فلیمنگو کے ایک پاؤں پر کھڑا ہونے کی وجہ دراصل توانائی بچانا ہے

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں کو یہ پتہ چلا ہے کہ فلیمنگو یا لال لمٹنگو دو پاؤں کے بجائے جب ایک پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں تو وہ کم توانائی خرچ کرتے ہیں۔
ایک پاؤں پر کھڑے ہونا ان کا جانا پہچانا طریقہ ہے لیکن اس پرندے کا ایک پاؤں پر کھڑے رہنا ایک زمانے سے باعث حیرت رہا ہے۔
لیکن امریکہ کی ایک ٹیم نے اب یہ دریافت کر لیا ہے کہ جب فلیمنگو ایک پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں تو وہ کسی متحرک عضلات کا استعمال نہیں کر رہے ہوتے ہیں یعنی اس طرح وہ اپنی توانائی بچا رہے ہوتے ہیں۔
ایک پاؤں پر کھڑے رہنے کی حالت میں ان میں سست میکانزم کار فرما ہوتا ہے اور انھیں اونگھتے ہوئے بھی کھڑا رہنے میں مدد دیتا ہے۔
پہلے محققین کا خیال تھا کہ ایک پاؤں پر کھڑے رہنے سے انھیں دوسرے پاؤں کو آرام دینے کا موقع مل جاتا ہوگا کیونکہ وہ باری باری دونوں پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں۔
دوسری ٹیم نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ اس طرح انھیں اپنے جسم کے درجۂ حرارت کو درست رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
اب اٹلانٹا میں قائم جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کے پروفیسر ینگ ہوئی چانگ اور اٹلانٹا ایموری یونیورسٹی کی لینا ایچ ٹنگ نے فلیمنگو کی اس مؤثر چالاکی کے پس پشت میکانکی راز کو جان لیا ہے۔
تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے زندہ اور مردہ دونوں قسم کے پرندوں کےساتھ کئی تجربات کیے اور انھوں نے حیرت انگیز طور پر یہ دریافت کیا کہ مردہ فلیمنگو کو کسی سہارے کے بغیر بھی ایک پاؤں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اس انوکھی چیز کو 'مجہول قوت ثقل پر مبنی میکانزم' قرار دیا۔
پروفیسر چانگ نے بی بی سی کو بتایا: 'اگر آپ اس پرندے کو جب وہ ایک پاؤں پر کھڑے ہوں اسے سامنے سے دیکھیں تو آپ پائیں گے کہ ان کے پاؤں بالکل ان کے جسم کے کے نیچے ہیں یعنی اندر کو جھکے ہوئے ہیں۔ اور یہی وہ ہیت ہے جسے وہ کھڑے رہنے کی میکانزم کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔'
انھوں نے زندہ فلیمنگو پر بھی تجربات کیے اور یہ پایا کہ جب وہ ایک پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں تو وہ بہ مشکل ہی حرکت کرتے ہیں اور اگر وہ حرکت کرتے ہیں تو ان کے بدن ایک طرف کو جھول جاتے ہیں۔










