حسن منہاج: نیٹ فلکس کی جانب سے انڈین نژاد امریکی مزاحیہ فنکار کا شو بند کرنے پر سوشل میڈیا صارفین برہم

،تصویر کا ذریعہNetflix
امریکہ میں پرائم ٹائم پر نشر ہونے والے سیاسی تبصروں اور مزاحیہ پروگرامز میں سفید فام آوازوں کے علاوہ دیگر اقلیتی گروہوں کی آوازیں تو پہلے ہی کم تھیں لیکن گذشتہ روز ایک اور ’منفرد‘ اور ’اہم‘ جنوبی ایشیائی آواز کم ہو گئی ہے۔
یہ ہیں 34 سالہ حسن منہاج جن کا سیاسی و معاشرتی امور پر مبنی منفرد اور مزاحیہ تبصروں کا شو ’پیٹریئٹ ایکٹ‘ گذشتہ روز نیٹ فلکس نے بند کر دیا ہے۔
حسن منہاج نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے شو کے مداحوں کو الوداع کہا اور اپنی ٹیم میں شامل مصنفین، ہدایت کاروں، محققین اور اینیمیٹرز کا شکریہ ادا کیا۔
پیٹریئٹ ایکٹ کی شروعات اکتوبر 2018 میں ہوئی اور سٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس پر اس کے کل چھ سیزن اور 40 اقساط نشر ہو چکی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اس شو کی ہر قسط میں ایک نئے موضوع پر مختلف زاویوں پر بحث ہوتی اور حسن ان پر مزاحیہ تبصرے بھی کرتے۔
حسن منہاج کون ہیں؟
حسن منہاج دراصل ایک انڈین نژاد امریکی مزاحیہ فنکار ہیں جن کے والدین کا تعلق انڈیا سے ہے اور وہ ایک مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔
حسن منہاج نے اپنے کیریئر کا آغاز ’سٹینڈ اپ کامیڈی‘ سے کیا اور اس کے بعد ٹیلی ویژن پر وہ ٹریور نواح کے ’دی ڈیلی شو‘ میں رپورٹر کے طور پر نظر آئے۔
انھوں نے 2017 کے وائٹ ہاؤس کاریسپانڈینٹس ڈنر میں میزبانی کے فرائض بھی نبھائے۔ وہ اب تک دو پی باڈی اور دو ویبی ایوراڈز جیت چکے ہیں اور انھیں سنہ 2019 میں ٹائم میگزین کی 100 بااثر شخصیات میں سے ایک قرار دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حسن منہاج کو ذہنی صحت کے مسائل کے حوالے سے عام فہم انداز میں گفتگو اور ایسے دوسرے پہلوؤں پر بات کرنے کی وجہ سے شہرت ملی جنھیں عمومی طور پر جنوبی ایشیائی ثقافت اور برادریوں میں کلنک کا ٹیکا سمجھا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNetflix
اس شو کے نام میں بھی ایک کہانی ہے۔
پیٹریئٹ ایکٹ دراصل سنہ 2001 میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی جانب سے ستمبر 11 کے دھماکوں کے بعد متعارف کیا جانے والا ایک قانون تھا جس پر اقلیتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید بھی کی۔
حسن منہاج کے شو کی حیثیت اس لیے بھی منفرد ہے کیونکہ وہ بڑی خبروں کی گہرائی میں جا کر ان کے بارے میں بات کرنے کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیائی شناخت سے متعلق مسائل کو بھی اجاگر کرتے تھے۔
پیٹریئٹ ایکٹ کی مقبولیت کی وجہ کیا تھی؟
پیٹریئٹ ایکٹ کی چند مقبول اقساط میں سرفہرست جمال خاشقجی کی ہلاکت کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر کی جانے والی تنقید ہے۔
اس قسط کو سعودی حکومت کی جانب سے براہِ راست تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد نیٹ فلکس کی جانب سے اس قسط کو ہٹا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
ویسے تو محمد بن سلمان کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن حسن منہاج کا مزاحیہ انداز اور ان کی جنوبی ایشیائی وراثت اور مسلمان ہونے کے باعث ان کی بات کی اپنی ہی اہمیت تھی۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی جانب سے انڈیا کے انتخابات اور انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے اور شہریت کا نیا قانون پاس کرانے پر مودی پر کی گئی بے باک اور دو ٹوک تنقید کو بھی پزیرائی ملی۔
اس کے علاوہ ان کے کرکٹ میں میچ فکسنگ، امریکہ میں گھر کے کرائیوں اور ایمیزون کے جنگلات سے متعلق شوز کو بھی پسند کیا گیا۔
سٹوڈنٹ لونز (طلبا کو دیے جانے والے قرض) کے بارے میں کیے گئے شو کے بعد تو انھیں امریکی کانگریس نے دعوت دی جہاں انھوں نے اپنے اچھوتے انداز میں کانگریس اراکین کو اس مسئلے کے بارے میں بتایا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
سوشل میڈیا پر ردِ عمل
نیٹ فلکس کی جانب سے شو کی منسوخی کے بعد سے سوشل میڈیا پر اکثر صارفین نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ سیاسی تجزیوں سے اقلیتی گروہوں کی آوازوں کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔
پادما لکشمی نے کہا کہ ’یہ بہت افسوس ناک ہے۔ پیٹریاٹ ایکٹ نے مسلسل طاقت کے سامنے سچ بولا۔ یہ ایک معلومات افزا، جارحانہ اور مزاحیہ شو تھا۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ نیٹ فلکس کی جانب سے سے پیٹریاٹ ایکٹ کو منسوخ کرنے کا اعلان نہ صرف اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ وہ اقلیتی گروہوں کی آواز کو اہمیت نہیں دینا چاہتے بلکہ یہ بھی کہ حسن منہاج اور ان کی ٹیم نے خطرہ مول لیا اور لوگوں کو بے چین بھی کیا اور یہ نیٹ فلکس کے لیے سنبھالنا آسان نہیں تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
حسن مہاج نے اپنے پروگرام پر ایک ایسے وقت میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سے سخت سوال کر کے ایک انتہائی عمدہ انٹرویو کیا جب دوسرے امریکی شوز نے اس حوالے سے نرمی برتی۔
ایک صارف نے لکھا کہ میرے نزدیک تو حسن منہاج وہ پہلے مسلمان تھے جنھوں نے سعودی عرب پر کھل کر تنقید کی، وہ پہلے دیسی مزاح نگار ہیں جو اپنے والدین کو اپنے مزاح میں استعمال نہیں کرتے، ان بہت کم دیسی افراد میں سے ایک جو اس پلیٹ فارم کو تبدیلی لانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ایسے دیسی خیالات کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ وہ اس سے بہتر برتاؤ کے حقدار ہیں۔
جیف یینگ نامی صارف نے لکھا کہ حسن منہاج کا پیٹریئٹ ایکٹ ایک ایسے موقع پر منسوخ کیا جا رہا ہے جب ایک عالمی وبا نے دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، نسلی تعصب کے خلاف بات کی جا رہی ہے، جدید تاریخ میں ملک میں ایک انتہائی اہم الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور ایک انڈین امریکی کو ڈیموکریٹ کا نائب صدر بنایا گیا ہے۔
کچھ صارفین حسن منہاج پر تنقید بھی کرتے دکھائی دیے۔ ان کا خیال ہے کہ حسن اتنے مزاحیہ بھی نہیں تھے اور ان کے شو میں کی جانے والی اکثر باتیں تصدیق شدہ نہیں ہوتی تھیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
ایک صارف نے لکھا کہ مجھے پیٹریاٹ ایکٹ کے ختم ہونے کا رنج ہے کیونکہ حسن منہاج ان بہت کم جنوبی ایشیائی افراد میں سے ہیں جنھوں نے پلیٹ فارم کا اچھا استمعال کیا ہے۔ وہ کبھی بھی لوگوں پر تنقید کرنے سے نہیں گھبراتے (اپنی برادری کے افراد سمیت) اور یہ سب دیکھنے میں بہت اچھا تھا۔
ان کا کہنا تھا حسن منہاج کا شکریہ کے انھوں نے انڈین لہجے کو پیٹریاٹ ایکٹ پر اپنے مزاح کا مرکز نہیں بنایا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ حسن منہاج نے مزاح کو ایک نئی جہد بخشی۔ میں اس شو میں استعمال کی جانے والی گرافکس کا مداح ہوں، اور ان کی ادائیگی، ان کا غصہ اور شو کا 'دیسی ڈیپ کٹس' والا حصہ مجھے یاد آئے گا۔












