’دا پیگاسس پراجیکٹ‘: ’انڈیا نے عمران خان کا نمبر ’پرسن آف انٹرسٹ‘ کے طور پر منتخب کیا تھا‘

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عابد حسین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فرانسیسی میڈیا گروپ ’فوربڈن سٹوریز‘ کو جن 50 ہزار نمبروں پر مشتمل ریکارڈ تک رسائی ملی ہے اس فہرست میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان، فرانسیسی وزیر اعظم ایمینوئل میکخواں، مراکش کے بادشاہ شاہ محمد ششم سمیت دنیا بھر کے 14 حکمرانوں کے نمبر شامل ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فوربڈن سٹوریز کے ساتھ ’دا پیگاسس پراجیکٹ‘ میں کام کرنے والے 17 صحافتی اداروں نے اس فہرست میں شامل نمبروں اور دیگر مواد سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ ان نمبروں کو اسرائیلی کمپنی این ایس او کی بنائے ہوئے پیگاسس سپائی ویئر استعمال کرنے والے کن ممالک نے منتخب کیا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا نمبر 2019 میں انڈیا نے بطور ’پرسن آف انٹرسٹ‘ یعنی اہمیت رکھنے والی شخصیت کے طور پر منتخب کیا تھا۔

تحقیق کے مطابق اس فہرست میں تین موجودہ صدور (فرانس، عراق، جنوبی افریقہ)، تین موجودہ وزرائے اعظم (پاکستان، مصر، مراکش)، سات سابق وزرا اعظم جب وہ اپنے عہدے پر تعینات تھے (یمن، لبنان، یوگانڈا، فرانس، قزاقستان، الجیریا، بیلجیئم) اور مراکش کے بادشاہ کے نمبر شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اس فہرست میں نمبر موجود ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس شخص کو پیگاسس کے ذریعہ ہیک کیا گیا ہو یا ہیک کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ یہ فہرست ان افراد کا تعین کرتی نظر آئی ہے جن کو ’پرسن آف انٹرسٹ‘ کے طور پر منتخب کیا گیا ہو۔

تاہم اس فہرست میں شامل افراد میں سے چند کے موبائل فونز کا تجزیہ کیا گیا تو اس سے معلوم ہوا کہ انھیں بعد میں پیگاسس کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ان رہنماؤں سے رابطہ کیا گیا تاہم ان میں سے کسی نے بھی اپنا فون تجزیہ کرنے کے لیے نہیں دیا جس سے اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ آیا ان افراد کے فونز کو کامیابی سے ہیک کیا گیا تھا یا ہیک کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

این ایس او نے ان نئے الزامات کی روشنی میں اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں، جن کا نام تحقیق کے مطابق اس فہرست میں مراکش کی جانب سے ڈالا گیا تھا، کو ان کا سپائی ویئر استعمال کرنے والے صارف ممالک نے ’کبھی بھی نشانہ نہیں بنایا۔‘

فرانسیسی صدر کے علاوہ مراکشی بادشاہ محمد ششم اور عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادہانوم کا نام بھی تحقیق کے مطابق مراکش کی جانب سے اس فہرست میں 2019 میں ڈالا گیا تھا تاہم این ایس او نے ان دونوں افراد کی جاسوسی کرنے کی بھی تردید کی ہے اور کہا کہ یہ 'نہ کبھی منتخب ہوئے تھے، اور نہ ہی کبھی بھی این ایس او کے کسی بھی صارف کا ہدف بنے تھے۔'

دیگر ناموں کے بارے میں این ایس او نے اپنی تردید میں کچھ نہیں کہا۔

اس بات کی یاد دہانی کرانا ضروری ہوگی کہ این ایس او نے مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا سپائی وئیر صرف اور صرف سرکاری اداروں کو جانچ کے بعد بیچا جاتا ہے اور اس کا مقصد صرف دہشت گردی اور جرائم پیشہ عناصر کو روکنا ہے۔

فرانس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں

دا پیگاسس پراجیکٹ کیا ہے؟

جولائی کی 18 تاریخ کو متعدد عالمی صحافتی اداروں میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فرانسیسی میڈیا گروپ 'فوربڈن سٹوریز' کو 50 ہزار سے زیادہ فون نمبرز پر مشتمل ریکارڈ تک رسائی حاصل ہوئی جن کو اسرائیلی نجی کمپنی این ایس او کے جاسوس سافٹ ویئر 'پیگاسس' کو استعمال کرتے ہوئے نگرانی اور جاسوسی کا ہدف بنایا گیا تھا۔

اس فہرست میں پاکستان اور انڈیا سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد فون نمبرز شامل تھے۔

اس تحقیق کے لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور 'فوربڈن سٹوریز' نے 17 مختلف صحافتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جن میں واشنگٹن پوسٹ، گارجئین، دا وائیر، ہاریٹز، لے مونڈ اور دیگر ادارے شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی جاسوس سافٹ ویئر این ایس او کی مدد سے صارف کسی بھی فون نمبر کے ذریعہ اپنے ممکنہ ہدف کے فون تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اس کی مدد سے فون کے تمام ڈیٹا کو حاصل کر سکتا ہے اور فون استعمال کرنے والے کی نقل و حرکت کو بھی جانچ سکتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور'فوربڈن سٹوریز' کی جانب سے اس ڈیٹا کا تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ این ایس او کا سافٹ ویئر استعمال کرنے والے 12 صارف ممالک نے نہ صرف 21 ممالک میں کام کرنے والے کم از کم 180 صحافیوں کی نگرانی کرنے کے لیے ان کے نمبرز منتخب کیے تھے بلکہ فون نمبرز کی اس فہرست میں حکومتی عہدے داروں، کاروباری شخصیات، جج، اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں کے نام بھی شامل ہیں۔

تحقیق کے مطابق پیگاسس کا استعمال کرنے والے این ایس او کے صارف ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈیا، بحرین، ہنگری، آذربائیجان، میکسیکو اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

راہل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنراہل گاندھی

فہرست میں شامل نمبروں میں سے دو نمبر انڈیا کی دوسری سب سے بڑی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی نگرانی کے ممکنہ اہداف میں شامل تھے۔

اس کے علاوہ راہول گاندھی کے پانچ قریبی دوست اور کانگریس سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کے نمبر بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔

تحقیق کی تفصیلات کے مطابق انڈیا سے تعلق رکھنے والے ہزار سے زیادہ نمبر جن کو جاسوسی کے لیے بطور ہدف چنا گیا تھا ان میں کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں، پاکستانی سفارتکاروں، چینی صحافیوں، سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنان اور کاروباری افراد شامل ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ، جو کہ اس تحقیقی منصوبے کا حصہ ہے، کے مطابق انھوں نے پاکستان وزیر اعظم عمران خان سے رد عمل لینے کے لیے رابطہ کیا لیکن انھیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب این ایس او کا پاکستان سے تعلق جوڑا گیا ہو۔

دسمبر 2019 میں برطانوی اخبار گارجئین کی ایک خبر کے مطابق اس سال اسرائیلی کمپنی این ایس او کی بنائی گئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم دو درجن پاکستانی سرکاری حکام کے موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

پیگاسس

اس تحقیق میں اور کس کس کے نمبرز شامل ہیں؟

انڈین صحافی سمیتا شرما کو حال ہی میں یہ معلوم ہوا کہ سنہ 2018 اور سنہ 2019 کے درمیان اُن کا فون ہیک کیے جانے اور جاسوسی کا ہدف تھا۔ دفاعی اور خارجہ اُمور پر کام کرنے والی صحافی کہتی ہیں کہ اگر ان کے فون کی ہیکنگ کامیاب ہو جاتی تو اس سے ان کے سورسز یعنی ذرائع کی زندگیوں کو خطرہ ہو سکتا تھا۔

سمیتا شرما تو اس حوالے سے خوش قسمت رہیں کہ ان کا فون ہیک نہیں ہوا لیکن آذربائیجان کی خدیجہ اسماعیلیوا کے ساتھ ایسا نہ ہو سکا۔

آذربائیجان حکومت نے ان پر پانچ سال کی سفری پابندی عائد کر دی تھی اور ان کے خلاف اس قدر سخت جاسوسی کی جا رہی تھی کہ ان کے گھر میں خفیہ کیمرے نصب کر دیے اور ان کی اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ سیکس کی ویڈیوز بھی ان کو بدنام کرنے کے لیے شائع کر دیں، اور پھر انھیں سات سال جیل کی قید سنا دی۔

تاہم 18 ماہ بعد ضمانت پر رہا ہونے اور پھر سفری پابندی ہٹ جانے کے بعد خدیجہ نے جب مئی 2021 میں ملک سے روانہ ہوئیں تو ان کا خیال تھا کہ وہ اب آزاد ہو جائیں گی لیکن یہ ان کی بھول تھی کیونکہ گذشتہ تین برسوں سے اُن کا فون اسرائیلی کمپنی ’این ایس او‘ کے بنائے ہوئے جاسوس سافٹ وئیر کی مدد سے مسلسل نگرانی کا شکار تھا۔

اس سافٹ وئیر کی مدد سے خدیجہ کے فون کا تمام مواد، ان کی نقل و حرکت، ان کے فون کا کیمرا اور مائیک کا کنٹرول سافٹ ویئر کے استعمال کرنے والے کے پاس تھا۔

انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فرانسیسی میڈیا گروپ 'فوربڈن سٹوریز' کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق خدیجہ اسماعیلیوا کا شمار دنیا بھر کے اُن ہزاروں انسانی حقوق پر کام کرنے والے سرگرم کارکنوں، صحافیوں اور وکلا میں سے ہے جن کو اسرائیلی کمپنی این ایس او کے جاسوسی کے سافٹ وئیر 'پیگاسس' کو استعمال کرتے ہوئے نگرانی کا ہدف بنایا گیا تھا۔

انڈیا میں کام کرنے والے صحافی جن کے نمبر اس ریکارڈ میں ملے ہیں ان کا تعلق انڈیا کے بڑے اور معتبر میڈیا اداروں جیسا کہ دا ہندو، دا وائیر، انڈیا ایکسپریس، انڈیا ٹوڈے اور دیگر سے ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور'فوربڈن سٹوریز' نے یہ ابھی تک واضح نہیں کیا کہ یہ لسٹ کہاں سے آئی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فہرست میں دیے گئے نمبرز میں سے 67 سمارٹ فونز کا جائزہ لیا جن پر شبہ تھا کہ ان کو جاسوسی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان میں سے 23 فونز میں تو یہ واضح طور پر نظر آیا کہ ان پر ہیکنگ کے حملے کامیاب ہوئے جبکہ 14 فونز ایسے تھے جن پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئی۔

دوسری جانب بقیہ 30 نمبرز پر کیے گئے تجزیے مکمل نہ ہو سکے کیونکہ ان کے فونز تبدیل کر دیے گئے تھے۔

اب تک کی شائع کی گئی معلومات کے مطابق اس فہرست میں کم از کم 180 صحافیوں کے نمبر شامل ہیں جن کا تعلق دنیا کے چند معتبر اداروں جیسے اے ایف پی، سی این این، نیو یارک ٹائمز، الجزیرہ اور دیگر مختلف اداروں سے ہے۔

اس کے علاوہ فہرست میں بڑی تعداد میں انسانی حقوق کے سلسلے میں کام کرنے والے کارکنوں کے نمبر ہیں اور ساتھ ساتھ 2018 میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں ہلاک کیے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی اہلیہ اور منگیتر کے نمبر بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ فہرست میں کئی ممالک کے سربراہوں اور اعلی حکومتی عہدیداروں کے بھی نمبر شامل ہیں اور اس کے علاوہ چند عرب ممالک کے شاہی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور معروف کاروباری شخصیات کے بھی نمبر شامل ہیں۔

ان نمبروں کے بارے میں تفصیلات آنے والے چند دنوں میں شائع کی جائیں گی۔

پیگاسس

این ایس او اور فہرست میں شامل دیگر ممالک کا رپورٹ پر کیا رد عمل ہے؟

اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ نے فوربڈن سٹوریز اور دیگر میڈیا اداروں کو جمع کرائے اپنے جواب میں کہا کہ یہ تحقیق ’مغالطوں‘ اور ’غیر مصدقہ مفروضوں‘ پر مبنی ہے اور انھوں نے زور دیا کہ این ایس او تو ’لوگوں کی زندگیاں بچانے کے مشن پر کاربند ہے۔‘

کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا سافٹ ویئر جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور وہ پیگاسس سافٹ ویئر صرف اور صرف اُن ممالک کے عسکری اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کو فروخت کرتے ہیں جن کا انسانی حقوق کا ریکارڈ اچھا ہوتا ہے۔

ادھر انڈین حکومت نے بھی ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان دعوؤں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ انڈین حکومت چند مخصوص لوگوں کی نگرانی کر رہی تھی۔

’ہم اس بات پر پورا یقین رکھتے ہیں کہ آزادی اظہار رائے بنیادی حق ہے اور ہمارے جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔‘

واضح رہے کہ ماضی میں انڈین حکومت نے اس دعویٰ کی تردید کی تھی کہ وہ این ایس او کے صارف ہیں۔ تاہم اس سے قبل پیگاسس کے بارے میں کی گئی رپورٹنگ سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ 2019 میں کم از کم 121 افراد کو انڈیا میں نگرانی کی لیے نشانہ بنایا گیا تھا۔

واٹس ایپ نے بھی 2019 میں این ایس او کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کی تھی جس میں انھوں نے الزام لگایا تھا کہ کمپنی نے 1400 موبائل فونز کو اپنے پیگاسس سافٹ وئیر کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

پاکستان اور این ایس او کا تعلق

دسمبر 2019 میں برطانوی اخبار دی گارجئین کی ایک خبر کے مطابق اس سال کے اوائل میں اسرائیلی کمپنی این ایس او کی بنائی گئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم دو درجن پاکستانی سرکاری حکام کے موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

واٹس ایپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خبر کے مطابق یہ واضح نہیں تھا کہ اس حملے میں کون ملوث ہے لیکن خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ممکن ہے کہ پاکستان کا روایتی حریف انڈیا اس کے پیچھے ہو۔

اس خبر کی تصدیق کے لیے جب بی بی سی نے پاکستانی حکام سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ اس ہیکنگ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

اس واقعے سے ایک ماہ قبل نومبر 2019 میں پاکستانیِ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن کی جانب سے جاری کیا گیا ایک ’خفیہ‘ مراسلہ منظر عام پر آیا جس میں کہا گیا کہ ’وہ سینیئر حکومتی اہلکار جو کہ حساس عہدوں پر فائز ہیں وہ میسیجنگ ایپ واٹس ایپ پر سرکاری دستاویزات نہ بھیجیں، اپنے واٹس ایپ کو تازہ ترین اپ ڈیٹ کے ساتھ استعمال کریں اور 10 مئی 2019 سے پہلے خریدے گئے اپنے فون کا استعمال ترک کریں۔‘

اس مراسلے میں بتایا گیا تھا کہ ’دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں نے ایسی صلاحیت حاصل کر لی جس کی مدد سے موبائل فون تک رسائی ہو سکتی ہے اور کہا گیا کہ ایک اسرائیلی کمپنی این ایس او کے سپائی ویئر کی مدد سے 20 سے زائد ممالک میں صارفین متاثر ہوئے ہیں جس میں پاکستانی صارفین بھی شامل ہیں۔‘

مراسلے کی اشاعت کے چھ ہفتے بعد، 20 دسمبر کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پریس ریلیز جاری کی جس میں ’میڈیا رپورٹس‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’پی ٹی اے نے پاکستان میں متاثرہ صارفین کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے نہ صرف واٹس ایپ انتظامیہ کے ساتھ معاملہ اٹھایا ہے بلکہ واٹس ایپ انتظامیہ کی جانب سے اختیار کیے گئے حفاظتی اقدامات جن کے ذریعے مستقبل میں ہیکنگ کی روک تھام کی جا سکتی ہے کے بارے میں آگاہی حاصل کی جا سکے۔‘