ٹک ٹاک نے سنہ 2020 میں دنیا کو کیسے بدل دیا؟

ٹک ٹاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, صوفیہ سمتھ گیلر
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

’غریب اور بدصورت تخلیق کاروں‘ کو پیچھے رکھنے والے ایلگوریدم کی خبریں اور صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ میں اس ایپ پر پابندی پر غور کرنے کے باوجود ٹک ٹاک گذشتہ سال بیک وقت سب سے دلچسپ اور سب سے زیادہ بدنام ایپس میں سے ایک تھی۔

یہ پہلی بڑی سوشل میڈیا ایپ تھی جو سیلیکون ویلی کے باہر سے چلائی جاتی ہے اور اس چینی پلیٹ فارم کی لوگوں میں مقبولیت کئی تنازعات کے باوجود واٹس ایپ، انسٹاگرام اور ٹوئٹر جیسی بن گئی تھی۔

اس ایپ نے چھوٹی چھوٹی ویڈیوز بنانے کو مقبول کر دیا اور اس کے تجویزی ایلگوریدم نے اسے دنیا کے اہم ترین ویڈیو پلیٹ فارموں میں سے ایک بنا دیا۔ مگر جب کچھ سنجیدہ لوگ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے سیکیورٹی خطرات کا جائزہ لے رہے تھے اور امریکہ اور چین کے درمیان انٹرنیٹ کو علیحدہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے، ادھر نوجوان اپنے ہاتھوں میں ایک طاقتور ترین آلے کو پرکھ رہے تھے۔

آج سنہ 2020 کے آخر میں ٹک ٹاک سال کی سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی ایپ بن چکی ہے اور اس نے بہت کچھ بدل کررکھ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹک ٹاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کہنے کو ٹک ٹاک کے لیے میری عمر زیادہ ہے۔ اس کی مرکزی مارکیٹ 13 سے 24 سال کے لوگ ہیں مگر روحانی طور پر میں ان میں شامل ہوں۔ بومر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی خاص عمر کے ہیں۔ ٹک ٹاک پر عمر کی کوئی قید نہیں۔ یہ اصل میں انٹرنیٹ کے تماشے میں خود کو پھینکنے کی رضامندی ہے۔ انٹرنیٹ پر کسی سے ملنے اور پھر انھیں فالو کرنے یا انھیں حمایتی پیغامات بھیجنا ایک خاص زومر یرنی گنریشن زی کا طریقہ ہے۔

سوالات پوچھنا، اہم مسائل پر حمایت کرنا یا ایپ کی دنیا میں احتجاج کرنا ان لوگوں کو قدرتی طور پر ہی آتا ہے۔ یوٹیوب کے دور کے بعد ٹک ٹاک آپ کو وہ والا مواد تجویز کرتا ہے جو کہ آپ غیر ارادی طور پر چاہتے ہیں۔ مگر یوٹیوب کے برعکس یہ ویڈیوز ایک منٹ سے کم دورانیے کی ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک نشست میں کئی ویڈیوز دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

سنہ 2020 میں ٹک ٹاک پر بہت سے فالورز ہونے سے آپ ایک عجیب قسم کی سلیبرٹی کے طور پر مشہور ہوتے ہیں۔ میرے صرف 140000 فالورز ہیں جو انٹرنیٹ کے معیار پر کافی کم ہیں۔ مگر ایسا نہیں ہوتا کہ میں کہیں جا رہی ہوں اور دو ہفتوں میں کم از کم ایک مرتبہ کوئی مجھے پہنچانے نہیں۔ مجھے خوشی ہوتی کہ اگر میں یہ کہہ سکتی کہ میری طاقتور صحافت کی وجہ سے ایسا ہوا مگر لوگ میرا چہرا جانتے ہیں، یہ اس بات کی گواہی ہے کہ ٹک ٹاک کتنا موثر ہے۔

ٹک ٹاک

،تصویر کا ذریعہKareem Rahma / @kareemrahma

اور ایسا تب ہوا جب ہم اپنے آپ کو اپنے انداز میں پیش کر رہے تھے۔ یہی بات بہت سے ٹک ٹاک سٹارز کہتے ہیں۔ وہ عام لوگ جو اب معروف چہرے بن گئے ہیں، اس سال ان میں تیزی آئی ہے۔ اب گذشتہ سال پیسٹل پنک اور فوٹو شاپ کے جادو سے بنے انسٹاگرام والے نہیں۔ ٹک ٹاک نے گورڈن رامزے جیسے معروف چہروں کو اپنی طرف کھینچ تو لیا ہو گا مگر یہاں صارفین عام لوگوں کو دیکھنے آتے ہیں۔ اگر انسٹاگرام نے ہر عام انسان کو ماڈل بنا دیا تھا تو ٹک ٹاک نے ہر عام انسان کے چھپے ٹیلنٹ کو سامنے لے آئی ہے۔

ڈیجیٹل تحریک کا نیا دور

تاریخ شاید ٹک ٹاک کو بلیک لائیوز میٹر کی تحریک میں اہم ترین ماننے گی کیونکہ اس کی ڈسکور پیج پر تشہیر کی گئی اور اس کے ہیش ٹیگ کو 23 ارب سے زیادہ دفعہ دیکھا گیا۔

کچھ ہی لوگوں کو یاد ہو گا کہ جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ابتدائی دنوں میں #GeorgeFloyd اور #BlackLivesMatter کے صفحات کو کسی تکنیکی مسئلے کی وجہ سے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ دی انٹرسیپٹ کی تحقیق سے پتا چلا کہ ان کے الگوریدم میں غیر سفید فام، معزور اور غریب تخلیق کاروں کو ممکنہ طور پر پیچھے دکھیلا جا رہا تھا۔ مگر بہت سے لوگوں کے لیے یہ پلیٹ فارم ایک انتہائی مختلف جگہ بن گئی اور بہت سے لوگوں کے لیے تجویزی پیج پر ان کے مطلب کی ویڈیوز آنے لگیں۔

یہ ٹرمپ مخالف لوگوں کے لیے بھی ایک اہم جگہ بن گئی۔ ٹک ٹاکرز کا صدر ٹرمپ کی ٹلسا میں ریلی پر لوگوں کے کم تعداد میں آنے کا کردار ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کی اس ایپ پر ریٹنگ کو برے برے ریووز دے کر اسے گرایا گیا۔ اس سال میں نے ایک فلم بنائی ایگوردمز کے ایکٹیوزم کے بارے میں، کیسے لوگ کومنٹ، لائیک، شیئر کر کے کسی چیز کو زیادہ مقبول بناتے ہیں۔ اور یہ سب کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں اور بھی زیادہ اہم ہوگیا۔

ٹک ٹاک نے انٹرنیٹ کامیڈی کو بدل کر رکھ دیا ہے

ٹک ٹاک پر کامیڈی سکیچ ایک نایاب چیز ہے۔ آپ کے پاس اپنا سکٹ پیش کرنے کے لیے صرف ایک منٹ ہے اور آپ نے اپنے ناظرین کو ابتدائی چند سیکنڈ میں اپنی طرف مدعو کرنا ہے۔ اس کے لیے اب کچھ نئے طریقے آ گئے ہیں۔ آپ نے سر پر تولیہ لپیٹ لیا تو آپ عورت ہیں، سنہرے رنگ کی وگ لگا لی، اور دھوپ والا چشمہ تو آپ فوراً ’کیرن‘ بن گئے۔

ٹک ٹاک

،تصویر کا ذریعہBaron Ryan / @americanbaron

بیرن رائن کے ٹک ٹاک پر سات لاکھ فالورز ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جب معاملہ کامیڈی کا ہو تو ٹک ٹاک بنیاد طور پر پنچ لائن کو مار دیتا ہے۔ یہ بری چیز نہیں ہے۔ بس یہ مختلف ہے۔‘ یہاں کامیڈی بہت عجیب ہے مگر یہ روایتی میڈیا پر بھی کام کرتی ہے۔ ’پیسنگ اب بہت تیز ہے۔ آپ نے آدھے سیکنڈ کے لیے سکرین پر ایسٹر انڈا چھوڑا تو لوگ اسے بھی پکڑ لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹی وی کے مقابلے میں جب آپ ہاتھوں میں پکڑے کچھ دیکھ رہے ہیں تو یہ ایک انتہائی ذاتی کام ہے۔‘

رائن کے لیے یہ معاملہ صرف ایپ پر آپ کے مواد کے معیار کا نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق آپ کے انفرادی رویے کا بھی ہے۔ وہ @kallmekris کی مثال دیتے ہیں۔ ’اگرچہ وہ خود ایک انتہائی مزاحیہ تخلیق کار ہیں، مگر ان کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ لوگوں کو پسند آتی ہیں۔ وہ اپنے مداحوں کے ساتھ اچھے سے بات کرتی ہیں، وہ صاف انداز میں بات کرتی ہیں (یعنی گالیوں کا استعمال نہیں کرتیں)، کسی کی برائی نہیں کرتیں، اور اپنی کامیڈی سے کسی پر تنقید نہیں کرتیں۔ اسی لیے ان کے ایک کروڑ سے زیادہ فالورز ہیں۔‘

رائن کے خیال میں ٹک ٹاک کامیڈی کی ایک نئی قسم پیدا کر رہی ہے، جس میں پنچ لائن موجود نہیں ہے۔ ان کے خیال میں ’ہم قہقے لگوانے کے کاروبار میں نہیں ہیں۔ ہم لوگوں کو مسلسل مسکراہٹ دینے کے کاروبار میں ہیں۔‘ دنیا کے موجودہ حالات دیکھ کر یہ سمجھ آتی ہے کہ جنیریشن زی کیوں سارا وقت چھوٹی چھوٹی مزاحیہ باتوں اور رائن جیسے فنکاروں کے پیچھے دوڑ رہی ہے۔

ٹک ٹاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وہ سال جب میم بنانے کا کلچر تھری ڈی میں چلا گیا

اب ہم ٹو ڈی میمز کی دنیا میں نہیں رہتے۔ کوئی خاکہ جس میں کوئی مزاحیہ موقعے کی تصویر ہو، اب یہ نہیں چلتا۔ اب آپ کا کام صرف فوٹوشاپ سے نہیں چل سکتا۔ اب آپ کو ویڈیو ایڈٹنگ کرنا بھی آنی چاہیے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وائن نامی ایپ نے یہ رجحان پہلے شروع کیا تھا۔ مگر یہ اتنی مقبول نہیں ہوئی جبکہ ٹک ٹاک جو کہ تاریخ میں سب سے تیزی سے مقبول ہونے والی ایپ ہے (سب سے جلدی ایک ارب مرتبہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی ایپ) کہیں نہیں جا رہی۔

یہ وہ سال تھا جس میں انٹرنیٹ ’ڈیپ فرائی‘ کیا گیا۔ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سال ہے جب انٹرنیٹ پر عجیب و غریب آوازیں اور عجیب عجیب سین عکس بند کر کے نوجوانوں نے مسائل سے بھری دنیا میں اپنی ایک چھوٹی سی دنیا بنانے کی کوشش کی۔ ان عجیب عجیب ویڈیوز کی مقبولیت ٹک ٹاک کے باہر نہیں پہنچی۔ یعنی بات یہ ہے کہ ان عجیب عجیب ویڈئوز کی کامیابی کے لیے ٹک ٹاک کا ایلگوردم ضروری تھا۔

موسیقاروں کے لیے مقبولیت حاصل کرنے کا نیا طریقہ

ٹک ٹاک پر ٹرینڈز کی مقبولیت اور آڈیو میم بنانے کے عمل کا ساتھ چولی دامن کا رہا ہے۔ ایک ہی آواز کو بہت سارے مزیدار ٹرینڈز پر لجھانا۔ کبھی کبھی یہ آوازیں معروف فنکاروں کی تھیں، جو کہ دانستہ طور پر ٹک ٹاکرز سے رابطے کرتے ہیں اور اپنے گانوں کی تشہیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے ڈریک نے ٹوسی سلائڈ کے ساتھ کیا۔

مگر ٹک ٹاک کی خاص بات یہ بھی ہے کہ غیر معروف گلوکاروں اور فنکاروں کو لاکھوں ویوز مل گئے ہیں۔ اس کی ایک مثال لین لیپڈ ہیں جنھوں نے ٹک ٹاک پر اپنے تجربے کا ذکر کیا کہ کیسے جب وہ موسیقی شروع کر رہی تھیں تو ایک پیشکار کے ساتھ ان کا کتنا برا تجربہ رہا۔ ’ان کا کہنا تھا کہ ادھر آؤ میں تمھیں ایک سٹار بنانا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم ترقی کرو۔‘ مگر جو چیز وہ نہیں سیکھ پا رہی تھیں کہ وہ پیشکار اس معاملے میں صرف پیسے کے پیچھے تھا۔ اور یہی بات انھوں نے ٹک ٹاک میں اپنے گانے میں کہی۔ اس گانے کے 50 ملین سے زیادہ ویوز ہیں اور اب اس 18 سالہ فنکار نے اپنا سنگل ریلیز کر لیا ہے، بغیر اس لالچی پیشکار کے۔

ٹک ٹاک

،تصویر کا ذریعہSophia Smith-Galer/ @sophiasmithgaler

وِل جوسف کک اپنے گانے بی اراؤنڈ می سے ٹک ٹاک پر مقبول ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ روایتی میڈیا میں وہ عالمی اثر نہیں ہے جو ٹک ٹاک میں ہے۔ ان کے دو لاکھ فالورز ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’میں مشرقی جنوبی ایشیا تک مداحوں تک پہنچ رہا ہوں جنھیں میں عام حالات میں مل نہیں سکتا تھا۔ مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے کہ فنکار اپنے دیگر شوق مزاحیہ انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔ مجھے اس عنصر کا بہت مزہ آیا ہے۔‘

مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ سب کے لیے نہیں ہے۔ ’ٹک ٹاک پر انٹرنیٹ کا کلچر بہت بولڈ ہے۔ آپ کو اچھا تخلیق کار بننے کے لیے ایسے مواد کا کنزیومر ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر ایسا فنکار جو یہ ایپس استعمال نہیں کرتا اور وہ ایک وائرل آڈیو بنانے کی کوشش کرتا ہے تو صاف لگتا ہے وہ زبردستی کر رہا ہے۔‘

ہم سب مواد تخلیق کرنے والے بن گئے

یوٹیوب نے کمپیوٹر کی مدد سے بہت سے لوگوں کو مواد تخلیق کرنے والا بنا دیا اور اب ٹک ٹاک موبائل فون کی مدد سے اس سے بھی زیادہ لوگوں کو مواد تخلیق کرنے والا بنا رہا ہے۔ یوٹیوب کے لیے کوئی ویڈیو شوٹ کرتے ہوئے ایڈیٹنگ کو بھی دماغ میں رکھنا ہوتا ہے لیکن ٹک ٹاک استعمال کرنے والے صارفین کسی بھی وقت عکس بند کر کے ایپ پر اسے ایڈیٹ کر کے اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔

ٹک ٹوک جیسی ایپ کے ذریعے آپ کی مزاحیہ ویڈیو کا دنیا بھر میں جانے کا اتنا ہی امکان ہے جتنا اس ویڈیو کا آپ سے اگلے شخص تک پہنچنا، پھر چاہے آپ کے صفر فالووز ہوں یا ایک لاکھ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اس سال ٹک ٹوک کے عروج نے ہم میں سے بہت سے لوگوں کو دو طاقتور چیزوں پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ حقیقت سے بچنے کے لیے انٹرنیٹ پر سکرولنگ کی عادت لیکن اہم بات یہ بھی ہے کہ، جو ہم کہتے ہیں اور آن لائن دیکھتے ہیں اسے واقعتاً کون کنٹرول کرتا ہے۔

سلیکن ویلی میں چینی ملکیت والی ایپ کے پھیل جانے سے شاید سوشل میڈیا پر سیاسی، چینی مخالف زینو فوبیا کا معاملہ پیدا ہوسکتا ہے، لیکن اس سے انٹرنیٹ صارفین میں بھی اس بارے میں کچھ حد تک آگاہی پیدا ہوئی کہ ان کے ڈیٹا تک کس کی رسائی ہوسکتی ہے اور جو ان کی فیڈز پر نظر آنے والے مواد کو ترجیح دینے یا اس پر اثر انداز ہونے کا کام کرسکتا ہے۔

ابھی تک، ٹِک ٹِک کے ڈیٹا کو کوئی خطرہ نہیں ہے - اور اتنی زندگیوں میں اس کی بڑھتی ہوئی بالادستی پہلے ہی اسے ایک اہم مقام بنا چکی ہے۔ اگر الگورتھم ابھی بھی ویسے ہی ہے تو، 2021 میں زندگی کو بدلنے والے، ذہن کو بدلنے والے مواد کی ایک بہت بڑی لہر آپ کے راستے میں آسکتی ہے۔

جو لوگ خود کی ویڈیو بنانا جانتے ہیں ان کے لیے اظہار رائے کا اظہار کرنا مواد تخلیق کرنے جیسا ہوجائے گا۔ چاہے وہ اچھی بات ہو یا بری چیز، دنیا بھر کے صارفین بحث کے لیے تیار ہیں۔

جب کہ انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز ایسی جگہ بنتے جا رہے ہیں جہاں بڑے برانڈز کو اپنے مارکیٹنگ بجٹ میں نئے، کم ٹیلنٹ والے ٹک ٹاکرز کا سکرین ٹائم مل جاتا ہے، ابھی تک طاقتور آواز والے ٹِک ٹوکرز آزاد ہیں، اور الگورتھم ، انٹرنیٹ اور اس سے آگے کی دنیا ان کی طاقت کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہیں۔