100 وومن: کیا زرعی شعبے میں خواتین کی تعداد میں اضافے سے وہ بااختیار ہوئی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہBEHROUZ MEHRI / AFP
روسالینہ بالیسٹیروز کا کہنا ہے کہ 'ہمارے پاس بہت ساری اروی ہے، ہمیں خریداروں کی ضرورت ہے‘۔
وہ کولمبیا کی شمالی ساحلی پٹی پر ایک پہاڑی علاقے میں رہتی ہیں اور کاشت کاری کرتی ہیں۔ اس سال اُن کی فصل کی پیداوار بہت اچھی رہی لیکن طلب کم ہے اور اروی خراب ہو رہی ہے۔
اس کمیونٹی نے مدد کے لیے یو ٹیوب کو استعمال کیا۔
کولمبیا میں وائرل ہونے والی 40 سکینڈ کی ویڈیو میں کاشت کار کہہ رہی ہیں کہ ’ہم سے اروی خریدیں اور اُن کی مدد کریں‘۔
ویڈیو میں ایک خاتون کاشتکار نے اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کرتے ہوئے کہا کہ 'اروی ہڈیوں کے جوڑوں میں سوزش اور قبض میں مفید ہے‘۔
کرغستان کے پسماندہ دیہات میں رہنے والی 32 سالہ ایناگل، پانچ بچوں کی ماں ہیں، انھوں نے بھی مدد مانگی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ 'انھوں نے کاشتکاری اور ڈرپ ایریگیشن سسٹم لگانے میں میری مدد کی۔ وہ اب اپنی زمین پر ٹماٹر، کھیرے اور گاجریں اُگاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFundacion Semana / YouTube
دوسری جانب شمالی لاؤس میں رہنے والی وینگ کا گزر بسر مشرومز کی پیداوار پر ہے۔ اُن کی کمیونٹی میں جنگلی مشرومز کو تلاش کر کے جمع کرنے کی روایت پرانی ہے لیکن وہ مشرومز کی کاشتکاری کے بارے میں کم ہی جانتی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پھر انھوں نے مشرومز کی کاشت کے بارے میں تربیت لی اور اب وہ اسے بازار میں فروخت کرتی ہیں۔
مختلف زمینوں اور ملکوں میں یہ خواتین اُس ابھرتے ہوئے رجحان کا حصہ ہیں جہاں کام کرنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں زرعی شعبے میں اوسطً 43 فیصد افرادی قوت خواتین پر مشتمل ہے اور ماہرین کے خیال میں گذشتہ دو دہائیوں میں زرعی شعبے میں خواتین کے کام کرنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بات کے ’واضح شواہد‘ موجود ہیں کہ زراعت میں خواتین کا کردار بڑھا ہے کیونکہ خواتین کے اس شعبے میں آنے کے بعد مرد زرعی شعبے میں اب نوکریاں نہیں کر رہے ہیں۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اقتصادی طور پر سرگرم خواتین کی ایک چوتھائی تعداد زرعی شعبے سے منسلک ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFAO / Oscar Castellanos
گو کہ ان اعداد و شمار میں علاقائی طور پر فرق پایا جاتا ہے۔ ملازمت فراہم کرنے میں زرعی شعبے کا اہم کردار ہے لیکن امیر اور غریب ممالک میں یہ شرح مختلف ہے کیونکہ امیر ممالک میں مرد و خواتین صنعتوں اور خدمات کے شعبوں میں ملازمت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
پھر سوال یہ ہے کہ زرعی شعبے میں خواتین کا کردار کہاں بڑھا ہے؟
یہ رجحان سب سے زیادہ شمالی افریقہ میں دیکھنے کو ملا جہاں زراعت میں خواتین کا کردار 30 فیصد سے بڑھ کر 43 فیصد ہو گیا ہے۔ ایسے ہی رجحانات مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا، لاطینی امریکہ میں دیکھنے کو ملے۔
نیم صحرائی افریقی علاقوں میں زرعی شعبے میں خواتین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔ تین دہائیاں قبل یہاں زراعت میں خواتین مزدوروں کی تعداد میں 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے خیال میں یہاں پہلے سے ہی خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
مرد تارکینِ وطن کا بوجھ

،تصویر کا ذریعہUN Women / Meriza Emilbekova / JPRWEE
کاشتکاری میں خواتین کا بڑھتا ہوا کردار مثبت اقدام ہے۔ کچھ خواتین خود اپنی زمینوں پر کاشتکاری کرتی ہیں تو کچھ کسی اور کی زمین پر ملازمت کرتی ہے۔
گو کہ خواتین کے اس بڑھتے ہوئے کردار کا مطلب خواتین کا با اختیار ہونا ہر گز نہیں ہے بلکہ اس کی اہم وجہ مردوں کا ہجرت کر کے دوسری جگہ جانا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں بہتر مواقعوں کی تلاش کے لیے شہری علاقوں کا رخ کرنے کا رجحان زیادہ ہے۔ اس لیے جو خواتین پیچھے رہ جاتی ہیں انھیں اکثر زمینوں پر زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔
زرعی شعبے کی افرادی قوت میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے لیکن اُن کی ملازمت کی نوعیت اکثر غیر واضح ہوتی ہے۔ خواتین اکثر اوقات جز وقتی ملازمت کرتی ہیں۔
عالمی بینک کے تجزیے کے مطابق تنخواہ دار خواتین کی ملازمتوں میں بھی زیادہ تر نوکریاں مزدوری یا کم ہنر مندی کی ہوتی ہیں۔ انتظامی طور پر موجود محدود آسامیوں پر زیادہ تر مرد کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر خواتین کاشت کاری کرتی ہیں تو مارکیٹنگ اور رقم وصولی کی ذمہ داری مردوں کی ہی ہوتی ہے۔
تنخواہوں میں فرق

،تصویر کا ذریعہKARIM SAHIB / AFP
دستیاب شواہد کے مطابق اکثر خواتین کی تنخواہ مردوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صنف کے لحاظ سے آمدن میں فرق ہے اور 14 ممالک میں خواتین کی اوسطً تنخواہیں مردوں کے مقابلے میں 28 فیصد کم ہیں۔
ماہرین کے خیال میں 'پیداوار کا فرق' ہے اور ترقی پذیر ملکوں میں خواتین کاشتکاروں کی پیداوار اوسط پیدوار سے 20 سے 30 فیصد کم ہے اور کم پیداوار کا الزام خانگی امور کی ذمہ داری ادا کرنے پر عائد کیا جاتا ہے۔
ایف اے او کا کہنا ہے کہ کئی معاشروں میں گھر بار سنھبالنا اور بچوں کی دیکھ بہال کی ذمہ دار خواتین ہوتی ہیں اور دیہی علاقوں میں پانی لانا، ایندھن جمع کرنے کا کام بھی عورتیں کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے آمدن کمانے والے ذرائع میں اُن کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
ایف اے او کی پروگرام اسسٹنٹ ماریہ لوئیس کے مطابق 'خواتین کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ روایات کو چیلنج کریں۔'

،تصویر کا ذریعہFETHI BELAID/ AFP/ Getty Images
خواتین بحیثیت مددگار
زراعت میں خواتین کی ملازمتیں بڑھنے سے کافی فائدہ ہوا ہے۔
28 سالہ سانیہان تھیرا چار بچوں کی ماں ہیں، اُن کا تعلق مالی کے وسطی دیہات سے ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'آج میں کم کاروبار والے سیزن کے بارے میں زیادہ پریشان نہیں ہوں۔ اب ہم نئی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جو ہمیں زیادہ مضبوط بناتی ہیں‘۔
وہ اُن خواتین میں شامل ہیں جنھیں ایف اے او کی جانب سے ’خصوصی زرعی کِٹس' ملی ہیں جس میں مٹر، باجرہ اور اعلیٰ معیار کی سبزیوں اور پھلوں کے بیج شامل ہیں۔
اس نئی تکنیک کی مدد سے مالی کی خواتین اُن اوقات میں آمدن کما سکتی ہیں جب اُن کے شوہر ملازمت کے لیے علاقے میں موجود نہیں ہوں گے۔
تھیررا نے کہا کہ 'آئندہ آنے والے مہینوں کے لیے ہمارے پاس اضافی خوراک موجود ہے‘۔
دنیا بھر میں کئی تنظمیں اور این جی اوز ایسی تکنیکیں متعارف کروا رہی ہیں جس میں محنت کم کی جائے اور خواتین کو قرضے فراہم کیے جائیں۔ یہ دونوں عناصر چیزوں کو مثبت طور پر بدل کر رکھ سکتے ہیں۔
خواتین کو سماجی طور پر با اختیار بنانے کے لیے زمین کے ملکیت بہت اہم ہے اور ترقی پذیر ممالک میں خواتین اور مردوں میں جائیداد کی ملکیت کے قوانین مختلف ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFAO / Nadege Boro
شواہد کے مطابق کوئی بھی شخص زمین کی ملکیت اور اُس پر کاشتکاری سے بہت با اختیار ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پالیسی میں تبدیلی تو آغاز ہے لیکن زیادہ توجہ سماجی روایات پر دینا ہو گی جو خواتین کو وراثت میں حق دینے کے خلاف ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے میں زیادہ خواتین کے کام کرنے سے کسی حد تک معاشرے میں صنفی عدم توازن تو کم ہو گا لیکن اس کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔









