سائنسدانوں نے ٹوائلٹ کی بدبو کم کرنے میں مددگار کوٹنگ ایجاد کر لی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں محققین کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹوائلٹ کے لیے ایک نئی کوٹنگ بنائی ہے جو کہ اس کی سطح کو انتہائی زیادہ سپلری (یعنی پھسلنے والی) بنا دیتی ہے اور اس کوٹنگ کے استعمال سے دنیا بھر میں پانی کی ایک بہت بڑی مقدار بچائی جا سکے گی۔
پین سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کوٹنگ کے استعمال سے ٹوائلٹ کو فلش کرنے کے درکار پانی میں 90 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے ٹوائلٹ میں جراثیم کی روک تھام بھی ہوتی ہے اور ان سے منسلک بدبو میں بھی کمی آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس کوٹنگ کو ٹوائلٹ پر سپرے کیا جاتا ہے۔ یہ سپرے ٹیفلون سے بھی زیادہ پھسلنے والا ہے۔ تاہم انسانی پیشاپ سے یہ متاثر ہوتا ہے اور تقریباً 50 مرتبہ فلش کرنے کے بعد اسے دوبارہ لگانا پڑے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محققین کو امید ہے کہ اس ایجاد سے پانی کے ضیاع میں کمی آئے گی۔ دنیا بھر میں ہر روز تقریباً 141 ارب لیٹر پانی ٹوائلٹ فلش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
سائنسدانوں نے اپنی یہ تحقیق نیچر سسٹینبلیٹی نامی جریدے میں شائع کی ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں ٹوائلٹ فلش کرنے میں جو پانی روز کی بنیاد پر استعمال ہوتا ہے وہ افریقہ کے زیرِ استعمال کُل پانی کے چھ گنا جتنا ہے۔
پین سٹیٹ نیوز سے بات کرتے ہوئے یونیورسٹی میں مکینیکل انجنیئرنگ کے اسوسیئیٹ پروفیسر ٹک سنگ ونگ کا کہنا تھا کہ ’ہماری ٹیم نے ایک مستحکم، بائیو طرز پر مبنی، گندگی اور بیکٹیریا کش کوٹنگ تیار کی ہے جو کہ عملی طور پر ٹوائلٹ کو خود ہی صاف کرنے کے مترادف ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’انسانی پاخانے کا ٹوائلٹ پر چپکنا نہ صرف دیگر صارفین کے لیے ناخوشگوار ہوتا ہے بلکہ اس سے انسانی صحت کے لیے خدشات بھی ہوتے ہیں۔ ہمارا ہدف اہم ٹیکنالوجی کو مارکیٹ میں لانا ہے تاکہ ہر کسی کا فائدہ ہو۔‘










