فیصل آباد کے قریب ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے لیے نوجوان پر تشدد: ’ایک لڑکا سلطان راہی بن گیا، اسے ولن بنا کر تشدد کیا گیا‘

ٹک ٹاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پولیس نے فیصل آباد کے علاقے سمندری کے ایک گاؤں کے رہائشی کو مبینہ طور پر ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے لیے تشدد کا نشانہ بنانے والے پانچ لڑکوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

قریب ایک ماہ قبل جب رفیق (فرضی نام) گھر واپس نہ آئے تو ان کے گھر والوں نے سمجھا کہ وہ پہلے کی طرح کہیں چلے گئے ہوں گے اور خود ہی واپس آ جائیں گے۔

تاہم جب ٹک ٹاک کی یہ ویڈیوز نوجوان لڑکے کے گھر والوں تک پہنچیں تو اسے تشدد کا نشانہ بنتے دیکھ کر ان کے گھر والوں کو خوف محسوس ہوا کہ انھیں کوئی نقصان نہ پہنچایا گیا ہو تو انھوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور خود بھی ان کی تلاش شروع کر دی۔

مرید والا تھانہ کے ایس ایچ او عاطف نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان لڑکوں نے نوجوان لڑکے کو ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کی خاطر اپنے پاس بلایا۔ اس کے بعد تین سے چار لڑکوں نے مل کر اس لڑکے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایک لڑکا 'سلطان راہی' بن گیا اور اس لڑکے کو 'ولن' بنا کر اس کو مارا۔‘

مرید والا تھانہ میں لڑکے کو تشدد کا نشانہ بنانے اور اغوا کرنے کے الزام میں پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی تھیں۔ مرید والا تھانہ کے ایس ایچ اور کے مطابق پولیس نے تشدد کا نشانہ بننے والے لڑکے کا سراغ لگا لیا تھا جبکہ دو ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔

اسی طرح ایک اور ویڈیو میں لڑکوں نے نوجوان لڑکے کے سر کے بال مونڈ دیے اور پھر یہ ویڈیوز ان لڑکوں نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹس پر ڈال دیں۔

تاہم ایس ایچ او کے مطابق ’لڑکا ذہنی طور پر تھوڑا کمزور تھا اور اس وقت لاہور میں کسی جگہ پر نوکری کر رہا تھا۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ اسے جلد واپس لایا جائے۔‘

رفیق (فرضی نام) کے ماموں نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑکے کے والد گونگے بہرے تھے اور ان کی والدہ بھی سادہ لوح تھیں۔ ان دونوں کو نہیں پتا تھا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا تھا اور اسے کیسے تلاش کیا جا سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اپنی مدعیت میں پولیس کے پاس رپورٹ لکھوائی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'لڑکا تاحال واپس نہیں آیا۔ پولیس نے دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے جنھوں نے اس کی ویڈیو بنائی تھی لیکن باقی دو لڑکے جنھوں نے اس پر تشدد کیا وہ تاحال گرفتار نہیں ہو پائے۔'

ان کے مطابق ان کے بھانجے کو ’اغوا‘ کرنے والے لڑکوں میں سے زیادہ تر کا تعلق ان ہی کی برادری سے تھا اور ان کے لیے زیادہ تشویشناک بات یہ تھی کہ 'ان لڑکوں میں شامل کچھ کا تعلق ان لوگوں سے تھا جن کے ساتھ ہماری دشمنی تھی۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان لڑکوں نے پکڑے جانے کے خوف سے ان کے بھانجے کو کہیں غائب کر دیا تھا۔

تاہم ایس ایچ او عاطف نواز کے مطابق ’لڑکوں نے رفیق (فرضی نام) کو اغوا نہیں کیا تھا۔ ٹک ٹاک ویڈیوز گذشہ ماہ کی نو تاریخ کو بنائی گئی تھیں۔ رفیق اس کے بعد اپنی مرضی سے وہاں سے چلے گئے تھے۔ ایس ایچ او مرید والا کے مطابق وہ ان دنوں لاہور کے کسی مقام پر کام کاج کر رہے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ٹک ٹاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے کہا کہ 'لڑکے کے خاندان والوں کو تو علم ہی نہیں تھا کہ وہ اتنے عرصے سے کدھر ہے۔ پولیس کے پوچھنے پر انھوں نے اس کی تلاش شروع کی تھی۔'

پولیس کے مطابق 'یہ لڑکا پہلے بھی گھر سے چلا جایا کرتا تھا اور ان کے گھر والے ان کو تلاش نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ خود ہی ایک دو ماہ بعد واپس آ جاتا تھا۔‘

ایس ایچ او مرید والا کے مطابق جب لڑکا واپس آئے گا تو معلوم ہو پائے گا کہ کیا ان کو اغوا کر کے زبردستی ان کی ٹک ٹاک ویڈیوز بنائی گئی تھیں یا وہ اپنی مرضی سے ان پانچ لڑکوں کے ساتھ گئے تھے اور باخوشی ٹک ٹاک ویڈیو بنوانے میں شامل ہوئے تھے۔