آئندہ دہائیوں میں آسٹریلیا میں درجۂ حرارت 50 ڈگری سے بڑھنے کا امکان

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES
ایک مطالعے کے مطابق آسٹریلیا کے دو بڑے شہروں میں آنے والی چند دہائیوں میں درجۂ حرارت 50 سینٹی گریڈ کے پار ہوگا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر پیرس معاہدے کی پاسداری کی گئی اور کاربن کے اخراج کی حد صنعتی دور سے قبل کی سطح سے 2 سینٹی گریڈ زیادہ تک ہی روک رکھی گئی تب بھی سڈنی اور میلبرن جیسے شہروں میں گرمیاں سخت ہوں گی۔
ان کا کہنا ہے کہ عالمی حدّت کو اگر اس حد سے کم رکھا گیا تو 50 ڈگری سینٹی گریڈ پار کرنے کا امکان کم ہو جائے گا۔
ملک کے شعبۂ موسمیات کے مطابق سڈنی کا اب تک سب سے زیادہ درجۂ حرارت سنہ 2013 میں ریکارڈ کیا گیا تھا جو کہ 45 اعشاریہ 8 سینٹی گریڈ تھا جبکہ میلبرن کا درجۂ حرارت سنہ 2009 میں 46 اعشاریہ 4 سینٹی گریڈ پہنچ گیا تھا۔
آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی سے منسلک اس تحقیق کے سربراہ محقق ڈاکٹر سوفی لوئس نے کہا کہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ گرم سال سنہ 2015 تھا جو کہ سنہ 2025 تک عالمی سطح پر اوسط گرم سال ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس تحقیق میں میلبرن یونیورسٹی کے محقق بھی شامل ہیں اور اس کی اشاعت جیوفیزیکل ریسرچ لیٹرز نامی جریدے میں ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر لوئس کا کہنا ہے کہ اگر عالمی حدت دو سنیٹی گریڈ تک رہی تو آسٹریلیا کے اہم شہروں میں سنہ 2040 اور 2050 کے درمیان درجۂ حرارت 50 سینٹی گریڈ ہوگا۔
ملک کے آزاد ادارے کلائمیٹ کونسل کے مطابق حالیہ گرمی نے ملک میں موسم کے 205 ریکارڈ توڑے جبکہ ملک میں موسم سرما پہلے کے مقابلے میں گرم رہا۔
گذشتہ ماہ آسٹریلیا میں سنہ 18-1917 کے لیے خطرناک جنگل کی آگ کے لیے تیار رہنے کا انتباہ جاری کیا گيا ہے۔









