دنیا میں میٹھا بہت زیادہ پسند کیا جانے لگا ہے، لیکن اس کے بہت سے مسائل ہیں اور ان کے بارے میں ہم کیا کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرنینڈو دوراتے
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
طبی جریرے ’دی لینسٹ‘ کے سنہ 2019 کے شمارے میں شائع ہونے والی ’گلوبل برڈن آف ڈیزیز‘ نامی ایک تحقیق نے رواں برس کے آغاز میں اسرائیل کے ذرائع ابلاغ کو خوشی منانے کا ایک موقع فراہم کیا تھا۔
اور اس کی وجہ یہ تھی کہ 195 ممالک سے حاصل کیے گئے صحت سے متعلق ڈیٹا کے تجزیے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اسرائیل دنیا کا وہ ملک ہے جہاں ’غذا سے متعلقہ اموات کی شرح‘ دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔
اس تحقیق کے نتائج سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کے طبی جریدوں میں ایسے مضامین شائع ہوئے جس میں لوگوں کو وہ غذائیں کھانے کی ترغیب دی گئی جو اسرائیلی کھاتے ہیں۔
تاہم اگر آپ نے اسرائیل میں کھائی جانے والی روزمرہ کی غذائیں استعمال کی ہیں تو امید یہی ہے کہ آپ کی غذا میں شوگر کی مقدار دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے اوسط شہری کی غذا میں موجود شوگر سے زیادہ ہو گی۔
’تباہی‘
سنہ 2018 میں اسرائیل میں فی کس شہری نے 60 کلوگرام چینی استعمال کی یعنی اوسطاً ہر شخص نے روزانہ 165 گرام۔
انٹرنیشنل شوگر آرگنائزیشن سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں یہ شوگر کی سب سے زیادہ کھپت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی ذیابیطس کونسل کے سربراہ پروفیسر اتمار راز کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل میں ہر بالغ فرد اوسطاً ہر روز 30 چائے کے چمچ چینی کھاتا ہے۔ یہ تباہ کن صورتحال ہے۔‘
زیادہ چینی استعمال کرنے والے پانچ بڑے ممالک میں اسرائیل کے علاوہ ملائشیا، باربادوس، فجی اور برازیل شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سب سے کم چینی استعمال کرنے والا ملک شمالی کوریا ہے جہاں سنہ 2018 میں ہر شخص نے اوسطً 3.5 کلوگرام چینی استعمال کی۔
جبکہ شمالی کوریا کے ہمسایہ ملک جنوبی کوریا میں یہ شرح اوسطاً 30.6 کلوگرام رہی۔
امریکہ میں غذا سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا مسئلہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ تاہم امریکی قوم زیادہ چینی استعمال کرنے والے 20 بڑے ممالک میں اپنی جگہ نہیں بنا سکی کیونکہ یہاں فی کس شہری نے 31.1 کلوگرام چینی استعمال کی۔
انڈیا میں سب سے زیادہ چینی استعمال کرنے والے پائے جاتے ہیں۔ انڈیا میں سنہ 2018 میں 25.39 ملین میٹرک ٹن چینی کھائی گئی جو کہ پوری یورپی یونین میں کھائی گئی چینی کی مجموعی مقدار سے بھی زیادہ ہے۔
میٹھے پن کی وضاحت
چینی کی کھپت کے یہ اعداد و شمار اس مقدار کا تعین نہیں کرتے جو لوگ خود اپنے مشروبات یا غذا میں ڈالتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
چینی کے علاوہ ’فری شوگر‘ بھی ہوتی ہے جو کھانے پینے کی اشیا کی تیاری کے دوران اس میں شامل کی جاتی ہے یا قدرتی طور پر بعض غذاؤں میں بڑی مقدار میں موجود ہوتی ہے جیسا کہ پھلوں کے جوس۔
انٹرنیشنل شوگر آرگنائزیشن کے مطابق چینی اور ’فری شوگر‘ کی سنہ 2001 میں مجموعی کھپت 123.4 ملین ٹن تھی جو سنہ 2018 میں بڑھ کر 172.4 ملین ٹن ہو چکی ہے۔
اس مجموعی کھپت کا مطلب یہ ہے کہ ہر سال دنیا کا ہر شخص اوسطاً 22.6 کلوگرام چینی استعمال کرتا ہے۔
بڑے پیمانے پر کھپت
سوال یہ ہے کہ ہم اتنی زیادہ چینی کیوں کھاتے ہیں؟
اس کی ایک سادہ سی وضاحت تو یہ ہے کہ روایتی طور پر چینی ایک سستی اور آسانی سے دستیاب شے ہے جو ہمارے جسم میں انرجی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
اقوام متحدہ کی ’فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن‘ کا کہنا ہے کہ ’انڈیا میں چینی ایک ضروری چیز اور غریب افراد کے لیے مطلوبہ توانائی حاصل کرنے کا ایک سستا ذریعہ ہے۔‘
انڈیا میں حالیہ دہائیوں میں چینی کا استعمال بہت بڑھا ہے، اس کی کھپت 2.6 ملین ٹن سے بڑھ کر 13 ملین ٹن ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ پانچ دہائیوں میں یہ ہماری غذا کا لازمی جزو بن گیا ہے جبکہ پروسیسڈ فوڈ کی کھپت دنیا بھر میں بڑھ گئی ہے۔
امریکہ کے محکمہ زراعت سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پروسیسڈ فوڈ کی عالمی مارکیٹ دنیا میں غذا کی مجموعی مارکیٹ کا 77 فیصد ہے۔
چینی پروسیسڈ فوڈ کا لازم و ملزوم حصہ ہے جو کہ نہ صرف پروسیسڈ فوڈ کا ذائقہ بہتر بناتی ہے بلکہ اس کی شیلف لائف بھی۔
دنیا بھر میں بہت سے طبی حکام کا ماننا ہے کہ دنیا میں موٹاپے کی ایک بڑی وجہ زیادہ چینی کا استعمال ہے۔
چینی کا کم استعمال
سنہ 2015 میں عالمی ادارہ صحت نے کم چینی استعمال کرنے کی اپنی سفارشات پر نظرثانی کی ہے۔
تازہ سفارشات کے مطابق اب مشورہ دیا گیا ہے کہ بالغ افراد اور بچے ’فری شوگر‘ کی کھپت کو اپنی توانائی کی کل مقدار کے 10 فیصد سے بھی کم کر دیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ چینی کے استعمال میں پانچ فیصد مزید کمی، یعنی لگ بھگ 25 گرام (یا چھ چائے کے چمچ)، آپ کی صحت پر مفید اثرات مرتب کرے گی۔
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن سے وابستہ غذائیت کی ماہر وکٹوریا ٹیلر کہتی ہیں کہ ’یہ اب واضح ہے کہ شعبہ صحت کے حکام اب کم چینی استعمال کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ چینی کی کھپت ہر عمر اور ہر آمدن والے طبقے میں زیادہ ہے۔‘
ٹیکس کا نفاذ
چند ممالک نے مشورے دینے کے علاوہ اس حوالے سے عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ گذشتہ چند برسوں میں 20 سے زائد ممالک نے زیادہ چینی استعمال کرنے والی مصنوعات خاص کر سافٹ ڈرنکس پر ٹیکس کی شرح بڑھائی ہے۔
رواں ماہ کے آغاز پر سنگاپور دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے ان مشروبات کی تشہیر پر پابندی عائد کی ہے جن میں چینی کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ یہ پابندی آئندہ برس سے نافذ العمل ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنگاپور کے وزیر صحت ایڈون ٹانگ نے 10 اکتوبر کو کانگریس سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’اگر ہم نے مداخلت نہ کی تو ہماری تیزی سے عمر رسیدہ ہوتی آبادی اور دائمی بیماریوں کا پھیلاؤ ہمیں غیر مستحکم اور صحت کے مہنگے نظام کی جانب لے جائے گا اور اس کا نتیجہ صحت کی گرتی صورتحال کے ذریعے سامنے آئے گا۔‘
اس حوالے سے ’شوگر ڈرنکس‘ چینی سے بنے مشروبات پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا محض اتفاقی نہیں ہے۔ ایسے مشروبات میں شامل چینی زیادہ مقدار میں اور غذائیت میں کم ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ مشروبات پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر زیر استعمال ہیں۔
ہاورڈ سکول آف پبلک ہیلتھ کے اعداد و شمار کے مطابق 355 ملی لیٹر مقدار کے اورنج سوڈے میں 11 چائے کے چمچ کے برابر چینی ہوتی ہے۔
بہت سی طبی تحقیقات میں موٹاپے کا براہ راست تعلق شوگر ڈرنکس کے زیادہ استعمال سے ثابت ہوا ہے۔ ایسے مشروبات کی وجہ سے ٹائپ ٹو ذیابیطس، امراض قلب اور قبل از وقت موت کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
بری ساکھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم چند لوگوں کا خیال ہے کہ چینی کو بے جا تنفید کا سامنا ہے۔
انٹرنیشنل شوگر آرگنائزیشن کے صدر جوس اوریو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے غیر صحت مندانہ غذائی عمل میں شریک دوسرے عناصر کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف چینی کو ’نشانہ بنایا‘ جا رہا ہے۔
’چینی بری ساکھ کی حامل بنتی جا رہی ہے مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ جسمانی توانائی کا سب سے بنیادی ذریعہ ہے۔ یہاں تک کہ یہ ماؤں کے دودھ میں بھی قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔‘
انھوں نے کہا ’موٹاپے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے آپ صرف شوگر کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ اور بھی عناصر ہیں جو اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جیسا کہ جسمانی سرگرمیوں کا انتہائی کم ہونا اور وہ غذا جو ہم کھا رہے ہیں۔‘
جوس کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ بہت واضح ہے کہ کسی بھی چیز کی زیادتی اچھی نہیں ہوتی۔‘
کھانے کا خراب نظام
ایکشن شوگر نامی تنطیم سے وابستہ ماہر غذائیت ہولی گیبریئل کہتی ہیں کہ شوگر مسئلے کا ایک بڑا حصہ ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’موٹاپے میں اضافہ ہمارے کھانے کے نظام میں خرابی کی وجہ سے ہے۔‘
’یہی وجہ ہے کہ بہت سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جیسا کہ ٹیکس کا نفاذ اور ضروری اصلاحاتی پروگراموں کا اجرا۔‘
دوسری جانب انٹرنیشنل شوگر آرگنائزیشن کے صدر جوس اوریو ٹیکسوں کی طویل مدتی افادیت کے بارے میں سوال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے کھانے پینے کی صنعت اور اس میں شوگر کا استعمال پر تنقید کو روکا نہیں جا سکے گا۔
’ٹیکسوں کا نفاذ حکومتوں کے لیے آمدن کا صرف ایک نیا ذریعہ ہوتا ہے۔ لیکن فوڈ انڈسٹری کو اس بحث میں لازمی حصہ لینا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کئی ممالک میں کھانے پینے سے متعلقہ صنعتوں نے کچھ ایسا ہی کیا ہے۔
گذشتہ دسمبر میں جرمنی کی کئی بڑی فوڈ کمپنیوں نے وہاں کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت یہ کمپنیاں سنہ 2025 تک پراسیسڈ فوڈ میں شوگر اور نمک کی مقدار کم کر دیں گے۔ اس معاہدے کے تحت سافٹ ڈرنکس میں شوگر کی مقدار 15 فیصد تک کم کی جائے گی۔
مگر ٹیکسوں کے متعلق کیا کہیے؟ کیا ٹیکسوں کا نفاذ واقعی سود مند ہے؟
کیک کے بارے میں کیا خیال ہے؟
اوٹیگو یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے ایک وسیع سروے میں یہ معلوم کیا ہے کہ چینی کے مشروبات پر دس فیصد ٹیکس لگائے جانے سے ان کی فروخت اور کھپت میں دس فیصد کی شرح سے کمی ہوئی ہے۔
چند جگہوں پر اس پابندی کی وجہ سے فوڈ اور ڈرنکس بنانے والوں نے ٹیکسوں سے بچنے کے لیے ان مصنوعات کو بنانے کے طریقہ کار میں تبدیلی کی ہے۔ برطانیہ میں ایکشن آن شوگر نامی تنظیم کے مطابق اپریل 2018 کے بعد سے مشروبات میں چینی کی مقدار میں 28 فیصد کمی کی گئی ہے۔
چینی پر ٹیکس کیونکہ بہت سے ملکوں میں ایک نئی چیز ہے اس لیے ابھی تک اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
لندن سکول آف ہائجین اور ٹراپکل میڈیسن کے ماہرین نے بسکٹوں، کیک اور مٹھائیوں پر ٹیکس لگائے جانے کا فرضی تجربہ کیا جس کے صحت عامہ پر مثبت اثرات ظاہر ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اوکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں نے مشترکہ طور پر چینی سے بنائی گئی اشیاء پر 20 فیصد ٹیکس لگائے جانے کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے ایک تجریہ کیا۔
اس تجربے کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ مختلف آمدن والے افراد میں چینی کی اشیاء میں اضافے سے ایک سال میں اوسطً ایک اعشاریہ تین کلو گرام وزن کم ہوا۔
دلچسپ طور پر انھیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صرف چینی کے مشروبات کی قیمتوں میں اضافے سے ایک سال میں 203 گرام وزن کم ہوا۔
سنیکس پر ٹیکس
برطانیہ نے پالیسی اصلاحات کرنے کی مثال قائم کی ہے۔
اس تجربے کی سرکردگی کرنے والی پالین شیلبیک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں صارفین مشروبات کے بجائے سنیکس کے ذریعے زیادہ چینی کھاتے ہیں۔
شیلبیک اور ان کے ساتھی ماہرین کا اندازہ ہے کہ سنیکس ٹیکس کے ذریعے موٹاپے کی پھیلتی ہوئی بیماری کا علاج کیا جا سکتا ہے اور اس ٹیکس سے ایک سال میں موٹاپے کی شرح میں دو اعشاریہ سات فیصد کمی ہو سکتی ہے۔












