نظامِ انہضام کو دوسرا دماغ کیوں کہا جاتا ہے؟ جانیے سات دلچسپ حقائق

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آپ کے جسم کے کس حصے میں ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ والی سپائنل کورڈ یا حرام مغز سے بھی زیادہ نیورون ہوتے ہیں اور وہ مرکزی نظام عصبی کے تحت کام کرنے کے بجائے آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں؟
شاید معدے کی آنت آپ کا پہلا جواب نہیں تھا۔ لیکن ہماری آنتیں لاکھوں کروڑوں نیورون سے جڑی ہوئی ہیں اور شاید اسی لیے اسے ہمارے 'دوسرے دماغ' کا نام دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ہمارے نظامِ انہضام کے پاس ہم جو کھاتے ہیں اسے پراسیس کرنے کے علاوہ اور بھی کام ہیں۔ اس میں آباد اور پلنے والے جرثومے ہماری صحت اور طبیعت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سائنسدان اس بات کے متعلق تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا آنتوں کی صحت کو بہتر بنانے سے کیا ہمارے مدافعتی نظام میں کچھ مدد مل سکتی ہے اور کیا اس سے ذہنی بیماریوں کا علاج کا جا سکتا ہے۔
مندرجہ ذیل میں ہماری آنتوں کے بارے میں چند حیرت انگیز حقائق دیے جا رہے ہیں:
1. یہ ایک خود مختار نظام اعصاب ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'گٹ ہیلتھ ڈاکٹر' کی مصنفہ اور معدے کی صحت میں پی ایچ ڈی کرنے والی ڈائٹیشیئن ڈاکٹر میگن روسی کہتی ہیں: 'ہمارے جسم میں دوسرے اعضا سے مختلف ہماری آنتیں اپنے طور پر کام کر سکتی ہیں۔ وہ اپنا فیصلہ کرنے کی مجاز ہیں اور انھیں اس کے لیے دماغ کے مشورے کی ضرورت نہیں۔'
ان کے خود مختار دماغ کو معائی اعصابی نظام (ای این ایس) کہا جاتا ہے جو مرکزی اعصابی نظام (سی این ایس) کی ایک ذیلی شاخ ہے اور یہ پورے طور پر معدے اور آنت کی حرکات و سکنات کے لیے ذمہ دار ہے۔
یہ نظام نیورونز کے ایک جال نما نیٹورک کی طرح نظر آتا ہے جو پیٹ اور نظامِ انہظام میں قطار اندر قطار نظر آتے ہیں۔
عام طور پر ای این ایس ہمدرد اور غیر ہمدرد نظام اعصاب کے ذریعے سی این ایس سے رابطہ کرتا ہے۔
2. ہمارے مدافعتی نظام کے 70 فیصد خلیے ہمارے معدے میں ہوتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر روسی کا کہنا ہے کہ 'اسی سبب ہمارے معدے کی صحت بیماریوں کے خلاف ہمارے مدافعتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔'
حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ معدے اور آنتوں کے مسائل سے انسان کے بخار جیسی عام بیماریوں کے زد میں آنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
3. ہمارا 50 فیصد فضلہ بیکٹریا ہیں
ہمارے جسم سے نکلنے والے فضلے صرف ہمارے کھانے کے بچے ہوئے حصے نہیں ہیں۔
ان میں پائے جانے والے بہت سے بیکٹریا درحقیقت ہمارے جسم کے لیے بہتر ہوتے ہیں۔
اسی سب فضلے کا ٹرانسپلانٹ ان لوگوں کے لیے بہتر علاج ثابت ہو سکتا ہے جن کے پیٹ میں زیادہ 'خراب' بیکٹریا پیدا ہو گئے ہیں۔
اس علاج کو 'سٹول ٹرانسپلانٹ' بھی کہتے ہیں جس کے تحت صحت مند شخص کا صحت مند بیکٹریا والا فضلہ بیمار شخص میں ڈالا جاتا ہے۔
چونکہ ہم معدے پر گفتگو کر رہے تھے اس لیے ہم نے ڈاکٹر روسی سے پوچھا کہ ایک شخص کو کتنی بار ٹوائلٹ جانا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ 'تحقیق کے مطابق ایک دن میں تین بار سے لے کر ایک ہفتے میں تین بار تک پاخانے جانے کو نارمل کہا جاتا ہے۔'
4. آپ کے معدے کے جرثوموں کی صحت کو مختلف النوع کے کھانے بہتر بناتے ہیں

ہمارے معدے میں اربوں کھربوں مائکروبز کا بسیرا ہے۔ یہ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ بعض مقوی غذاؤں کو ہضم کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔
جراثیم کا ہر گروہ مختلف قسم کے کھانے پر پھلتا پھولتا ہے۔ اس لیے انواع و اقسام کے کھانے سے آپ کے معدے کی صحت بہتر ہوتی ہے اور یہ آپ کی اچھی صحت سے منسلک ہے۔
ڈاکٹر روسی کہتی ہیں کہ 'مائکروبز ہمارے چھوٹے پالتو جانوروں کی طرح ہیں جسے آپ پالنا چاہتے ہیں اور اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔'
جو لوگ ہمیشہ ایک ہی قسم کا کھانا کھاتے ہیں ان کے معدے میں کمزور قسم کے مائکروبز ہوتے ہیں۔
5. آپ کی آنتیں آپ کے موڈ سے مربوط ہیں
ڈاکٹر روسی کہتی ہیں کہ اگر آپ کو معدے کی شکایت ہے تو یہ دیکھنا بہتر ہوگا کہ آپ کس قدر تناؤ میں ہیں۔
انھوں نے کہا: 'میں اپنے طریقۂ علاج میں اپنے مریضوں کو ہمیشہ روزانہ 15 سے 20 منٹ تک مراقبہ یا دھیان کرنے کی ترغیب دیتی ہوں۔ اور جب وہ چار ہفتوں تک روزانہ اس کی پابندی کرتے ہیں تو ہم ان کی علامات میں بہتری پاتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتی ہیں کہ 'تناؤ کو کم کرنا اور ختم کرنا واقعتاً بہت اہم ہے۔'
ہمارے موڈ اور ہمارے معدے کو جو چیز جوڑتی ہے وہ 80 سے 90 فیصد تک نظام ہاضمہ میں بننے والے سیروٹونین ہیں۔
سیروٹونین ایک کیمیائی پیغامبر ہے جو آنتوں کے ساتھ جسم کے کئی کام کو متاثر کرتا ہے۔
یہ نفسیاتی بےترتیبی سے بھی منسلک ہے۔
طویل مدتی دباؤ سے سیروٹونین کی سطح کم ہو سکتی ہے جو ہمارے موڈ کے ساتھ ہمارے جذباتی حالات، تشویش اور خوشی کو متاثر کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
6. اگر آپ کے اہل خانہ کسی غذا کو آپ کے لیے مضر سمجھتے ہیں تو آپ اس کو محسوس کرنے لگیں گے
بعض لوگوں کے معدے بہت حساس ہوتے ہیں۔
لیکن ڈاکٹر روسی کا کہنا ہے کہ تازہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اگر آپ کسی مخصوص غذا کے کھانے سے ڈرتے ہیں تو اس کے کھانے کے بعد آپ کو اس سے تکلیف ہو سکتی ہے۔
انھوں نے کہا: 'ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح کوئی بات جس پر آپ کا یقین ہے وہ آپ کے معدے کے لیے مسائل کھڑا کر دیتا ہے۔'
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ گلوٹن یا دودھ کے اجزا ان کے لیے مضر ہیں اور اگر ان کا نظام واقعتا اس کو نہ برداشت کرنے والا یا اس سے الرجک نہیں بھی ہے تو بھی ان غذاؤں کے کھانے کے بعد ان کو مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔
7. آپ اپنے ہاضمے کی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں
ڈاکٹر روسی نے خوش معدے کے لیے بعض عادات کو اپنانے کا مشورہ دیا ہے جو درج ذیل ہیں:
- مختلف اقسام کی غذائيں کھائیں تاکہ آپ کے معدے میں پلنے والے بیکٹریا مختلف النوع ہوں
- اپنے طبیعت کے حساب سے اپنے دباؤ کو کم کرنے کے طریقے اپنائیں جیسے مراقبہ کریں، آرام کریں، ذہن کو مرکوز کریں یا یوگا کریں۔
- اگر آپ کو پہلے سے ہی معدے کی تکلیف ہے تو شراب نوشی، کیفین اور مسالے دار کھانوں سے بچیں۔ یہ چیزیں آپ کے مسائل کو بڑھا سکتی ہیں۔
- بہتر نیند لینے کی کوشش کریں۔
ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر آپ اپنے سونے کے اوقات کو تبدیل کرتے ہیں تو اس سے آپ کے معدے کے جراثیم کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ یاد رکھیں کہ آپ کو ان کا اچھی طرح سے خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔









