ایسپرن آنتڑیوں کے کینسر کو ختم کر سکتی ہے

ایسپرن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمحقیقین کا کہنا ہے کہ آنت کینسر کے سارے مریضوں پر ایسپرن اثر نہیں کرے گی

سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں سائنسدانوں نے ایسپرن دوائی کا ایک نیا فائدہ دریافت کیا ہے اور وہ یہ کہ دوائی باؤل یا آنتڑیوں کے کینسر کو ختم کر سکتی ہے۔

ایسپرن کے ویسے تو بہت فائدے ہیں، جن میں کولون کینسر سے نجات میں مدد اور دل کے امراض میں کمی شامل ہے۔ تاہم اس دوائی کے ٹیومر پر مثبت طور پر اثر انداز ہونے کا اس سے پہلے محققین کو درست اندازہ نہیں تھا۔

یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں محققین کو اب اس بات کا پتہ چلا ہے کہ ایسپرن، ٹیومر کے بننے کے عمل کو روک دیتی ہے۔

کینسر کی روک تھام اور اس کے خلاف آگاہی پیدا کرنے والا برطانوی ادارہ کینسر ریسرچ اس تحقیق میں ایڈنبرا یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

اس ٹیم نے انسانی جسم میں پائے جانے والے سیل کے اندر ایک مادے کی نشاندہی کی ہے جس کا نام نیوکلیئس ہے۔

نیوکلیئس اگر اکٹیوئیٹ ہوجائے تو جسم کے اندر ٹیومر بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ نیوکلیئس کے اکٹیوئیٹ ہونے سے الزائمرز اور پارکنسنز جیسے مرض لاحق ہونے کا بھی خطرہ ہے۔

سائنسدانوں نے لیب میں تیار کیے گئے سیل اور کینسر کے مریضوں سے نکالے جانے والے ٹیومر پر یہ ٹیسٹ کیے۔ انھوں نے ٹیومر پر ایسپرن کے اثرات کا جائزہ لیا۔

انھیں معلوم ہوا کہ ایسپرن ٹی آئی ایف نامی ایک مالیکیول کو روک دیتی ہے۔ یہ مالیکیول نیوکلئیس کے حرکت میں آنے کے لیے اہم ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آنت کے کینسر کے سارے مریضوں پر ایسپرن اثر نہیں کرے گی۔ تاہم ان کی اس تحقیق سے ان لوگوں کو زیادہ فائدہ ہو گا جن پر ایسپرن اثر انداز ہوتی ہے۔

اس کے علاہ یہ تحقیق، ان دوائیوں کے تیاری میں بھی مدد دے سکتی ہے جو ایسپرن کے اثرات کو نقل کرنے کے لیے بنائی جائیں گی۔

ٹیم کا کہنا تھا کہ ایسپرن کا زیادہ عرصے تک استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔