اربوں ڈالر کے وہ دیو ہیکل گلیشیئر جو پگھلے جا رہے ہیں

Man looking at mountains in background

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ولیئم پارک
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

برف کے چمکتے دریا جو پہاڑوں کی چٹانوں کو چیرتے نیچے کو سکرتے ہیں، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گلیشیئر دیکھنے میں بہت خوبصورت ہوتے ہیں۔ مگر وہ ہماری زندگیوں میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

وہ زمین کے ہر براعظم پر صنعت، روزمرہ زندگی، ماحول، اور موسم سب کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ وہ دنیا کے گنجان ترین آبادیوں اور سب سے تیزی سے بڑھتے خطوں میں زندگی برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں۔

پانی کے بہت بڑے بڑے ذخائر کی طرح وہ اونچائی پر گرنے والی برف کو بارشوں کے سیزن میں پکڑ لیتے ہیں اور گرمیوں میں اسے پگھلا کر پانی فراہم کرتے ہیں۔ ایسا کرنے سے گلیشیئر اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ دریائوں میں سارا سال پانی کی رسد ہو۔

انسان گلیشیئر کی جانب سے فراہم کردہ پانی کی مدد سے پن بجلی پیدا کرتے ہیں، آب پاشی کرتے ہیں، جانوروں کو پانی پلاتے ہیں، صنعت اور آمد و رفت میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ بات کہ دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئر کا پانی پینے والے بیسن دنیا کے تیزی سے بڑھتے ہوئے ممالک میں ہیں، یہی بات گلیشیئرز کی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔

مگر گلیشیئرز قائم رکھنے کے لیے جس ماحولیاتی توازن کی ضرورت ہوتی ہے وہ کچھ عرصے سے خراب ہے۔ وہ نہ صرف کم ہوتے جا رہے ہیں بلکہ ان کے ختم ہونے کی رفتار بھی تیز ہوتی جا رہی ہے۔ یہ ان معیشتوں کو تباہ کر سکتا ہے جو کہ ان گلیشیئرز پر منحصر ہیں۔

ان پر انحصار کرنے والوں کو بچانے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دنیا کتنی تیزی سے گلیشیئرز کھو رہی ہے، اور ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کی قیمت کیا ہو گی۔

گلیشیئرز کے جمنے، ان کی موٹائی، ان پر برف کی موجودگی کا ڈیٹا لے کر صنعت، زراعت، ماحول اور انسانی آبادی کی ضروریات کا مقابلہ کر کے اٹریخٹ یونیورسٹی کے ماہرِ جغرافیہ آرتھر لٹز اور ان کے ساتھی مصنفین نے ایک گلیشیئر ولنرابلیٹی انڈیکس بنائی ہے جس میں 78 واٹر ٹاورز شامل کیے گئے ہیں۔

واٹر ٹاور میں متعدد گلیشیئر، پہاڑی سلسلے اور دریا ہو سکتے ہیں مگر انھیں عمومی طور پر ایک گروہ تصور کیے جاتے ہیں۔

اس طرح کرنے سے محققین ہر واٹر ٹاور کی اہمیت اجاگر کر سکیں گے۔

Ice caves

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مثال کے طور پر دریائے سندھ اور دریائے گنگا کا اس انڈیکس پر سکور کافی زیادہ ہے کیونکہ ان میں بہت زیادہ پانی قید ہے اور ان پر بہت زیادہ آبادی منحصر ہے۔

مثال کے طور پر پاکستان اور شمالی مغربی انڈیا میں دریائے سندھ دنیا کے سب سے بڑھ کر آبپاشی کے نظام کو چلاتا ہے۔ اربوں لوگ اس نظام کے ذریعے خوراک حاصل کرتے ہیں اور ان ممالک کی آبادیاں اور معیشتیں بڑھ رہی ہیں۔

لٹز کہتے ہیں کہ ’اس کے ساتھ ساتھ بڑی آبادیوں کو زیادہ پانی اور زیادہ خوراک کی ضرورت ہو گی۔ اس کے علاوہ امیر تر آبادیاں زیادہ پانی استعمال کرتی ہیں۔ امیر ممالک زیادہ گوشت کھاتے ہیں جس کے لیے زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔‘

گنگا برھماپترا اور سندھ بیسن سے پیدا ہونے والی قومی مجموعی پیداوار سنہ 2000 میں بالترتیب 418 ارب اور 296 ارب ڈالر تھا، جو کہ 78 گلیشیئر والے اس نظام میں چوتھے اور آٹھویں درجے پر آتے ہیں۔

سنہ 2050 تک جب انڈیا، پاکستان، اور بنگلہ دیش کی آبادیاں بہت بڑھ جائیں گی اور ان کے بیسنز کی مجموعی پیداوار نے 4947 ارب ڈالر اور 2574 ارب ڈالر تک پہنچنا ہے تو یہ لٹر کی درجہ بندی میں پہلے اور تیسرے نمبر پر آ جائیں گے۔

گلیشیئر ولنریبلیٹی انڈیکس ہمیں اس چیز میں مدد کرتی ہے کہ ہمیں ہم کتنی تیزی سے یہ وسائل کھو رہے ہیں۔ گلیشیئر اس چیز کا اچھا پیمانہ ہوتا ہے کہ ہم جانچیں کہ ہمارے سیارے کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

The Shyok river

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گلیشیئر ہر وقت ہی سرک رہے ہوتے ہیں، کچھ سینٹی میٹر یہاں تک کہ کبھی کبھی تو ایک وقت میں ہی کچھ میٹر۔ مگر ان کے حجم کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کتنی برف پگھل کر دریاؤں میں گئی اور کتنی برف اوپر سے پڑی۔ جب یہ دونوں تعداد میں برابر ہوں تو گلیشیئر مستحکم ہوتا ہے کہ جتنی برف گئی اتنی آ بھی گئی اور اس کا حجم برقرار رہتا ہے۔ مگر درجہ حرارت میں تھوڑے سے بھی اضافے سے زیادہ پگھلنے یا برف کم پڑنے سے گلیشیئر وقت میں اترنا شروع ہو جاتا ہے۔

گلیشئیر اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ کسی ایک سال کی زیادہ گرمی یا سردی سے انھیں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ گلیشیئر کے حجم میں اضافے یا کمی سے طویل المدتی موسمیاتی تبدیلی کی واصخ تصویر سامنے آتی ہے۔ ڈیویز کہتے ہیں ’ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ واضح طور پر ان کا حجم سکڑنا ہے جو کہ انسانی کی وجہ سے آنے والی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہے۔‘

سنہ 2000 اور 2019 کے درمیان عالمی سطح پر گلیشیئرز نے مجموعی طور پر ہر سال 267 گیگا ٹن پانی کھویا اور یہ شرح گرین لینڈ اور انٹارٹیکا کی آئیس شیٹز میں کمی سے زیادہ تیز ہو رہی ہے۔ انٹارٹیکا کی آئس شیٹ زمین کا 8.3 فیصد جبکہ گرین لینڈ 1.2 فیصد حصہ ڈھکے ہویے ہے جبکہ گلیشیئرز نے زمین کا صرف 0.5 فیصد ڈھکا ہوا ہے۔ وہ زمین کا چھوٹا سا حصہ ڈھکے ہویے ہیں مگر وہ تیزی سے غائب ہو رہے ہیں۔

اگر اسی ریٹ پر گلیشیئر غائب ہوتے رہے تو ہم کیا کھو سکتے ہیں؟

لندن کے کنگز کالج کی سائنسدان تمسن ایڈورڈز اور ان کے ساتھیوں نے گلیشیئرز کے پگھلنے کا ایک ماڈل بنایا ہے کہ اس کا سمندر کی سطح پر کیا اثر پڑے گا۔

سنہ 2100 تک اگر گلوبل وارمنگ کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کیا جائے تو سمندر کی سطح 12 سینٹی میٹر بڑھ جائے گی۔ دوسری جانب اگر ہمارے سیارے کا درجہ حرارت اتنی تیزی سے ہی بڑھتا رہے جتنی تیزی سے ابھی بڑھ رہا ہے تو سطح سمندر 25 سینٹی میٹر بڑھ جائے گا اور زیادہ پریشان کن صورتحال میں یہ 42 سینٹی گریڈ تک بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس میں تقریباً نصف حصہ گلیشیئرز کے پانی کا ہوگا۔

A glacier releasing water

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ تھوڑا سا ہی اضافہ لگتا ہے مگر اس کا اثر بہت زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ سطح سمندر ہر جگہ ایک ہی طرح نہیں بڑھتی۔ کچھ ایسے حصے ہیں جہاں پر یہ کہیں زیادہ بڑھے گی اور کہیں پر کم۔ مثال کے طور پر گرم علاقوں میں پانی کی سطح پانی کے تھرمل پھیلاؤ کی وجہ سے اور بھی بڑھے گی اور اس سے بہت زیادہ فرق پڑ سکتا ہے۔

جن عنصر کی وجہ سے سمندر کی سطح بڑھتی ہے، ان میں سب سے زیادہ موثر تھرمل پھیلاؤ ہے۔ اس کے بعد سب سے بڑا حصہ پہاڑی گلیشیئرز، آییس شیٹ، اور غیر گلیشیئرز ذخائر کا پگھلنا ہوتا ہے۔ گذشتہ 20 سالوں میں سمندری سطح میں جو اضافہ ہوا ہے ان میں پہاڑی گلیشیئرز کا حصہ 21 فیصد ہے۔

گلیشیئرز نہ صرف تازہ پانی کے ذخائر ہیں بلکہ وہ انتہائی نایاب حیاتیاتی نظام کے بھی ذمہ دار ہیں۔

بظاہر تو لگتا ہے کہ گلیشیئرز میں کوئی زندگی کے آثار نہیں ہیں لیکن زیرِ سطح آپ کو انتہائی نایاب جاندار ملتے ہیں۔ اگرچہ انتہائی کم فضائی دباؤ اور انتہائی زیادہ الٹرا وائولیٹ تابکار کی وجہ سے یہ جانداروں کے لیے اچپا ماحول نہیں ہے، مگر اس کی سطح پر مخصوص گلیشیئر ایلگی اگتی ہے۔ گلیشیئر کی سطح میں ایسے سوراخ بھی ہوتے ہیں جن کے اندر جاندار چیزیں ہو سکتی ہیں۔ ان سوراخوں کو کرائیکونائٹ سوراخ کہا جاتا ہے اور یہ تب بنتے ہیں جب گلیشیئر کی سطح پر مٹی اور گرد سورج کی تپش سے گرم ہوتے ہیں اور برف کی سطح کو پگھلانے لگتے ہیں۔

کرائیکونائٹ سوراخ کے اندر ایک پورا ایکو سسٹم بن جاتا ہے جو کہ آس پاس کی برف کے مقابلے میں قدرے گرم ہوتے ہیں اور میں پانی بھی ہوتا ہے اور مٹی میں خوراک بھی۔۔۔ یہاں فنگائی، بیکٹیریا، ٹارٹیگریڈز، اور کرٹاشیئنز ہوتے۔

برف کی تحہ کے اندر جہاں سورج کی روسنی نہیں پہنچتی، جانداروں کو اس کے نیچے بیڈ راک سے تونائی لینے پڑتی ہے۔ انفرادی طور پر زیرِ گلیشیئر جھیلوں میں ہزاروں قسم کے نایاب مائیکروبز پائے گئے ہیں تاہم ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کے نیچے کتنی قسم کے جاندار ہوں گے۔

جیسے جیسے گلیشیئرز میں کمی آ رہی ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ بائیو ڈائیورسٹی میں اضافے کی توقع ہے۔ مگر وہ ایسی جاندار چیزیں ہوگی جو کہ گرم تر موسم میں پیدا ہوں گی۔ اگر ہم نے گلیشیئر کھو دیے تو ہوسکتا ہے کہ ہم ایسے جاندار بھی کھو دیں جو کہ انتہائی مشکل موسم میں بھی زندہ رہ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

برف کے کنارے سے آگے گلیشیئرز بائیوڈائیورس ماحول کو محفوظ رکھتے ہیں۔ یونیورسٹی آف زیورخ کے ورلڈ گلیشییڑ مانیٹرنگ سروس کے اینس دسیلیئنٹ کا کہنا ہے کہ ’کچھ علاقوں میں گلیشیئر کا پگھلنا انتہائی اہم ہے۔‘ اینڈزی پہاڑی سلسلے کے شمال میں چلی، ایکواڈورئ بولیویا، آرجنٹینا، اور پیرو میں انتہائی اونچائی پر بارانی علاقے ہیں جنھیں بوفیڈیلز کہا جاتا ہے۔ یہاں پر کئی قسم کی نایاب جاندار چیزیں پائی جاتی ہیں۔

Animals feeding on land near a glacier

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہسپانوی راج سے پہلے سے ہائی اینڈز میں لوگ ان بوفیڈیلز کی مدد سے فصلوں کی آبپاشی اور جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے پانی لیتے ہیں۔ یہ بارانی علاقے ایک اہم کارن سنک بھی ہیں کیونکہ یہاں پر مٹی میں پیٹ کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ ابھی تک یہ مٹی کاربن سے بھری ہوئی ہے۔

مگر انھیں پانی فراہم کرنے والے گلیشیئر بہت چھوٹے ہیں اور ڈیویز کے مطابق ان میں پانی بھی کم ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم نے یہاں پر پیک واٹر کی سطح عبور کر لی ہے۔ پیک واٹر کی سطح وہ ہوتی ہے جب گلیشیئر کا پاھلنا تو تیز ہوتا ہے مگر اس کا حجم ابھی کافی ہوتا ہے۔

پیک واٹر کے بعد کے مرحلے میں گلیشیئر اتنا پانی نہیں دےہ پاتا کہ وہ اہم رہے۔ مگر اتنی اونچائی پر ان بارانی علاقوں کی بقا کے لیے گلیشیئر کا پانی ہی واحد راستہ ہے۔ لٹز کی انڈیکس میں پیرو کا پیسفک کوسٹ 2050 تک جی ڈی پی کے حوالے سے چوتھے نمبر پر آنے کی توقع ہے جو کہ 380 ارب ہو گا۔ یہ 2000 کے مقابلے میں 6.8 گنا ہے۔

اینس دسیلیئنٹ کہتے ہیں کہ گرمیوں میں اینڈئز اور ہمالیہ کی پہاڑیوں میں دریاؤں 70 سے 80 فیصد پانی گلیشیئرز سے آتا ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی گلیشیئرز نہیں ہوں تو ہمالیہ میں یہ ان 129 ملین کسانوں کے لیے تباہی ہوگی جو اس پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ دونوں اینس دسیلیئنٹ اور ڈیویز کہتے ہیں کہ ابھی بھی ممکن ہے کہ بدترین تباہی سے بچا جا سکے۔ آئی پی سی سی نے پیرس معاہدے میں گلوبل وارمنگ کی سطح 1.5 ڈگری رکھی تھی۔ ڈیورز کہتے ہیں کہ یہ 1.5 ڈگری اس بات میں فرق ہو سکتا ہے کہ ہم ساری برف کھو دیں یا اس میں سے زیادہ تر رکھ پائیں۔ ’اگر ہم 1.5 ڈگری سے کم رہے تو ہم بچ سکتے ہیں۔ میرے خیال میں ابھی بھی وقت ہے۔‘

،ویڈیو کیپشنایسا گلیشیئر جو بار بار بنتا اور ٹوٹتا ہے