خلا بازوں نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن میں شہابیہ لگنے سے سوراخ کو بند کر دیا

،تصویر کا ذریعہNASA
بین الاقوامی خلائی سٹیشن (آئی ایس ایس) پر موجود خلاباز وہاں ہونے والے ایک سوراخ سے آکسیجن کے اخراج کو روکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
یہ سوراخ اس کیپسول میں پایا گیا جس کے ذریعے عملے کے ارکان کو زمین سے 400 کلومیٹر دور اس لیبارٹری کے اندر منتقل کیا جاتا ہے۔
یہ معلوم ہوا ہے کہ نقصان خلا سے آنے والی کسی تیز رفتار پتھریلی چیز کے ٹکرانے سے ہوا تھا۔
خلائی مشن کے بارے میں مزید پڑھیے
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن اور روسی دارالحکومت ماسکو میں موجود اس مشن کے کنٹرولرز کا کہنا ہے کہ اب عملے کے چھ ارکان کو کوئی خطرہ نہیں۔
خلا میں گردش کرتے یہ پتھر اس خلائی سٹیشن کے لیے مستقل خطرہ ہیں اور اسے اسی طرح بنایا گیا ہے کہ زمین کے گرد خلا میں گھومنے والے ان ذرات کا مقابلہ کر سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کنٹرولز کو اس بارے میں پہلے اس وقت پر چلا جو خلائی سٹیشن کے دباؤ کے سینسرز نے اس بارے میں الرٹ کیا۔
اس وقت خلا باز سو رہے تھے تاہم جب وہ اپنے دن کے کام کے لیے جاگے تو انہیں یہ لیک ڈھونڈنے کو کہا گیا۔
جانچ کے بعد یہ لیک اس روسی خلائی گاڑی میں ملی جس میں آٹھ جون کو تین خلا باز خلائی سٹیشن لائے گئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
روسی خبر رساں اداروں نے روس کی وفاقی خلائی ایجنسی روسکوموس کے سربراہ دمتری روگوزن کے حوالے سے بتایا کہ ’رات بھر اور صبح غیر معمولی صورتحال تھی، دباؤ کم ہو گیا تھا، سٹیشن سے آکسیجن لیک ہو رہی تھی۔‘
’پھر ایک باریک سا فریکچر ملا جو یقینا باہری چیز کی وجہ سے ہوا تھا۔ انجینیئرز کا خیال ہے کہ یہ کسی خرد شہابیے (باریک خلائی پتھر) کی وجہ سے ہوا ہے۔`
جرمنی کے خلا باز الیگزینڈر گرسٹ نے سوارخ کے مقام پر اپنے انگلی پھرتے ہوئے اس کی موجودگی کی تصدیق کی۔ جس کے بعد لگ بھگ دو ملی میٹر کی اس جگہ کو فوری طور پر اس جگہ کو بند کیا گیا۔
اب خلا باز انجینیئرز کے ساتھ مل کر کسی دوسرے ممکنہ نقصان کی تلاش کر رہے ہیں۔










