اگ نوبل انعام: سائنس کے عجیب و غریب تجربات کو سراہنے کے لیے قائم کیے گئے ایوارڈز کے 30ویں سال میں امن کا ’مزاحیہ نوبل‘ انڈیا اور پاکستان کے نام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس سال امن کا ’اگ نوبل انعام‘ انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں کو دیا گیا ہے کیونکہ ان کے سفارت کار آدھی رات کو ایک دوسرے کی گھنٹیاں بجا کر دروازہ کھلنے سے پہلے ہی بھاگ جاتے تھے۔
سنہ 2018 میں برطانوی اخبار گارڈئین کی ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد نے دہلی میں اپنے ہائی کمشنر کو اس وقت مشاورت کے لیے وطن واپس بلا لیا تھا جب دونوں ممالک کے سفارتی عملے نے ایک دوسرے پر ہراسانی کے الزامات لگائے۔
ہراسانی کے ان الزامات میں ہائی کمیشن کے دفتر کی کاروں کا پیچھا کرنا، پانی اور بجلی کے پائپ اور تاریں کاٹنا حتٰی کے رات کے تین بجے سینیئر سفارت کاروں کے گھروں کی گھنٹیاں بجا کر بھاگ جانا بھی شامل تھا۔
گھنٹی بجانے والے کیس میں شکایت اسلام آباد میں انڈیا کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کی طرف سے سامنے آئی تھی جبکہ دہلی میں ان کے ہم منصب نے بھی ایسی ہی شکایت کی تھی۔
یہ تو ہو گیا گھنٹیاں بجا کر بھاگنے کا معاملہ، مگر کیا آپ نے اُس مگرمچھ کے بارے میں سُنا ہے جس نے ایک پارٹی کے دوران ہیلیئم گیس میں سانس لے کر مضحکہ خیز آواز میں بات کرنا شروع کر دی؟
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ کوئی لطیفہ نہیں بلکہ سٹیفن ریبر اور ان کے ساتھیوں کا ایک سنجیدہ تجربہ تھا جس میں انھوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مگرمچھ آپس میں رابطہ کیسے کرتے ہیں۔
اگرچہ یہ سنجیدہ تحقیق تھی لیکن اس کے مزاحیہ پہلوؤں کے باعث ٹیم سٹیفن اور ان کی ٹیم کو اگ نوبل انعام سے نوازا گیا۔
اسی طرح کے دس ایوارڈز کا جمعرات کو مزاحیہ سائنسی جریدے ’اینلز آف امپروبِبل ریسرچ‘ میں اعلان کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2020 کے دوسری فاتحین میں وہ ٹیم بھی شامل تھی جنھوں نے خود پسند افراد کی شناخت کے لیے ایک طریقہ وضع کیا تھا، ایک اور گروہ ایسا بھی ہے جو یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ جب زمینی کیڑوں کو تیزی سے ہلایا جائے تو کیا ہوتا ہے۔
یہ سب سطحی طور پر محض بےوقوفی کی باتیں لگتی ہیں، لیکن اگر غور سے مشاہدہ کریں تو احساس ہوتا ہے کہ اگ نوبل انعامات کے ذریعے سامنے لائی جانے والی زیادہ تر تحقیقات کا مقصد حقیقی زندگی کے مسائل سے نمٹنا ہے اور یہ مستند جرائد اور علمی رسالوں میں شائع بھی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر رابرٹ نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ اگ ایوارڈ حاصل کرنے سے ان کی عزت افزائی ہو گی۔
تحقیق میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ مگرمچھ اور دوسرے رینگنے والے جانور اپنی آواز کے ذریعے اپنے جسم کے حجم کی نمائش کیسے کر سکتے ہیں، جو عمل اکثر ممالیا جانور اور پرندے اپنی آواز کے ذریعے کرتے ہیں۔
’اگر آپ بڑے سائز میں ہیں تو آپ کی آواز والی نالی میں گونج کم ہو جاتی ہے کیونکہ یہ ایک بہت بڑی جگہ ہے جس میں ہوا وائبریٹ سکتی ہے۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ حقیقت میں رینگنے والے جانور گونج نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر مینڈک، ایمفیبین (خشکی اور تری دونوں پر رہنے والا جانور)وغیرہ۔ لہذا اس تصور کے لے ہمیں ثبوت کی ضرورت ہے کہ درحقیقت مگرمچھوں بھی گونج رکھتے ہیں۔‘
اس تجربے کے لیے ایک ٹینک میں مگرمچھ کو ڈالا گیا تھا جسے باری باری عام ہوا، آکسیجن اور ہیلیئم فراہم کی جاتی۔ ہر بار آواز کے ٹشوز کی وائبریشن تبدیل نہیں ہوتی ہے لیکن جانوروں کی آوازیں تبدیل ہو جاتی ہیں کیونکہ گیس کے مختلف مرکب میں آواز کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔
اگ نوبل انعام کیا ہیں؟
یہ 30واں سال ہے جب اگ نوبل انعام پیش کیے گئے ہیں۔
ان انعامات کا مرکز امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی کا سینڈرز تھیٹر ہے اور یہ تقریب ہمیشہ خاصی ہنگامہ خیز ہوتی ہے۔ اکثر ایک چھوٹی سی لڑکی بھی شامل ہوتی ہے جو کسی بھی ایسے شخص کو ’بورنگ‘ کی آوازیں لگاتی ہے جبکہ ہال میں زیادہ تر لوگ کاغذ کے ہوائی جہاز اڑا رہے ہوتے ہیں۔
لیکن کووڈ 19 کی وبا کے باعث یہ تقریب بھی آن لائن منتقل ہو گئی۔
تاہم کچھ روایات کو برقرار رکھا گیا ہے، جیسے اصلی نوبل انعام یافتہ افراد کی شمولیت۔ ڈاکٹر ریبر کی ٹیم کو برطانیہ میں مقیم محقق آنڈرے گائم نے اگ نوبل انعام پیش کیا۔ ڈاکٹر آندرے نے گرافین پر اپنے کام کے لیے 2010 میں فزکس کا نوبل جیتا تھا۔
پروفیسر گائم کو خود بھی مینڈکوں کی چھلانگوں پر تحقیق کرنے کے لیے اگ نوبل انعام مل چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAnnals of Improbable Research
سنہ 2020 میں اگ نوبل انعامات جیتنے والوں کی مکمل فہرست یہ ہے۔ ہر جیتنے والی ٹیم کو 10 کھرب ڈالر کا نقد انعام دیا جاتا ہے، تاہم یہ 10 کھرب زمبابوے کی کرنسی میں ادا ہوتے ہیں!
- صوتی طب: سٹیفن ریبر، ٹاکیشی نشیمورا، جوڈتھ جینش، مارک رابرٹسن اور ٹیکسمے فچ، جنھوں نے ہیلیئم سے بھرے چیمبر میں ایک مادہ مگرمچھ کو داخل کیا۔
- نفسیات: ِمرانڈا گایاکومین اور نکولس روول، جنھوں نے خود پسند افراد کی شناخت ان کی بھوؤں کے ذریعے کرنے کا طریقہ وضع کیا۔
- امن: انڈیا اور پاکستان کی حکومتیں، دونوں حکومتوں کے سفارتکار جو آدھی رات کو ایک دوسرے کی گھنٹیاں بجا کر بھاگ جاتے ہیں۔
- طبیعیات: آئیون مکسیموف اور اینڈری پوٹسکی جنھوں نے اس بات کا تعین کرنے کے لیے تجربہ کیا کہ جب کسی کیڑے کو زیادہ فریکونسی سے وابریٹ کیا جائے تو جاندار کی شکل پر کیا فرق پڑتا ہے۔
- معاشیات: کرسٹوفر واٹکنز اور ان کے ساتھی۔ انھوں نے مختلف ممالک کی قومی آمدنی میں عدم مساوات اور بوسوں کی اوسط مقدار کے مابین تعلقات جاننے کی کوشش کی ہے۔
- مینیجمنٹ: چین کے شہر گوانگ ژی میں ژی گوانگ ان، مو ٹیان ژیانگ، یانگ کانگ شینگ، یانگ گوانگ شینگ اور لنگ ژیان شی، پانچ پیشہ ور قاتل جنھوں نے ایک ہی قتل ایک، دوسرے کے ذمے لگایا اور آخر میں کسی نے وہ قتل نہیں کیا۔
- اینٹومولوجی: رچرڈ ویٹر، جنھوں نے یہ ثبوت اکٹھے کیے کہ بہت سارے اینٹومولوجسٹ، یعنی کیڑوں کا مطالعہ کرنے والے سائنسدان، مکڑیوں سے ڈرتے ہیں، جو کہ کیڑے کی قسم نہیں ہیں۔
- میڈیکل کی تعلیم: برازیل کے جائر بولسنارو، برطانیہ کے بورس جانسن، انڈیا کے نریندر مودی، میکسیکو کے آندریز مینویئل لوپیز اوبراڈو ، بیلاروس کے الیگزینڈر لوکاشینکو، امریکہ کے ڈونلڈ ٹرمپ، ترکی کے طیب اردوغان، روس کے ولادیمیر پوتن اور ترکمانستان کے گربنگولی بردی محمدوو جنھوں نے کووڈ 19 کی وبا کو دنیا کو یہ سکھانے کے لیے استعمال کیا کہ سائنس دانوں اور ڈاکٹروں کی نسبت سیاست دانوں کا زندگی اور موت پر زیادہ فوری اثر ہوتا ہے۔
- دھاتوں کی سائنس: میٹین ایرین، مشیل بیبر، جیمز نورس، ایلیسا پیرون، ایشلے رٹکوسکی، مائیکل ولسن اور میری این راگھانتی کو یہ انعام اس لیے دیا گیا کہ انھوں نے ثابت کیا ہے کہ برف کی مانند منجمد انسانی فضلے سے تیار کردہ چاقو صحیح طرح کام نہیں کرتے۔











