ٹک ٹاک کے سکیورٹی نقائص جو دور کر لیے گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انٹرنیٹ پر ویڈیو عام کرنے کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک میں موجود سیکیورٹی نقائص کو 'بائٹ ڈائس' کی نشاندہی کے بعد دور کر لیا گیا ہے۔
ان سکیورٹی نقائص کی وجہ ہیکرز اس پیلٹ فارم پر لگی کسی ویڈیو کو ڈیلیٹ یا اپ لوڈ کر سکتے،ذاتی تفصیلات اور سیٹنگز میں رد و بدل کر سکتے تھے۔ چیک پوائنٹ نامی سیکیورٹی فرام میں کام کرنے والے تحقیق کاروں نے کئی ایسے سقم تلاش کیے ہیں جو ہیکر کے لیے ایک آسان ذریعہ ثابت ہو سکتے تھے۔
ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ ان سب نقائص کو دور کر لیا گیا اور انھیں خبردار کرنے پر انھوں نے سیکیورٹی فرم کا شکریہ ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹک ٹوک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بہت سے دوسرے اداروں کی طرح وہ سکیورٹی امور سے متعلق ذمہ دار تحقیق کاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ خاموشی سے انھیں ’زیرو ڈے‘ کمزوریوں کی نشاندہی کریں۔
زیرو ڈے کمزوریوں کے معنی ایسے سکیورٹی نقائص ہوتے ہیں جن کا ہیکر کو یا تو پتا نہ چل سکا ہو یا انھوں نے ان کا فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹک ٹاک کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ بات عام کرنے سے پہلے چیک پوائنٹ نے اتفاق کیا تھا کہ تمام نقائص جن کی نشاندہی کی گئی ان کو نئے ایپ میں دور کر لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ ان کا حل نکال لینے کے بعد سکیورٹی تحقیق کاروں کے ساتھ تعاون بڑھے گا۔
چیک پوائنٹ نے کہا کہ ٹک ٹاک میں یہ سکیورٹی نقائص گذشتہ ایک برس سے تھے اور اس نے یہ سنگین سوالات اٹھائیں ہیں کہ کسی ہیکر کو ان کا علم ہوا کہ نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ بائٹ ڈانس نے بڑی ذمہ داری سے ان کے حل بتائے جانے کے ایک ماہ کے اندر اندر ان کو ٹک ٹاک سے دور کر لیا ہے۔
ان سکیورٹی نقائص کی بڑی وجہ وہ طریقہ کار ہے جو ٹک ٹاک صارفین کے فون نمبروں کے ساتھ منسلک ہے اورصارفین کو ایپ کے اندراج کراتے وقت دینے پڑتے ہیں۔
چیک پوائنٹ کو علم ہوا کہ ہیکر ان فون نمبروں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور پھر ان پر ٹک ٹاک کی طرف سے انھیں تحریری بیانات بھیج سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیکیورٹی کنسلٹنٹ اودد وانونو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بارے میں بہت سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ٹک ٹاک کتنا محفوط ہے یا کتنا محفوظ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ٹک ٹاک میں کئی سنگین نوعیت کے نقائص ہیں۔
انھوں نے کہا کیونکہ انھیں ٹک ٹاک پیلٹ فارم کو پوری طرح رسائی حاصل نہیں ہے اس لیے وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ کسی نقص کا فائدہ اٹھایا گیا ہے کہ نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اندازہ کریں کہ اگر کوئی اس پیلٹ فارم کو جھوٹی خبریں پھیلانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے تو اس کے لیے یہ کتنا آسان کام ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکی فوجی حکام نے تمام فوجیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ چین کے ایپ کو حکومت کی طرف سے جاری کردہ فونز پر نہ کھولیں کیونکہ خدشہ ہے کہ کہیں ان کا کوئی سرا چینی حکومت کے ہاتھ میں نہ ہو۔
ابتدائی طور پر چین اور دوسرے ایشیائی ملکوں میں مقبول ہونے والا یہ ایپ جس میں مختصر دوارنیے کی ویڈیو بنا کر عام کی جا سکتی ہے میں حالیہ برسوں میں اس میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور اب اس کے ایک اعشاریہ پانچ ارب صارفین ہیں۔












