پرسیڈز نامی شہابیوں کا سلسلہ: آئندہ چند روز میں آسمان میں ٹوٹے تارے چمکتے نظر آئیں گے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ایوا اونٹیویروس
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
اگر آپ سے کہا جائے کہ کچرے اور مٹی سے ہو کر گزریں، اور ہر سال کئی مرتبہ ایسا ہی کریں، تو آپ کے لیے یہ تجربہ بالکل بھی خوشگوار نہیں ہوگا۔ مگر جب ہماری زمین خلا میں موجود گرد اور پتھروں کے درمیان سے گزرتی ہے تو زمین پر رہنے والے لوگوں کو رات میں آسمان ٹوٹے تاروں سے بھرا نظر آتا ہیں۔
اور اگر آپ ان ٹوٹے ہوئے تاروں، جن میں کبھی کبھی آگ کے گولے بھی ہوتے ہیں، ان کو دیکھنا چاہتے ہیں تو آئندہ چند روز رات کے وقت آپ کے پاس ایک سنہری موقع ہے۔
’پرسیڈز‘ نامی شہابیوں کی برسات ہوتی کیوں ہے؟
ٹوٹے تاروں یا شہابیوں کی اس برسات کی شروعات دمدار ستارے ’سوئفٹ ٹٹل‘ کے سورج کے گرد مدار میں داخل ہونے سے ہو رہی ہے۔
رائل میوزیم گرینچ کے ماہر فلکیات ایڈورڈ بلومر کے مطابق ہر سال زمین ’سوئفٹ ٹٹل‘ نامی کومیٹ یا دمدار ستارے کے سورج کے گرد مدار کو کاٹتے ہوئے گزرتی ہے، چنانچہ اس دمدار ستارے کا چھوڑا گیا ملبہ ہماری زمین کی فضا میں داخل ہو جاتا ہے۔
’اور جب چاول کے دانوں جتنا بڑا یہ برف، مٹی اور پتھروں پر مشتمل ملبہ ہماری فضا کی بالائی سطح میں داخل ہوتا ہے تو یہ کچھ لحموں کے لیے چمک اٹھتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ پرسیڈ کہلانے والے شہابیوں کے اس سلسلے کی خاص بات یہ ہے کہ اسے آپ ہر سال دیکھ سکتے ہیں۔ ایڈورڈ بلومر کے مطابق ’ویسے تو اس کا عروج اگست کے وسط میں ہوتا ہے تاہم اسے آپ جولائی کے اواخر سے دیکھ سکتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سلسلے کو بغیر دور بین کے بھی دیکھا جا سکتا ہے چنانچہ مسلسل کئی راتوں تک آسمان کو دیکھنا کارآمد ہو سکتا ہے کیونکہ ایسے میں ہو سکتا ہے آپ کو غیر معمولی نظارہ بھی دیکھنے کو مل جائے۔
ایڈورڈ بلومر کہتے ہیں ’کبھی کبھی اس دمدار ستارے کا چھوڑا گیا کوئی بڑا ٹکڑا بھی زمین کی فضا میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ آگ کے گولے جیسا دکھائی دیتا ہے۔‘
اور ایسا ہونا اتنا نایاب ہے کہ بلومر کئی برسوں تک مشاہدے کے بعد بھی صرف ایک ہی ایسا آتشی گولہ دیکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
کیا انھیں دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلومر کے مطابق ایسا ضرور کرنا چاہیے۔ ’بس تمام روشنیاں بجھا دیں اور آپ تیار ہیں۔‘
پرسیڈز نامی شہابیوں کا یہ سلسلہ قدرت کی آتش بازی جیسا لگ سکتا ہے اور آپ ایک گھنٹے میں باآسانی ایک سو کے قریب ٹوٹتے تارے دیکھ سکتے ہیں۔
اور ہاں، ویسے تو یہ شہابیے زمین کی فضا میں دو لاکھ 15 ہزار کلومیٹر کی زبردست رفتار سے داخل ہوتے ہیں تاہم ان سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
چنانچہ آپ بس رات کو ٹھنڈ اور مچھروں سے بچنے کے لیے کوئی چادر اوڑھ کر اپنی چھت یا کسی دوسری کھلی جگہ پر بیٹھ جائیں اور قدرت کے اس حیرت انگیز نظارے سے لطف اندوز ہوں۔
بلومر کہتے ہیں کہ ’یہ نظارہ بہت ہی پر سکون ہوتا ہے اور پوری دنیا سے نظر آتا ہے۔‘


،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹوٹے تاروں کی اس برسات سے کیسے محظوظ ہوں؟
ماہرِ فلکیات ایڈورڈ بلومر تجویز دیتے ہیں کہ ’مشرق اور شمال مشرق کی جانب آسمان کے ایک وسیع و عریض حصے کا انتخاب کریں۔ اگر آپ بروج سے واقف ہیں تو برج پرسیئس اور کیسیوپیا کی جانب دیکھیں۔ اگر آپ اس حوالے سے ناواقف ہیں تو اس کے لیے موبائل فون ایپس موجود ہیں۔‘
کورونا کی وبا پھیلنے سے قبل ستارہ بینی آسان تھی مگر آپ سماجی دوری برقرار رکھتے ہوئے اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سورج غروب ہونے پر اپنی جگہ سنبھال لیں، چادر اوڑھ لیں، آرام دہ حالت میں آ جائیں اور مکمل اندھیرا ہونے کا انتظار کریں۔ آپ کو تمام روشنیاں بجھانے کی ضرورت ہوگی جس میں موبائل فون اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔‘
اب آپ قدرت کے سب سے دلکش نظاروں میں سے ایک کو دیکھنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر آپ خوش قسمت ہوئے تو آپ ایک گھنٹے میں ایک سو تک ٹوٹے ہوئے تارے دیکھ سکتے ہیں اور یہاں تک کہ کوئی آتشی گولہ بھی۔

مگر انھیں پرسیڈز کیوں کہا جاتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلومر کہتے ہیں کہ ’ٹوٹے تاروں کی اس برسات کو پرسیڈز اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ برج پرسیئس سے نکلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔‘ مگر قدرت کے اس نظارے کو دنیا بھر کی کئی مختلف تہذیبوں نے نوٹ کیا ہے اور اس کے الگ الگ نام رکھے ہیں۔
کیتھولک روایات میں انھیں ’سینٹ لارینس کے آنسو کہا جاتا ہے۔ اس کا اشارہ لارینٹیئس نامی ایک مسیحی شخصیت کی جانب ہے جو سنہ 258 عیسوی میں رومن حکومت کے ہاتھوں مسیحیوں کے قتل کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔‘
چونکہ ان قدیم بزرگ کو مبینہ طور پر 10 اگست کو زندہ جلایا گیا تھا، اس لیے خطہ روم کی دیومالائی کہانیوں کے مطابق یہ ٹوٹے ہوئے تارے اسی آگ کی باقی چنگاریاں ہیں۔
مگر سلطنتِ روم سے طویل عرصہ قبل بھی فارس، بابل، مصر، کوریا اور جاپان کی تہذیبوں نے پرسیڈز نامی شہابیوں کے سلسلے کے بارے میں انتہائی درست اور تفصیلی فلکیاتی ریکارڈ مرتب کیے ہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ پرسیڈز کا پہلا درج شدہ مشاہدہ چین میں ہن سلطنت کے دوران کیا گیا جب 36 عیسوی میں ماہرین فلکیات نے ایسی راتوں کے بارے میں لکھا جب ’100 سے زیادہ ٹوٹے تارے نظر آئے۔‘









