واہلار‘ ہے جس نے اپنا سوشل سٹریٹجی کا ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ٹک ٹاک کی مدد سے رکھا اور امریکہ میں نیشنل ہاکی لیگ نے اپنے فوٹوگرافر کا چناؤ بھی اسی ایپ کے ذریعے کیا۔

لنکڈ ان کے مطابق 80 فیصد ہائرنگ مینیجرز کا خیال ہے کہ ویڈیوز اب امیدواروں کی چھانٹی کے لیے ایک اہم جزو بن گئی ہیں۔

TikTok on a phone

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگرچہ قانونی معاونت فراہم کرنے والی کمپنیاں اور سرمایہ کاری بینکس ٹک ٹاک کی مدد سے ملازمین نہیں رکھتے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پلیٹ فارم میں سوشل میڈیا، مارکیٹنگ اور صارفین سے براہِ راست بات چیت کرنے والی نوکریوں میں لوگوں کو رکھنے کے لیے مددگار ہو سکتا ہے۔

21 سالہ مکینا یی سیئیٹل میں ایک کمیونیکیشن کی طالبہ ہیں اور انھوں نے مئی 2021 میں اپنا ٹک ٹاک سی وی بنایا۔ ان کی ویڈیو کو دو لاکھ مرتبہ دیکھا گیا اور تقریباً 20 لوگوں نے انھیں انٹرویو کی پیشکش کی۔ وہ کہتی ہیں کہ سی وی ٹاکس نے ان کی عمر کے لوگوں کے لیے ڈیجیٹل نیٹ ورکنگ کے راستے کھولے ہیں، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔

مقبول کیریئر ٹاک اکاؤنٹ ‘ونسلٹنگ‘ کے بانی جانتھن ہاویئر اور جیری لی نے بی بی سی کو بتایا کہ کمپنیاں 50 سے زیادہ سینیئر مینیجر پوزیشنز کی بھی تشہیر کر رہے ہیں کیونکہ اس عمر کے گروپس میں وہاں پر مقابلہ قدرے کم ہے۔

مگر ویڈیو سی وی میں مسئلہ یہ ہے کہ اس سے یہ امکان پیدا ہو جاتا ہے کہ کمپنیاں کسی کو اس لیے نہ رکھیں کیونکہ ان کی شکل یا نسل پسند نہ آئے اور اس طرح یہاں پر امتیازی سلوک کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

اور یہاں ٹک ٹاک کے ایلگورتھم کا بھی سوال ہے۔ اس ایپ پر نسلی امتیاز کی بنیاد پر مواد پیش کرنے کا الزام لگ چکا ہے تاہم انتظامیہ اس کی تردید کرتی ہے۔

کیریئر ٹاک پر ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ فالورز والی جیکی شیواز کہتی ہیں کہ ویڈیو سی وی کے عام ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔ مگر ہو سکتا ہے کہ ٹک ٹاک لنکڈ ان، کور لیٹر، اور آن لائن پورٹ فولیوز کی طرح ایک اہم عنصر بن جائے۔