انڈیا: مدھیہ پردیش میں سرِعام رفع حاجت پر دو دلت بچے قتل

Representational image an Indian child defecating in the open

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں لاکھوں غریب افراد کھلے آسمان تلے رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں اور اس عمل کی وجہ سے خواتین اور بچے عموماً خطرے کی زد میں رہتے ہیں

انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس نے دو ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انھوں نے دو دلت ذات کے بچوں کو سرِعام رفع حاجت کرنے پر مبینہ طور پر قتل کر دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 12 سالہ روشنی اور دس سالہ اویناش پر بدھ کے روز اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ ایک گاؤں میں سڑک کنارے رفع حاجت کر رہے تھے۔

بچوں کے خاندان کے افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے گھر میں ٹوائلٹ نہیں ہے۔

انڈیا میں لاکھوں غریب افراد کھلے آسمان تلے رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں اور اس عمل کی وجہ سے خواتین اور بچے عموماً خطرے کی زد میں رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ہندوؤں میں رائج ذات پات کے نظام میں دلتوں کو سب سے کمتر سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ دلتوں کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں مگر انھیں انڈیا میں وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک کا سامنا رہتا ہے۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ راجیش چندل نے نمائندہ بی بی سی ہندی شوریا نیازی کو بتایا کہ 'دونوں بچوں کو ڈنڈوں سے مار مار کر ہلاک کیا گیا۔ ہم نے دونوں ملزموں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ان کی تفتیش جاری ہے۔'

بدھ کو پیش آئے واقعے کے چند ہی گھنٹوں بعد پولیس نے ہندوؤں کی اعلیٰ ذات سے تعلق رکھنے والے دو مردوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے نام رامیشور یادو اور حاکم یادو ہیں۔

روشنی اور اویناش آپس میں رشتہ دار ہیں، تاہم روشنی کو اویناش کی والدین نے پالا پوسا تھا اور وہ انھیں کے گھر میں رہتی تھی۔

Women walking away from camera in Indian field
،تصویر کا کیپشناندھیرا ہونے کے بعد انڈیا کے کئی علاقوں میں خواتین رفع حاجت سے گریز کرتی ہیں کیونکہ انھیں اس کے لیے گھر سے دور جانا پڑتا ہے

اویناش کے والد مانوج کا کہنا ہے کہ وہ دیہاڑی دار مزدور ہیں اور اپنے گھر میں بیت الخلا تعمیر کرنے کے متحمل نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا وہ اس حکومتی سکیم تک رسائی میں بھی ناکام رہے ہیں جس نے تحت حکومت نے غریب خاندانوں کو بیت الخلا تعمیر کر کے دینے تھے۔

کلین انڈیا پروگرام کے تحت حکومت نے کھلے آسمان تلے رفع حاجت کے عمل کو ختم اور صفائی کو یقینی بنانے کے لیے ملک بھر میں ٹوائلٹس کی تعمیر کا پروگرام شروع کیا ہے۔ یہ پروگرام سنہ 2014 میں شروع ہوا تھا اور اس کا افتتاح انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔ دو اکتوبر 2019 کو مودی نے انڈیا کو کھلے آسمان تلے رفع حاجت کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

مانوج کے گاؤں کو حکومت کی جانب سے ایک ایسا گاؤں قرار دیا گیا تھا جہاں کھلے آسمان تلے رفع حاجت کے عمل کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق اگرچہ نئے ٹوائلٹس کی تعمیر میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے تاہم پانی کی کمی، ٹوائلٹس کی ناقص دیکھ بھال اور رویے میں آہستہ تبدیلی اس عمل کے مکمل خاتمے میں رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔

تاہم نریندر مودی کے اس اقدام پر ان کی تعریف کی جا رہی ہے۔ بِل اینڈ میلینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے کلین انڈیا پروگرام کو 'دوسرے ممالک کے لیے ایک ماڈل قرار دیا ہے تاکہ دنیا کے غریب افراد کو حفظانِ صحت تک رسائی کو بہتر کیا جا سکے۔'