کلائمیٹ مارچ: گریٹا تھنبرگ کے احتجاج سے لے کر عالمی مظاہروں تک

دنیا کے 150 کے قریب ممالک میں شہریوں نے موسمیاتی تبدیلی اور ماحول کو بچانے کی ضرورت کے حوالے سے مظاہروں کی عالمی مہم میں شرکت کی ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں منعقد ہونے والے یہ منظم مظاہرے ’گلوبل کلائمیٹ سٹرائک‘ کا حصہ ہیں۔

ان مظاہروں کا مقصد دنیا کی حکومتوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ انھیں ہمارے ماحول اور اس دنیا کے مستقبل کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

یہ مظاہرے جمعے کے روز آسٹریلیا میں دن چڑھتے ہی شروع ہوئے۔

سڈنی، میلبرن اور دارالحکومت کینبرا میں ہزاروں کی تعداد میں بچے، نوجوان اور ادھیڑ عمر افراد سڑکوں پر مارچ کرتے اور ماحول دوستی کے پیغام کا پرچار کرتے نظر آئے۔

بحرالکاہل میں واقع دور دراز جزائر سولومن آئی لینڈز پر بھی ’گلوبل کلائمیٹ سٹرائک‘ کے سلسلے میں احتجاج منعقد ہوا۔

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں طلبا نے زمین پر لیٹ کر احتجاج کیا۔

انڈونیشیا میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے والوں کو آلودہ کہرا یا سموگ کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بھی سکول کے بچوں نے بڑھ چڑھ کر کلائمیٹ مارچ میں حصہ لیا۔

ایک لڑکی سے ہزاروں کے مجمعے تک

ان مظاہروں کی بنیاد 16 سالہ گریٹا تھنبرگ نامی ایک سویڈش لڑکی نے رکھی۔

کہا جاتا ہے کہ 2018 میں انھوں نے سکول جانے کے بجائے سٹاک ہوم میں پارلیمان کی عمارت کے باہر ایک پلےکارڈ کے ساتھ اکیلے احتجاج کر کے دنیا بھر میں شہرت پائی۔

’سکول سٹرائیک فور کلائمیٹ‘ کے نام سے یہ تحریک تیزی سے دنیا بھر میں پھیل گئی اور یہ مظاہرے جمعے کے دن یورپ، آسٹریلیا اور امریکہ کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے لگے۔

گریٹا کو بھی دنیا بھر سے دعوتیں موصول ہوتی رہتی ہیں اور حال ہی میں انھوں نے برطانیہ سے امریکہ سمندر کے راستے کشتی پر سفر کر کے اقوامِ متحدہ کے گلوبل کلائیمیٹ ایکشن پروگرام کے حوالے سے آگاہی پھیلائی۔

انھوں نے فرانس، امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے پارلیمان میں جا کر موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے خطاب بھی کیے ہیں۔

آج گریٹا دنیا بھر میں جانی جاتی ہیں اور وہ موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کی مہم کی ’پوسٹر گرل‘ بن گئی ہیں۔

پاکستان کے دیگر شہروں میں مظاہرے

پاکستانی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گُل نے ریلی کے شرکا کے ساتھ مارچ کیا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر باغ میں طالبات نے اس عالمی مظاہرے میں اپنا حصہ ڈالا۔

اسلام آباد میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کیے گئے مظاہرے میں شامل خواتین پوسٹرز لیے کھڑی ہیں۔

پاکستانی اداکار عدنان ملک نے بھی ماحول کو بچانے کی خاطر مارچ میں شمولیت اختیار کی۔

لاہور میں بھی لوگوں نے بڑھ چڑھ کر کلائیمیٹ مارچ میں حصہ لیا اور دلچسپ پوسٹرز بنا کر تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کیا۔

بڑوں کی طرح مارچ میں شامل بچوں نے بھی بھرپور جوش و خروش سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

۔