امریکی صدارتی انتخاب: ٹوئٹر، فیس بک صدر ٹرمپ کی غلط بیانی پر ایکشن لے سکتے ہیں تو پاکستانی سیاستدانوں پر کیوں نہیں؟

امریکہ

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, سارہ عتیق
    • عہدہ, بی بی سی اردر ڈاٹ کام، اسلام آباد

اگر آپ ٹوئٹر پر امریکی صدر ٹرمپ کی صدارتی انتخاب سے متلعق ٹویٹس دیکھیں تو اکثر کے ساتھ آپ کو یہ تنبیہ نظر آئے گی کہ 'اس ٹویٹ میں الیکشن سے متعلق دی گئی معلومات گمراہ گن ہو سکتی ہیں۔'

یہ پیغام اور اس نوعیت کے دیگر مختلف اقدامات سوشل میڈیا کمپنیوں کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صدارتی انتخاب کی شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

2016 کے امریکی صدراتی انتخاب میں بین الاقوامی طاقتوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے مداخلت کی خبروں اور کیمبرج اینالیٹکا جیسے سکینڈل سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا کمپنیوں، خاص طور پر فیس بک کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

جبکہ 2020 کے امریکی انتخابات سے قبل بھی امریکی انٹیلیجنس کی اعلیٰ قیادت نے انتباہ کیا تھا کہ بیرونی طاقتیں 'کھل کر یا ڈھکے چھپے انداز میں' امریکی ووٹروں کو کسی ایک امیدوار کو ووٹ دینے کی جانب راغب کریں گی اور بیرونی طاقتوں سے ان کی مراد روس، چین اور ایران ہیں۔

لہذا موجود انتخابات کو متنازع بننے سے روکنے کے لیے ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب اور ٹک ٹاک کی جانب سے متعدد اقدامات اٹھانے کا علان کیا گیا۔

امریکی صدارتی انتخاب کے دوران سوشل میڈیا پر غلط معلومات ، جھوٹی خبروں اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھائے گئے۔

فیس بک

امرییکہ

،تصویر کا ذریعہFacebook/Donald Trump

میڈیا اور سول سوسائٹی نے 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں فیس بک کے کردار کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔

تاہم فیس بک کے بانی مارک زکر برگ اس قسم کے مطالبات کو یہ کہہ کر مسترد کرتے آئے ہیں کہ سیاستدانوں کے بیانات کی تصدیق کرنا فیس بک کا کام نہیں اور ایسے اقدامات آزادی رائے پر قدغن لگانے کے مترادف ہو سکتا ہے۔

لیکن میڈیا ، سول سوسائٹی اور امریکی پارلیمان کی جانب سے بڑھتے دباؤ کے بعد فیس بک نے اعلان کیا کہ وہ 2020 کے انتخابات میں کسی بھی امیدوار کی جانب سے سرکاری نتائج کے اعلان سے پہلے فیس بک پر جیت کے دعوی کرنے کی صورت میں اس پوسٹ کے ساتھ یہ تنبیہ جاری کرے گا کہ 'ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور سرکاری نتائج کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے'۔

اسی طرح کسی بھی صدارتی امیدوار کی جانب سے الیکشن میں دھاندلی سے متعلق بیانات پر بھی فیس بک یہ تنبیہ جاری کرے کرے گا کہ 'امریکہ کے قوانین اور ادارے الیکشن کی شفافیت کو یقینی بناتے ہیں'

اس کے علاوہ کسی امیدوار نے فیس بک پر سیاسی اشتہارات پر کتنی رقم خرچ کی، اس سے متعلق معلومات بھی صارفین کے لیے 'اشتہارات کی لائبریری' کے ذریعے فراہم کر دی گئی ہیں۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہFacebook/DonaldTrump

فیس بک کی جانب سے یہ بھی اعلان کیا گیا کہ وہ صدارتی انتخاب یعنی تین نومبر کے بعد سے امریکہ میں تمام سیاسی اشتہرات پر غیر معینہ مدت تک پابندی عائد کر رہا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کے بعد فیس بک پر 'سٹاپ دی سٹیل' یعنی 'الیکشن چوری ہونے سے روکو ' کے نام سے ایسے متعدد گروپس بنائے گئے جن میں لوگوں سے مبینہ دھندلی کے خلاف احتجاج کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک دن کے اندر ہی تین لاکھ سے زائد افراد نے اس گروپ میں شمولیت اختیار کی جس کے بعد فیس بک نے ان گروپس پر پابندی عائد کر دی۔

ٹوئٹر

اس سال مئی میں ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی ٹویٹ پر پہلی مرتبہ یہ تنبیہ جاری کی کہ 'اس ٹویٹ میں دیا گیا مواد غلط یا گمراہ کن ہو سکتا ہے' اور اسے کے ساتھ اس ٹویٹ کی ٹوئٹر صارفین تک رسائی، اس پر تبصرہ کرنے اور اس کو شئیر کرنے کی سہولت کو بھی محدود کر دیا۔

اس کے بعد ٹوئٹر کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ وہ آئندہ ان تمام ٹویٹس پر یہ وارننگ جاری کرے گا جو امریکی صدارتی انتخاب سے متعلق غلط معلومات پھیلانے کا باعث بن سکتی ہیں۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@realDonaldTrump

اس کے بعد سے اب تک ٹوئٹر صدر ٹرمپ، ان کے بیٹے اور ان کی ٹیم کے اراکین کی متعدد ٹویٹس پر یہ انتباہ جاری کرتے ہوئے ان کی رسائی کو محدود کر چکے ہیں۔

الیکشن کے دن سے اب تک صدر ٹرمپ کی جانب سے کی گئی متعدد ٹویٹس پر یہ وارننگ دی جا چکی ہے۔

ٹوئٹر نے یہ بھی اعلان کیا وہ تشدد پر اکسانے والے مواد اور ہیش ٹیگز پر بھی کڑی نظر رکھے گا اور اسے فوراً پلیٹ فارم سے ہٹا دیا جائے گا۔

یوٹیوب

امریکی انتخابات میں ووٹنگ کے بعد متعدد یوٹیوب چینلز پر نتائج کی لائیو سٹریمنگ کی گئی جن میں ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کی برتری سے متلعق غلط معلومات فراہم کی گئی جس کے بعد یوٹیوب نے ان ویڈیوز کو یوٹیوب سے ہٹانے کا اعلان کیا۔

اس کے علاوہ امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج سے متلعق ویڈیوز پر یہ تنبیہ جاری کی کہ 'سرکاری نتائج کا اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا۔'

امریکہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@TeamYouTube

ٹک ٹاک

چینی کمپنی ٹک ٹاک کی جانب سے بھی اعلان کیا وہ امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج سے متعلق غلط معلومات یا جھوٹی خبروں کی رسائی کو اپنے پلیٹ فارم پر جتنا محدود ہو سکے کرے گا اور اسے کے علاوہ ٹک ٹاک باقی پلیٹ فارمز کی طرح اس الیکشن سے متعلق ہر ویڈیو پر تنبیہ جاری کر رہا ہے کہ 'سرکاری نتائج کا اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا۔'

سوشل میڈیا کمپنیز کے اقدامات جمہوری اقدار کا تحفظ یا آزادی اظہار رائے پر قدغن ؟

سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے اپنے پالیسی بیانات میں متعدد بار زور دیا گیا ہے کہ ان کی جانب سے یہ اقدامات امریکہ سمیت دنیا بھر میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

لیکن صدر ٹرمپ سمیت چند مبصرین نے ان اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ اقدامات آزادی رائے اور سیاسی سرگرمیوں پر قدغن کے مترادف ہے اور ان کا مقصد قدامت پسند نظریات کی حوصلہ شکنی ہے۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Defnoodles

جمہوریت کا تحفظ صرف امریکہ میں ہی کیوں؟

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی میں ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والی حجا کامران کا کہنا ہے کہ اگرچہ سوشل میڈیا کمپنیز امریکی صدارتی انتخاب میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خلاف کافی سرگرم عمل ہیں لیکن ان کے یہ اقدامات صرف امریکہ یا مغربی مملک تک ہی محدود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غلط معلومات کا پھیلاؤ پاکستان اور انڈیا جیسے ممالک کی جمہوریت کے لیے بھی اتنا ہی بڑا خطرہ ہیں جتنا کہ مغربی مملک کے لیے۔

'ہم نے دیکھا کہ ٹوئٹر نے امریکہ میں ہونے والی ٹویٹس پر تو تنبیہ جاری کی لیکن جب پاکستانی صحافی ارشد شریف نے امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج سے قبل ہی جو بائیڈن کی جیتنے سے متلعق غلط معلومات شئیر کی تو نہ تو اسے ہٹایا گیا اور نہ ہی اس پر کسی قسم کی تنبیہ جاری کی گئی۔'

حجا کا کہنا ہے کہ کیونکہ امریکہ میں ان قوانین کا نفاذ سختی سے کیا جاتا ہے تو یہ انٹرنیٹ کمپنیاں وہاں ایسے اقدامات پر سختی سے عمل کرتی ہیں لیکن پاکستان جیسے ممالک میں قوانین نہ ہونے یا اس پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث یہ کمپنیاں ایسی پالیسیز کے نفاذ پر عمل درآمد نہیں کرتیں۔

'پاکستانی سیاستدان اور حکومتی اراکین بھی ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر متعدد بار غلط بیانی کرتے ہیں لیکن ان کے بیانات پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا کیونکہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو معلوم ہے کہ اگر انھوں نے ایسا کیا تو ان پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔'