پہلی بار دو بندروں کی کلوننگ

،تصویر کا ذریعہCHINESE ACADEMY OF SCIENCES
چین میں دو بندروں کو اسی تکنیک کی مدد سے کلون کیا گیا ہے جس سے 1996 میں مشہورِ زمانہ ڈولی بھیڑ کو کلون کیا گیا تھا۔
ژونگ ژونگ اور ہُوا ہُوا نامی یہ دونوں کلون کردہ بندر چین کی ایک لیبارٹری میں کئی ہفتے پہلے پیدا ہوئے تھے۔
یہ بندر جینیاتی طور پر ایک دوسرے کے مماثل ہیں اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان پر تحقیق سے انسانی بیماریوں کے علاج میں مدد ملے گی۔
تاہم ناقدین کے مطابق اس سے اخلاقی سوالات اٹھتے ہیں اور دنیا انسانی کلوننگ سے مزید قریب ہو گئی ہے۔
چینی سائنس اکیڈمی کے انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنس کے چیانگ سن نے کہا کہ کلون کردہ بندر بعض اقسام کے سرطانوں، مدافعتی نظام کی بیماریوں اور میٹابولک بیماریوں جیسے امراض پر تحقیق میں مدد دیں گے۔ یہ ایسی بیماریاں ہیں جن کی بنیاد جینیات میں ہے۔
'پرائمیٹ جانوروں کی حیاتیات کے بارے میں بہت سے سوالات ہیں جنھیں اس اضافی ماڈل کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے۔'
ژونگ ژونگ آٹھ ہفتے قبل اور ہوا ہوا چھ ہفتے قبل پیدا ہوا تھا۔
تحقیق کاروں کے مطابق ان بندروں کو بوتل سے دودھ پلایا جا رہا ہے اور ان کی نشو و نما نارمل ہے۔ انھیں توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں مزید بندر کلون کیے جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لندن میں واقع فرانسس کرک انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر روبن لوول بیج نے کہا کہ جو تکنیک ان بندروں کو کلون کرنے میں استعمال کی گئی ہے وہ بہت 'غیرموثر اور غیر محفوظ ہے۔ شائع شدہ تحقیق ایسی نہیں جس پر چل کر انسانی کلون پیدا کیے جا سکیں۔'
برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیرن گرفن کہتے ہیں کہ اس سے انسانی بیماریوں کو سمجھنے میں مدد تو ملے گی لیکن اس سے اخلاقی سوال اٹھتے ہیں۔
'اس اخلاقی معیار کا محتاط جائزہ لینا ہو گا جس کے تحت ایسے تجربات کیے جاتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہCIENCE PHOTO LIBRARY
سائنس دانوں نے 20 سال قبل سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں ڈولی نامی بھیڑ کو کلون کر کے تاریخ رقم کی تھی۔
اس کے بعد سے متعدد ممالیہ جانور کلون کیے جا چکے ہیں، جن میں گائے، سور، کتے، بلیاں اور چوہے شامل ہیں۔
تاہم یہ دو چینی بندر پہلے پرائمیٹ (بندروں کی نسل، جس میں انسان بھی شامل ہے) ہیں جنھیں کلون کیا گیا ہے۔







