آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’نیند کے مقبول نسخے آپ کی صحت متاثر کر رہے ہیں‘
- مصنف, جیمز گلاگر
- عہدہ, صحت اور سائنس کے نامہ نگار، بی بی سی نیوز
ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کی نیند کے بارے میں بنائے جانے والے قصے کہانیاں نہ صرف ہماری صحت اور موڈ دونوں کو تباہ کرتے ہیں بلکہ ہماری زندگی کو بھی کم کرتے ہیں۔
نیو یارک یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے انٹرنیٹ پر دیے جانے والے رات کی نیند کے سب سے زیادہ مقبول نسخوں کا پتہ لگایا۔
اس کے بعد نیند کے بارے میں بہترین سائنسی شہادتوں پر شائع ہونے والے جائزوں سے ان نسخوں کا موازنہ کیا گیا۔
ٹیم کو امید ہے کہ نیند کے بارے میں عام ان قصے کہانیوں کا معائنہ کرنے سے لوگوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پانچ گھنٹے کی نیند آپکے لیے کافی ہے؟
جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے ایک بار کہا تھا کہ وہ رات چار گھنٹے کی نیند کے بعد ایک ہفتے تک کام کر سکتی ہیں۔
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ رات میں پانچ گھنٹے سے کم نیند صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔
ڈاکٹر ربیکا رابنز کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ مسلسل پانچ گھنٹے یا اس سے کم سونے سے آپ کی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جس میں سٹروک اور دل کے دورے جیسے امراض شامل ہیں۔
ڈاکٹر ربیکا کہتی ہیں کہ ہر رات سات سے آٹھ گھنٹے مسلسل سونے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سونے سے پہلے شراب پینے سے رات کی نیند اچھی آتی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اچھی نیند کے لیے رات کے وقت شراب پینے کا نسخہ بھی محض ایک قصہ ہی ہے۔ سونے سے پہلے ایک گلاس وائن، بیئر یا وسکی سے آپ کو نیند آ سکتی ہے لیکن اس سے آپ کی نیند میں خلل پڑتا ہے، نیند کے دوران آپ کی آنکھوں میں حرکت تیز ہوتی ہے جو آپ کی یاداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔
اس کے علاوہ آپ کا مثانہ بھرا ہوا ہوتا ہے اور آپ کو بار رفع حاجت کے لیے جانا پڑتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ شراب سے آپ کو فوراً نیند آ جاتی ہے لیکن آپ کی نیند بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
بستر میں ٹی وی دیکھنے سے آپکو آرام ملتا ہے
کیا آپ کو لگتا ہے کہ سونے سے پہلے ٹی وی دیکھنے سے آپ کو اچھا محسوس ہو گا۔
حقیقت یہ ہے کہ رات دیر تک ٹی وی دیکھنے سے آپ کی نیند پر منفی اثر پڑتا ہے۔
ڈاکٹر رابنز کا کہنا ہے کہ رات کے وقت جب ہم دن بھر کے ذہنی دباؤ اور تھکن کو بھلا کر سونے کی کوشش کرتے ہیں اس وقت ٹی وی دیکھنے سے بے خوابی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ٹی وی کے ساتھ اب سمارٹ فونز اور ٹیبلیٹ بھی موجود ہیں ان سے جاری ہونے والی نیلی روشنی جسم میں پیدا ہونے والے نیند کے ہارمونز کو متاثر کرتی ہے۔
اگر آپکو نیند نہیں آرہی جب بھی آپ بستر میں ہی رہیں
اگر آپ کافی دیر سے سونے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہزار ہا کوششوں کے باوجود بھی سونے میں ناکام ہیں تو آپ کیا کریں گے؟
جواب ہے کہ آپ یہ کوشش نہ کریں۔
ڈاکٹر رابنز کہتی ہیں کہ ایسے میں بستر سے اٹھ جائیں اور کچھ بے مطلب سا کام کریں۔
سنوز بٹن دبانا
ایسا کون ہے جو یہ سوچ کر اپنے فون پر سنوز بٹن نہیں دباتا کہ بستر میں مزید پانچ منٹ سے بہت فرق پڑے گا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے ہی الارم بجے ہمیں بستر سے باہر نکل جانا چاہیے۔
ڈاکٹر رابنز کہتی ہیں کہ کوشش کریں کہ سنوز بٹن نہ دبائیں اس سے آپ کا جسم دوبارہ سو سکتا ہے لیکن اس نیند
اچھی نہیں ہو گی۔ الارم بجتے ہی کمرے کے پردے کھول کر خود کو تیز روشنی کے روبرو کریں۔
خراٹے ہمیشہ بے ضرر ہوتے ہیں
خراٹے بے ضرر ہوتے ہیں لیکن یہ سانس کی عبوری رکاوٹ کی علامت بھی ہو سکتے ہیں۔ خراٹوں سے نیند کے دوران گلے کی دیواریں سکڑتی اور پھیلتی ہیں جس سے کچھ لمحے کے لیے سانس رک سکتی ہے۔
اس سے متاثر لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا خدشہ ہو سکتا ہے۔ بلند خراٹے اس کی ایک علامت ہیں۔
ڈاکٹر رابنز کہتی ہیں کہ اپنی صحت اور لمبی عمر کے لیے نیند کو پورا ہونا سب سے اہم ہے۔