ٹرمپ بمقابلہ بیزوس، فیس بک پر بندش اور ٹک ٹاک پر پابندیاں: سنہ 2019 میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں کیا نیا ہوا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2019 کے اختتام پر بی بی سی ٹیکنالوجی کے موضوع پر اپنی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبروں کو دہرا رہی ہے۔
فیس بک اور اس سے منسلک دوسری کمپنیوں نے خبروں کے میدان میں اس سال سبقت حاصل کیے رکھی۔ لیکن یہ سب اچھی خبریں نہیں تھیں۔ جیسے مارچ میں جب فیس بک اور انسٹاگرام کو اپنی تاریخ کی بدترین بندش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ہمیں اس سال چینی کمپنی ٹک ٹاک کے بارے میں پتا چلا جس کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ فیس بک کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

ٹیسلا کے مالک ایلون مسک اپنی کمپنی کے نئے سائبر ٹرک کی ’کھڑکی توڑ‘ رونمائی (جس میں انھیں شرمندگی کا سامنا رہا) اور ہمارے ذہن ہیک کرنے کے منصوبوں کے باوجود اس فہرست میں شامل نہیں۔
ویڈیو گیمنگ بھی خبروں کا حصہ رہی اور ہم نے آپ کو بتایا کہ پاکستان میں گیمنگ کلچر کیسے بدل رہا ہے۔
مئی میں گوگل نے چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے لیے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کے بعض اپ ڈیٹس بند کر دیے جبکہ سام سنگ نے اپنے تہہ ہونے والے سمارٹ فون دا گلیکیسی فولڈ کی رونمائی کی مگر تجزیہ کاروں نے آگاہ کیا کہ ٹرائل کے دوران ان کی فولڈنگ فون ڈیوائس کی سکرین ٹوٹ گئی تھی۔
ہم نے اس فہرست کو مہینوں کے حساب سے ترتیب دیا ہے۔
جنوری: وٹس ایپ، انسٹاگرام اور میسنجر ایک ہو گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک خبر لیک ہونے کی وجہ سے فیس بک کے اس منصوبے کے بارے میں معلوم ہوا جس میں انسٹاگرام، واٹس ایپ اور فیس بک مسینجر کی میسیجنگ سروسز کو آپس میں ضم کیا جانا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمپنی کے مالک مارک زکربرگ نے بتایا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ صارف ان پلیٹ فارمز پر باآسانی رشتے داروں اور دوستوں سے رابطہ کر سکیں اور میسیجنگ سروسز کے ذریعے سے بھیجے جانے والے میسیجز انکرپٹڈ ہوں تاکہ مطلوبہ صارف ہی میسیج پڑھ سکے۔‘
یہ بھی پڑھیے
تاہم ناقدین نے دعویٰ کیا کہ ضم کرنے کا فیصلہ فیس بک کو سروسز کا مضبوط مجموعہ بنا دے گا۔ ضرورت پڑنے پر حکومتوں یا ریگولیٹری اداروں کی طرف سے فیس بُک نیٹ ورک کے اہم حصوں کو توڑنا مشکل ہو جائے گا۔
اس سلسلے میں سوشل میڈیا کے سیاست میں کردار پر بھی بحث ہوتی رہی۔
فروری: مومو چیلنج کا خطرہ

فروری میں نہ صرف عام لوگ بلکہ پولیس بھی ’مومو چیلنج‘ کی طرف متوجہ ہوئی۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ نوجوانوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کیے جا رہے ہیں اور ایک بڑی آنکھوں والی عجیب الخلقت تخلیق سے لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔
بعض جگہ یہ کہا گیا کہ روس میں اس سے 100 نوجونوں کی موت واقع ہوئی ہے لیکن اسے ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں تھا۔
بالآخر ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ ڈر اتنی آسانی سے نہیں جائے گا اور بعد میں ہم نے مومو چیلنج کے نام سے ٹک ٹاک پر ویڈیوز بھی دیکھیں۔
مارچ: فیس بک کی تاریخی بندش

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیس بک اور اس کی دیگر ایپس کو اپنی تاریخ کی بدترین بندش کا سامنا کرنا پڑا جب اس کی بیشتر مرکزی خدمات دنیا بھر کے صارفین کے لیے معطل رہیں۔
کئی کیسز میں لوگ 10 گھنٹوں تک ان ایپس تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ اس کی وجہ ’کنفیگریشن میں بڑی تبدیلی‘ بتائی گئی۔ کچھ لوگوں نے تو یہ تک کہہ دیا کہ فیس بک ’ہیک‘ ہو گئی ہے۔
اپریل: سب سے آسان پاس ورڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سائبر سکیورٹی ماہرین نے دعویٰ کیا کہ لاکھوں افراد اپنے بے حد حساس اکاؤنٹس پر ایسے پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں جن کا پتا لگانا بہت آسان ہوتا ہے۔
برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر کی ایک تحقیق کے مطابق 1,2,3,4,5,6 سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاس ورڈز میں سے ایک ہے۔
اس ریسرچ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو سائبر معاملات میں علم کی کمی کی وجہ سے بڑی مصیبتوں میں گھر سکتے ہیں۔ نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر نے بتایا کہ بھروسہ مند اور محفوظ پاس ورڈ کے لیے لوگوں کو تین یادگار الفاظ کو ملا کر پاس ورڈ بنانا چاہیے، یا چہرے اور انگلیوں کے نشان کی آئی ڈی استعمال کرنی چاہیے۔
مئی: واٹس ایپ پر حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہیکرز نے واٹس ایپ کی سکیورٹی میں پائی جانے والی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند صارفین کے موبائل فونز اور دیگر ڈیوائسز تک رسائی حاصل کر کے ان میں نگرانی کے سافٹ ویئر انسٹال کیے۔
اس حملے کی تصدیق واٹس ایپ نے بھی کی اور تسلیم کیا کہ کچھ ’مخصوص صارفین‘ کو نشانہ بنایا گیا ۔اطلاعات کے مطابق یہ حملہ ایک اسرائیلی سکیورٹی فرم ’این ایس او گروپ‘ کی جانب سے بنائے گئے سافٹ ویئر سے کیا گیا ہے۔
اکتوبر میں فیس بک کی کمپنی واٹس ایپ نے بتایا تھا کہ اسرائیل میں بنے جاسوسی کرنے والے ایک سافٹ ویئر سے دنیا بھر میں جن 1400 شخصیات کو نشانہ بنایا گیا تھا ان میں انڈین صحافی، سیاست دان اور انسانی حقوق کے کارکنان بھی شامل ہیں۔
جون: ایتیکا کی خودکشی

،تصویر کا ذریعہETIKA/YOUTUBE
یوٹیوب اور دیگر ویب سائٹس پر ویڈیو گیمز سے متعلق اپنے مواد کے لیے مشہور بروکلین کے ڈیسمونڈ ’ایتیکا‘ ایموفا نے جون میں خودکشی کے حوالے سے ایک ویڈیو لگائی تھی۔
کچھ دن بعد نیو یارک کی پولیس نے تصدیق کی کہ انھوں نے خودکشی کر لی ہے۔ یہ گیمنگ کی دنیا کی بڑی خبر تھی۔
اسی سلسلے میں سوشل میڈیا کی وجہ سے ذہنی صحت کے مسائل کے بارے میں لوگوں نے بات کی۔
جولائی: فیس ایپ وائرل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک تکنیکی مسئلے کی وجہ سے فیس بک نے صارفین کو نئی تصویر یا ویڈیو لگانے سے روکا اور یہ بندش نو گھنٹوں تک جاری رہی۔
دوسری طرف فیس ایپ کے بارے میں بات ہوتی رہی جس کی مدد سے صارفین اپنے چہروں کو بوڑھا اور جوان دکھا سکتے ہیں۔ ہزاروں لوگوں نے اس ایپ کے استعمال سے اپنے چہرے کی تصاویر سوشل میڈیا پر لگائیں۔
لیکن کیونکہ یہ چہرے کی بناوٹ تبدیل کرنے والا فیچر پچھلے کچھ دنوں سے وائرل ہو چکا ہے تو کچھ لوگوں نے اس ایپ کی شرائط و ضوابط کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اگست: جی میل کے متبادل اور آئی فون میں خرابی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم نے آپ کو جی میل، یاہو، آؤٹ لک اور سب سے زیادہ مقبول میل سروسز سے باہر بھی زندگی ہے۔ اور ان کی متبادل ای میل سروسز بھی موجود ہیں۔
بعض محققین کے مطابق ایپل کے موبائل فونز میں سائبر سکیورٹی کے کم خطرات ہوتے ہیں جبکہ اینڈرائیڈ سسٹمز میں زیادہ مسائل پائے جاتے ہیں۔
لیکن گوگل نے واضح کیا کہ آئی فون کے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس میں خامیاں تلاش کرنے کے لیے ہیکرز مختلف ویب سائٹس کا استعمال کر رہے ہیں جس سے ’ہر ہفتے ہزاروں صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔‘
گوگل کے مطابق اس طریقے سے ہیک کیے گئے فونز سے لوگوں کے ذاتی پیغامات، تصاویر اور مقام کے بارے میں معلوم کیا جا سکتا ہے۔
ستمبر: آئی فون میں مزید کیمرے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے آئی فون 11 کے مختلف ماڈلز متعارف کروائے جن میں پہلے سے زیادہ کیمرے اور جدید پروسیسر ہیں۔
ایپل نے فائیو جی ماڈل لانچ نہیں کیا جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چند دوسرے فیچر کم ہیں۔ ایپل نے سمارٹ واچ کا نیا ورژن بھی متعارف کروایا ہے جس میں پہلی مرتبہ ’ہر وقت آن رہنے والا‘ فیچر دیا گیا۔
ماہرین نے بتایا کہ آئی فون امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک میں زیادہ فروخت ہوا۔
اب سنہ 2020 میں یہ بات ہو رہی ہے کہ ’آئی فون سپر سائیکل‘ نامی ڈیوائس کی رونمائی کی جائے گی جس میں فائیو جی ٹیکنالوجی بھی ہو گی۔
اکتوبر: پینٹاگون سے مائیکرو سافٹ کا معاہدہ، ایمازون ناراض

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES/REUTERS
کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق پینٹاگون کے بڑے معاہدے کے لیے ایمازون کو لگتا ہے کہ انھوں نے سب سے اچھی بولی لگائی تھی۔ لیکن یہ کنٹریکٹ، یا جڈائی ڈیل، مائیکروسافٹ کے پاس گیا اور کئی لوگوں کو اس سے حیرانی ہوئی۔ یہ معاہدہ 10 ارب ڈالر تک کا ہو سکتا ہے۔
ایمازون اس معاہدے کو اس لیے چیلنج کر رہا ہے کیونکہ انھیں لگتا ہے صدر ٹرمپ نے وزارت دفاع پر ان کی بولی مسترد کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ اس سب کے سنہ 2020 کے صدارتی انتخابات پر اثرات ہو سکتے ہیں۔
اسی کے امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بمقالہ دنیا کے امیر ترین آدمی اور ایمازون کے مالک جیف بیزوس کی باتیں بھی چلتی رہیں۔
نومبر: ٹک ٹاک گرل کی چین کے حراستی مراکز پر تنقید
سال کے آغاز میں ٹک ٹاک ایپ نے نوجوانوں اور بچوں میں کافی مقبولیت حاصل کی تھی۔ اسے انٹرنیٹ پر ایک تفریح کا مقام سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس چینی کمپنی کے بارے میں بعض لوگوں نے تشویش بھی ظاہر کی ہے۔
17 سالہ فیروزہ عزیز کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ بلاک کیا گیا تھا جب انھوں نے چین میں مسلمانوں کے ’حراستی مراکز‘ پر تنقید کی ایک انوکھی ویڈیو جاری کی تھی جس میں وہ اپنی پلکیں سنوارتے ہوئے چین کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتی ہیں۔ تاہم کمپنی نے اس امریکی لڑکی کا اکاؤنٹ بلاک کرنے کے بعد واپس بحال کر دیا تھا۔
کمپنی نے کہا ہے کہ یہ ایک ’انسانی غلطی‘ تھی جس کی وجہ سے یہ ویڈیو ہٹا دی گئی تھی جبکہ ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ فیروزہ عزیز کا اکاؤنٹ ان کے ماضی کے رویے کی وجہ سے بلاک کیا گیا تھا اور اس کا چینی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
فیروزہ نے اپنی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے اور اپنی حالیہ ویڈیو میں وہ چہرے کی دیکھ بھال کے بارے میں بتاتے ہوئے انڈیا کے نئے شہریت کے قانون پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ ان کی اس ویڈیو نے ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر زیادہ مقبولیت حاصل کی ہے اور اسے بعد میں ٹک ٹاک پر لگایا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ٹک ٹاک کے باس خودمختاری کے لیے اپنا صدر دفتر چین سے باہر قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن بائٹ ڈانس نامی کمپنی، جو ٹک ٹاک کی اصل مالک ہے، نے ان اطلاعات کو رد کیا ہے کہ وہ آزاد رہنے کے لیے اپنا یہ کاروبار بیچ رہے ہیں۔
دسمبر: ’الگ انٹرنیٹ‘ کا دور

،تصویر کا ذریعہSASHA MORDOVETS
ایک زمانے تک انٹرنیٹ تک سب کی رسائی بغیر کسی قیمت ممکن رہی ہے اور حکومتوں کے پاس یہ صلاحیت موجود نہیں رہی کہ اپنے شہریوں کو آن لائن جانے سے روکیں۔ لیکن روس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے عالمی انٹرنیٹ کے متبادل انٹرنیٹ کا پورے ملک میں کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اس اہم پیشرفت کو روس نے ’خود مختار انٹرنیٹ‘ کا نام دیا ہے۔
اس میں تمام ویب سائٹ ٹریفک کو خاص کنیکشن پوائنٹ سے گزارا جائے گا تاکہ قابل اعتراض مواد کو ہٹایا جا سکے۔ مقصد یہ بھی ہے کہ ایمرجنسی صورتحال میں ملک کے باہر سے آنے والی تمام ڈیٹا کو بلاک کر دیا جائے گا۔
سرکاری میڈیا کے مطابق یہ کاوش مقامی کمپنیوں اور حکومتی اداروں کو سائبر حملوں سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے کہا ہے کہ کریملن اس سے روس کے شہریوں کی ’ناپسندیدہ‘ معلومات تک رسائی ختم کرے گا۔
اگر یہ ہوتا ہے تو روس سینسرشپ میں چین، سعودی عرب اور ایران کی راہ اختیار کر لے گا۔
امریکہ میں قائم فریڈم ہاؤس نامی تنظیم نے کہا ہے کہ 2019 میں لگاتار نویں سال انٹرنیٹ کی عالمی آزادی میں کمی آئی ہے۔ روس کے علاوہ قازقستان، سوڈان اور برازیل میں انٹرنیٹ کے استعمال پر نظر رکھنا، سائبر حملے اور آن لائن غلط معلومات پر تشویش ظاہر کی جاتی ہے۔
صدر پوتن کی طرف سے نتائج کا جائزہ لیے جانے کے بعد وہ فیصلہ کریں گے کہ کس طرح آگے بڑھنا ہے۔ اس حوالے سے ہمیں روس کی کوششوں کے بارے میں مزید سنتے رہنا چاہیے۔ فی الحال کریملن کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس کا مقصد ’انٹرنیٹ کو الگ حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔‘













