100 ویمن: خود کاری سے نقصان کس کا ہو گا؟

100 وومن

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنتحقیق کے مطابق خواتین اور لڑکیوں کو مستقبل میں خودکاری کی وجہ سے ملازمتیں کھو دینے کا زیادہ خطرہ ہے

ورچوئل ویٹر اور ویٹرسز، اپنی مدد آپ کے کاؤنٹر اور آرکیسٹرا بجانے والے روبوٹس، آپ انھیں پسند کریں یا ناپسند، خودکاری، مصنوعی انٹیلی جنس اور روبوٹس مستقبل میں ہر جگہ چھانے والے ہیں۔

لیکن کیا یہ ترقی چاہے وہ دفتر میں ہو یا کارخانے میں، مردوں اور خواتین کی زندگیوں پر ایک برابر اثر انداز ہوں گی؟

ایسے میں جب کام کے دوران خودکاری کے فوائد کے بارے میں بحث کی جا رہی ہے، تو آپ اس سے بات سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکتے کہ زیادہ روبوٹس اور مصنوعی انٹیلی جنس کا مطلب سائنس، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اور ریاضی یعنی اسٹیم گروپ میں زیادہ ملازمتوں کے مواقع ہیں۔

امریکہ جو دنیا کے چند بڑے ٹیکنالوجی اداروں کا گھر ہے، وہاں کمپیوٹر سے چلنے والے آلات میں اضافے کی وجہ سے اگلے دس سالوں کے دوران پانچ لاکھ سے زیادہ نئی ملازتوں کے پیدا ہونے کا امکان ہے۔

لیکن خواتین اور لڑکیوں کے لیے امکانات اچھے نہیں لگ رہے۔

اگر صنفی تناسب 2020 تک موجودہ سطح پر ہی رہا تو عالمی اقتصادی فورم کی ایک درجن سے زیادہ ترقی یافتہ معیشتوں پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق خودکاری کی وجہ سے ختم ہونے والی ہر 20 ملازمتوں میں اسٹیم میں کام کرنے والے مردوں کو پانچ نئی جبکہ خواتین کو صرف ایک نئی ملازمت کے مواقع ملیں گے۔

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ شرح کے مطابق خواتین اور لڑکیوں کو مستقبل میں خودکاری کی وجہ سے ملازمتیں کھو دینے کا زیادہ خطرہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خواتین زیادہ تعداد میں کمپیوٹر سائنس دان ہوتیں تو یہ یقینی بنایا جا سکتا تھا کہ نئی ٹیکنالوجی کی نگرانی میں خواتین اور مرد دونوں تخلیقی کام کر سکیں۔

ایمی وان وائنسبرگ ریسپانسیبل روبوٹکس نامی ادارے کے شریک بانی ہیں جو نئی ٹیکنالوجی جیسے کہ روبوٹکس اور آٹومیشن کے اصولوں میں مہارت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'آپ انھیں (لڑکیوں) کو جو ٹیکنالوجی کی طاقت پر یقین رکھتی ہیں رکھ لیں، یہ تو متاثر کن ہے۔'

ڈاکٹر کارل فرے 2013 میں اوکسفرڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مصنف ہیں جو امریکہ میں خودکاری کی وجہ سے خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر فرے کا کہنا ہے کہ شواہد یہ بتاتے ہیں کہ زیادہ مرد ان ملازمتوں پر کام کر رہے ہیں جو خودکاری کی وجہ سے ختم ہو سکتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ 100 سالوں کے دوران ٹیکنالوجی نے خواتین کو مخلتف انداز میں فائدہ پہنچایا ہے۔ مشینوں نے ایسی ملازمتیں تخلیق کی ہیں جن میں یادداشت اور پڑھنے جیسی ادراکی مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو خواتین کے لیے فائدہ مند ہیں اور اسی چیز نے مردوں کی طرف سے بنیادی طور پر کیے گئے جسمانی کاموں کی جگہ لے لی ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کی 2016 میں جاری کی جانے والی رپورٹ 'ملازمتوں کا مستقبل' اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ مردوں اور عورتوں میں ملازمتیں کھو جانے کا بوجھ برابر سے تقسیم ہو گا۔

اور پرائس واٹرہاؤس کوپر یا (پی ڈبلیو سی) نے 2017 میں تجویز دی تھی کہ برطانیہ، امریکہ، جرمنی اور جاپان میں کام کرنے والے مردوں کی زیادہ تعدادخودکاری کا شکار ہونے والی ملازمتوں پر کام کرتے ہیں۔

100 وومن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشیرل سینڈبرگ فیس بک کی چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں اور ٹیکنالوجی میں کام کرنے والی خواتین میں نمایاں ہیں

لیکن انسٹیٹیوٹ آف سپیٹل اکنامک اینالسس (آئی ایس ای اے) کی تحقیق کے ابتدائی نتائج کے مطابق کیلیفورنیا میں خواتین مردوں کے مقابلے میں ایسی ملازمتوں پر دوگنا زیادہ تعداد میں کام کررہی ہیں جو خودکاری کی وجہ سے ختم ہو سکتی ہیں۔

پیشوں کی فہرست میں دفتروں اور انتظامی شعبے کی بہت سی ایسی ملازمتیں ہیں جن کے خود کار ہو جانے کے وسیع امکانات ہیں جہاں مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ تعداد میں کام کرتی ہیں۔

آئی ایس ای اے کے ڈاکٹر جیس چین کہتے ہیں 'سرکاری حکام کو ایک موقف اختیار کرنے اور مستقبل کے لیے تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔'

تبدیلی کی رفتار مختلف شعبوں اور دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف ہو گی۔ غیر متوقع اقتصادی حالات روبوٹکس یا مصنوعی انٹیلی جنس میں سرمایہ کاری کی رفتار بڑھا یا گھٹا سکتے ہیں۔

مستقبل میں ایسی ملازمتیں پیدا کی جائیں گی جو فی الحال موجود نہیں ہیں، اور ایسی ملازمتوں کی طلب بڑھ جائے گی جن پر روبوٹ کام نہیں کرسکیں گے۔

اخلاقی اور سماجی خدشات بھی ہیں۔ کیا ہر ایک کے لیے یہ سماجی لحاظ سے قابل قبول ہوگا کہ روبوٹ ان عمر رسیدہ افراد کا خیال رکھیں جو ان کے والدین کے بھی والدین ہیں؟

line

100 ویمن کیا ہے

بی بی سی 100 ویمن ہر سال پوری دنیا سے 100 بااثر اور متاثرکن خواتین کے نام شائع کرتا ہے۔ 2017 میں ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ آج کی عورت کو درپیش چار بڑے مسائل سے کیسے نمٹا جائے جن میں روایات، خواتین کی ناخواندگی، عوامی مقامات پر ہراسانی اور کھیلوں میں صنفی تعصب شامل ہیں۔

آپ کی مدد سے وہ حقیقی زندگی میں ان مسائل کے حل کے لیے کام کریں گی اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس کام میں اپنے خیالات کے ساتھ شامل ہوں۔ آپ ہمیں فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر بھی پر تلاش کر سکتے ہیں۔Who is on the 100 Women list?

line

ماہرین کا خیال ہے کہ سٹیم کے شعبوں میں کام کرنے والی خواتین اور لڑکیوں کو ملازمت پر رکھنے کا تعلق ملازمتوں کے مواقعوں سے ہے لیکن صنفی فرق کو دور کرنے سے بھی صنفی تعصب کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

کیتھرین ایش کرافٹ نیشنل سینٹر فار ویمن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملازمت دینے کے طریقے سے لے کر انٹرویو کی تکنیک تک صنفی تعصب کو مختلف طریقوں سے ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق نسل اور جنس کے بارے میں انسانی تعصب کی دیگر مثالیں دراصل کمپیوٹر کی فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ بنتی ہیں۔

کیترین ایش کرافٹ کہتی ہیں 'تعصب کا ارتقا اس وقت بھی ہو سکتا ہے جب ٹیکنالوجی کو مشین کے ذریعے سیکھا کر بنایا جائے، کیونکہ وہ اس مواد سے سیکھیں گے جو ہم انھیں مہیا کریں گے، یہ بھی ہمارے تعصب کی عکاسی کرتا ہے۔'

امیدواروں کی چھانٹی

مشین سے سیکھنا مصنوعی ذہانت کی ایک قسم ہے جو کہ انسانوں کی مدد کر سکتا ہے کہ وہ بڑی تعداد میں موجود اعداد و شمار کے پیٹرن کو دیکھ کر فیصلے کریں۔

کام کرنے کے ماحول میں تعصب کے بارے میں یہ خدشہ جڑ پکر چکا ہے کیونکہ کمپنیوں نے مصنوعی انٹیلی جنس کا استعمال کرتے ہوئے ملازمت کے امیدواروں کی چھانٹی کرنا شروع کردی ہے۔

پرسٹن یونیورسٹی میں مصنوعی انٹیلیجنس کی ماہر آئلین کیلسکان نے سائنس میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے سوال کیا کہ 'کیا مصنوعی انٹیلیجنس ایک مرد امیدوار کو نرس کی ملازمت کے لیے کم اہل قرار دے گا؟ یا اس کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ خواتین کے پروگرامنگ کی جاب کے لیے ملازمت کے امکانات کم ہو جائیں گے؟'

لہٰذا، فرق پڑ سکتا ہے اگر زیادہ خواتین اس نئی ٹیکنالوجی کے زیرنگرانی کام کرنے والے پیشوں کام کریں۔

روبوٹکس کی ماہر وان وینس برگ کہتی ہیں 'اگر ہم کچھ نہیں کرتے تو، تعصب بڑھ جائے گا اور حالات بد ترین ہو جائیں گے'۔

line
Reality Check branding
line