خلا بازوں نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن میں شہابیہ لگنے سے سوراخ کو بند کر دیا

Two docked Russian spacecraft on the International Space Station (ISS), the Soyuz MS-09 crew ship and the Progress 70 resupply ship

،تصویر کا ذریعہNASA

،تصویر کا کیپشنروسی خلائی گاڑی جون میں یہاں خلا بازوں کو لائی تھی

بین الاقوامی خلائی سٹیشن (آئی ایس ایس) پر موجود خلاباز وہاں ہونے والے ایک سوراخ سے آکسیجن کے اخراج کو روکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

یہ سوراخ اس کیپسول میں پایا گیا جس کے ذریعے عملے کے ارکان کو زمین سے 400 کلومیٹر دور اس لیبارٹری کے اندر منتقل کیا جاتا ہے۔

یہ معلوم ہوا ہے کہ نقصان خلا سے آنے والی کسی تیز رفتار پتھریلی چیز کے ٹکرانے سے ہوا تھا۔

خلائی مشن کے بارے میں مزید پڑھیے

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن اور روسی دارالحکومت ماسکو میں موجود اس مشن کے کنٹرولرز کا کہنا ہے کہ اب عملے کے چھ ارکان کو کوئی خطرہ نہیں۔

خلا میں گردش کرتے یہ پتھر اس خلائی سٹیشن کے لیے مستقل خطرہ ہیں اور اسے اسی طرح بنایا گیا ہے کہ زمین کے گرد خلا میں گھومنے والے ان ذرات کا مقابلہ کر سکے۔

کنٹرولز کو اس بارے میں پہلے اس وقت پر چلا جو خلائی سٹیشن کے دباؤ کے سینسرز نے اس بارے میں الرٹ کیا۔

اس وقت خلا باز سو رہے تھے تاہم جب وہ اپنے دن کے کام کے لیے جاگے تو انہیں یہ لیک ڈھونڈنے کو کہا گیا۔

جانچ کے بعد یہ لیک اس روسی خلائی گاڑی میں ملی جس میں آٹھ جون کو تین خلا باز خلائی سٹیشن لائے گئے۔

Alexander Gerst

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنالیگزینڈر گرسٹ دوسرے یورپی خلابام ہیں جو بین الاقامی خلائی سٹیشن کی قیادت کر رہے ہیں

روسی خبر رساں اداروں نے روس کی وفاقی خلائی ایجنسی روسکوموس کے سربراہ دمتری روگوزن کے حوالے سے بتایا کہ ’رات بھر اور صبح غیر معمولی صورتحال تھی، دباؤ کم ہو گیا تھا، سٹیشن سے آکسیجن لیک ہو رہی تھی۔‘

’پھر ایک باریک سا فریکچر ملا جو یقینا باہری چیز کی وجہ سے ہوا تھا۔ انجینیئرز کا خیال ہے کہ یہ کسی خرد شہابیے (باریک خلائی پتھر) کی وجہ سے ہوا ہے۔`

جرمنی کے خلا باز الیگزینڈر گرسٹ نے سوارخ کے مقام پر اپنے انگلی پھرتے ہوئے اس کی موجودگی کی تصدیق کی۔ جس کے بعد لگ بھگ دو ملی میٹر کی اس جگہ کو فوری طور پر اس جگہ کو بند کیا گیا۔

اب خلا باز انجینیئرز کے ساتھ مل کر کسی دوسرے ممکنہ نقصان کی تلاش کر رہے ہیں۔