کلائمیٹ مارچ: گریٹا تھنبرگ کے احتجاج سے لے کر عالمی مظاہروں تک

مارچ

،تصویر کا ذریعہTwitter/ZahraKDurrani

دنیا کے 150 کے قریب ممالک میں شہریوں نے موسمیاتی تبدیلی اور ماحول کو بچانے کی ضرورت کے حوالے سے مظاہروں کی عالمی مہم میں شرکت کی ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں منعقد ہونے والے یہ منظم مظاہرے ’گلوبل کلائمیٹ سٹرائک‘ کا حصہ ہیں۔

ان مظاہروں کا مقصد دنیا کی حکومتوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ انھیں ہمارے ماحول اور اس دنیا کے مستقبل کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

سڈنی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبحر الکاہل کے جزائر میں بسنے والوں کی سڈنی میں ریلی

یہ مظاہرے جمعے کے روز آسٹریلیا میں دن چڑھتے ہی شروع ہوئے۔

میلبرن

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کے شہر میلبرن میں نکالی جانے والی ریلی میں شریک ایک لڑکی کا حکومتوں اور بڑوں کے لیے پیغام

سڈنی، میلبرن اور دارالحکومت کینبرا میں ہزاروں کی تعداد میں بچے، نوجوان اور ادھیڑ عمر افراد سڑکوں پر مارچ کرتے اور ماحول دوستی کے پیغام کا پرچار کرتے نظر آئے۔

میلبرن

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمیلبرن کی ریلی میں ایک آسٹریلوی خاتون کا گرما گرم پیغام: ’ہم سب محض کیکٹس ہیں‘

بحرالکاہل میں واقع دور دراز جزائر سولومن آئی لینڈز پر بھی ’گلوبل کلائمیٹ سٹرائک‘ کے سلسلے میں احتجاج منعقد ہوا۔

سولومن آئی لینڈز

،تصویر کا ذریعہ350 Pacific/Reuters

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں طلبا نے زمین پر لیٹ کر احتجاج کیا۔

تھائی لینڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈونیشیا میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے والوں کو آلودہ کہرا یا سموگ کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

انڈونیشیا

،تصویر کا ذریعہReuters

انڈونیشیا

،تصویر کا ذریعہReuters

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بھی سکول کے بچوں نے بڑھ چڑھ کر کلائمیٹ مارچ میں حصہ لیا۔

ڈھاکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لائن

ایک لڑکی سے ہزاروں کے مجمعے تک

ان مظاہروں کی بنیاد 16 سالہ گریٹا تھنبرگ نامی ایک سویڈش لڑکی نے رکھی۔

گریٹا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کہا جاتا ہے کہ 2018 میں انھوں نے سکول جانے کے بجائے سٹاک ہوم میں پارلیمان کی عمارت کے باہر ایک پلےکارڈ کے ساتھ اکیلے احتجاج کر کے دنیا بھر میں شہرت پائی۔

گریٹا

،تصویر کا ذریعہHuw Evans picture agency

’سکول سٹرائیک فور کلائمیٹ‘ کے نام سے یہ تحریک تیزی سے دنیا بھر میں پھیل گئی اور یہ مظاہرے جمعے کے دن یورپ، آسٹریلیا اور امریکہ کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے لگے۔

گریٹا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گریٹا کو بھی دنیا بھر سے دعوتیں موصول ہوتی رہتی ہیں اور حال ہی میں انھوں نے برطانیہ سے امریکہ سمندر کے راستے کشتی پر سفر کر کے اقوامِ متحدہ کے گلوبل کلائیمیٹ ایکشن پروگرام کے حوالے سے آگاہی پھیلائی۔

گریٹا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے فرانس، امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے پارلیمان میں جا کر موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے خطاب بھی کیے ہیں۔

گریٹا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آج گریٹا دنیا بھر میں جانی جاتی ہیں اور وہ موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کی مہم کی ’پوسٹر گرل‘ بن گئی ہیں۔

پاکستان کے دیگر شہروں میں مظاہرے

مارچ

،تصویر کا ذریعہTwitter/ZartajGul

پاکستانی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گُل نے ریلی کے شرکا کے ساتھ مارچ کیا۔

باغ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ClimateActionPk

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر باغ میں طالبات نے اس عالمی مظاہرے میں اپنا حصہ ڈالا۔

مارچ

،تصویر کا ذریعہTwitter/ZahraKDurrani

اسلام آباد میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کیے گئے مظاہرے میں شامل خواتین پوسٹرز لیے کھڑی ہیں۔

عدنان ملک

،تصویر کا ذریعہTwitter/AmnestyInternationalSouthAsia

پاکستانی اداکار عدنان ملک نے بھی ماحول کو بچانے کی خاطر مارچ میں شمولیت اختیار کی۔

لاہور

،تصویر کا ذریعہTwitter/MehrBano

لاہور میں بھی لوگوں نے بڑھ چڑھ کر کلائیمیٹ مارچ میں حصہ لیا اور دلچسپ پوسٹرز بنا کر تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کیا۔

مارچ

،تصویر کا ذریعہTwitter/AmnestyInternationalSouthAsia

بڑوں کی طرح مارچ میں شامل بچوں نے بھی بھرپور جوش و خروش سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

مارچ

،تصویر کا ذریعہTwitter/SipraHassan

۔